سوال
جناب گزارش یہ ہے کہ میں نے اپنی زوجہ کو انکی بدکرداری کی وجہ سے انکو میں نے تین طلاق دے دی طلاق نامہ کی کاپی سوال کے ساتھ موجود ہے ، اب مسئلہ یہ ہے کہ طلاق کے باوجود محترمہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے گھر چھوڑنے پر راضی نہیں ہے، آپ شریعت کی روشنی میں اسکا حل بتائیں، ابھی عدت میں ہے اور اگر عدت کے بعد بھی اگر گھر سے نہ جائے تو اس کے لیے شرعی حکم ہے۔
سائل: محمد شاکر رفیق خان
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
طلاق سے قبل عورت جس گھر میں رہتی ہو اسی گھر میں عدت گزارنا لازم ہے ، اور جب تک عدت میں ہے شوہر پر اس عورت کا خرچہ لازم ہے ۔
تنویر الابصار مع الدر المختار باب العدۃ مطلب فی مسکن الزوج جلد 3ص 599 میں ہے(وَ) تَجِبُ (لِمُطَلَّقَةِ الرَّجْعِيِّ وَالْبَائِنِ، وَالْفُرْقَةُ بِلَا مَعْصِيَةٍ وَتَفْرِيقٍ بِعَدَمِ كَفَاءَةِ النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى وَالْكُسْوَةُ)ترجمہ: اور وہ عورت جس کو طلاق رجعی یا بائن دی گئی ہو یا اس عورت سے مرد کی فرقت (جدائی)ہوجائے یا کفو نہ ہونے کی وجہ سے علیحدگی ہوجائے تو اسکا خرچہ ،رہائش اور کپڑے مرد کے ذمے واجب ہیں۔
علامہ شامی اسکے تحت لکھتے ہیں:قَالَ فِي الْبَحْرِ: فَالْحَاصِلُ أَنَّ الْفُرْقَةَ إمَّا مِنْ قِبَلِهِ أَوْ مِنْ قِبَلِهَا، فَلَوْ مِنْ قِبَلِهِ فَلَهَا النَّفَقَةُ مُطْلَقًا سَوَاءٌ كَانَتْ بِمَعْصِيَةٍ أَوْ لَا طَلَاقًا أَوْ فَسْخًا،ترجمہ:بحر میں ( علامہ ابن نجیم ) فرماتے ہیں کہ خلاصہ یہ ہے کہ فرقت(علیحد گی یا عورت کی طرف سے ہوگی یا مرد کی طرف سے،اگر مرد کی جانب سے فرقت ہو تو اس کے لیے نفقہ (خرچہ وغیرہ) مرد پر ہوگا۔ خواہ فرقت طلاق سے ہو یا فسخ سے ۔
یہاں چونکہ تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں لہذا جب عدت گزر جائے تو اب مرد پر عورت کا خرچہ،رہائش وغیرہ کچھ لازم نہیں ہے۔ عدت مکمل ہونے کے بعد عورت اپنا انتظام خود کرے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی