سوال
میرے شوہر کا 2019-7-21 کو انتقال ہوا ہےمیں کرائے کے مکان میں رہتی ہوں۔ میری تین بیٹیاں ہیں ، جن میں سے ایک کالج جاتی ہے ،جبکہ دو اسکول جاتی ہیں، انکی عمر بالترتیب 18،15 اور 12 ہے۔ میرا کوئی بیٹا نہیں ہے،اور نہ ہی کوئی رشتہ دار ایسا ہے جو بیٹیوں کو چھوڑ کر آسکے اس کے لئے مجھے ہی جانا پڑتا ہے، کیا میں اپنی بچیوں کو چھوڑنے اور گھر کا سودا سامان لینے جاسکتی ہوں یا نہیں؟
سائل:بیوی سید تراب علی،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جس عورت کا شوہر انتقال کرجائے اس پر اسی گھر میں عدت گزارنا لازم ہے ،جس گھر میں رہتی ہو،اس دوران اس عورت بلا ضرورت باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ چناچہ مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں:موت یا فرقت کے وقت جس مکان میں عورت کی سکونت تھی اُسی مکان میں عدت پوری کرے اور یہ جو کہا گیاہے کہ گھر سے باہر نہیں جاسکتی اس سے مراد یہی گھر ہے اور اس گھر کو چھوڑکر دوسرے مکان میں بھی سکونت نہیں کرسکتی مگر بضرورت، اور ضرورت وہ ہے کہ اُس کے بغیر چارہ نہ ہو۔(بہار شریعت جلد دوم حصہ ہشتم ص245 مکتبۃ المدینہ ملخصآ)
مذکورہ صورت میں بھی بچیوں کو اسکول ،کالج چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ بچیاں اتنی بڑی ہیں کہ وہ خود جاسکتی ہیں ، اس طرح عدت کے دوران سامان وغیرہ بھی بچیوں سے منگوالیں ۔ جب تک عدت ہے اس وقت تک احتیاط لازم ہے۔ البتہ اگر کوئی بہت ہی زیادہ ضرورت پیش آجائے تو اس وقت گھر سے باہر جاسکتی ہیں اسکی گنجائش موجود ہے۔
تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے:وَتَعْتَدَّانِ) أَيْ مُعْتَدَّةُ طَلَاقٍ وَمَوْتٍ (فِي بَيْتٍ وَجَبَتْ فِيهِ) وَلَا يَخْرُجَانِ مِنْهُ (إلَّا أَنْ تُخْرَجَ أَوْ يَتَهَدَّمَ الْمَنْزِلُ، أَوْ تَخَافُ) انْهِدَامَهُ، وَنَحْوَ ذَلِكَ مِنْ الضَّرُورَاتِ فَتَخْرُجُ لِأَقْرَبِ مَوْضِعٍ إلَيْهِ،ترجمہ: موت کی یا طلاق کی عدت گزارنے والی اسی گھر میں عدت گزاریں جس میں گزارنا واجب ہے اور اس گھر سے نہیں نکل سکتی الا یہ کہ اس کو اس گھر سے نکال دیا جائے ، یا گھر گرجائے اور گرنے کا خوف ہو ، اس طرح کی دیگر ضروریات کی وجہ سے نکل سکتی ہیں پس قریبی جگہ کی طرف جا سکتی ہیں ۔( تنویرالابصار مع الدر المختار،کتاب الطلاق ،فصل فی الحداد ،جلد 3ص 536)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 ذوالقعدہ1440 ھ/25 جولائی 2019 ء