zakat ke saal mein kiraya ka hukm
سوال
اگر ایک شخص کا زکوۃ کا سال 15 رمضان المبارک کو مکمل ہوتا ہے، دیگر اموال کے ساتھ اسکے کرائے کے مکانات بھی ہیں ، جس دن زکوۃ کاسال مکمل ہوگا اس دن جاری مہینے کے پندرہ دن بھی گزر چکے ہیں، سوال یہ ہے کہ یہ آدھے مہینے کا کرایہ زکوۃ کے حساب میں شمار کیا جائے گا یا نہیں؟
سائل: عبداللہ :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں ماہِ جاری کے گزشتہ 15 ایام کا کرایہ مالکِ مکان کے دیون میں شامل ہو کر زکوۃ میں محسوب نہ ہوگا۔
اسکی تفصیل یہ ہے کہ غیر تجارتی مکانات کا کرایہ دین کی تیسری قسم دینِ ضعیف میں شامل ہوتا ہے اور دینِ ضعیف کا حکم یہ ہے کہ جب وصول ہوگا اسی وقت زکوۃ لازم ہوگی اس سے قبل جو بھی عرصہ گزرجائے اس پر زکوۃ لازم نہیں ہوتی ۔ لہذا جس دن زکوۃ کا سال مکمل ہوا اس دن اس ماہِ جاری کے 15 دن گزر گئے تو ان 15 ایام کا کرایہ ، کرایہ دار کے ذمے دین ضرور ہے مگر دینِ ضعیف کے طور پر۔ اور یہ دین اسے اگلے پندرہ دن بعد ملے گا جبکہ سال آج 15 رمضان کومکمل ہورہا ہے، لہذا اس دین کو زکوۃ میں محسوب نہیں کیا جائے گا۔
دينِ ضعيف کی بابت علامہ حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:وهو (بدل غيرمال) كمهروديةوبدلكتابةوخلع۔ترجمہ:اور یہ مال کے علاوہ کسی اور چیز کا بدل جیسے مہر ،دیت ، بدلِ کتابت ا وربدل ِ خلع۔
اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے دین ضعیف میں ایک اور قید کا اضافہ فرمایا ہے ،لکھتے ہیں:اولی مالیس بدل مال لیشمل مالیس بدلا اصلا کالدین الموصی۔ترجمہ:اولی یہ ہےجودینکسی مال کا بدل نہ اس لیے کہ یہ اس دین کو بھی شامل ہو جائے گا جو اصلا بدل نہیں بنتاجیسے دین وصیت ۔(جلد الممتار جلد 04 ،صفحہ 16،دار الفقیہ )
دین ضعیف میں خلاصہ یہ ہوا کہ:
وہ اصلا مال کا بدل نہ ہو جیسے دین ِوصیت اگر ہو تو مال کا نہ ہو جیسے مہر ،دیت ، بدلِ کتابت ا وربدل ِ خلع، یونہی وہ رقم جومنافع بیچنےپر ملتی ہے ہووہ اگر کسی کے ذمہ ہو تو وہ بھی دین ضعیف میں شمار ہو گی جیسے غیر تجارتی مکان ،دکان وغیرہا کو کرائےپر دینا۔
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں : یا مکان زمین کہ بہ نیّت تجارت نہ خریدی تھی اُن کا کرایہ چڑھا قسم سوم کے دین پر۔(فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 162 رضا فاؤنڈیشن لاہور )
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: امام اہلسنت اماماحمد رضا خان علیہ الرحمہ دین ضعیف کے حکم کی بابت لکھتے ہیں: جب تک دین رہے اصلاًزکوٰۃ واجب نہیں ہوتی اگر چہ دس برس گزر جائیں ،ہاں جس دن سے اس کے قبضہ میں آئے گا شمارِزکوٰۃ میں محسو ب ہوگا یعنی اس کے سوا اور کوئی نصاب زکوٰۃ اسی کی جنس سے اس کے پاس موجود تھا اس پر سال چل رہا تھا تو جو وصول ہُوا اس میں ملا لیا جائے گا اور اسی کے سال تمام پر کل کی زکوٰۃ لازم ہوگی ،اوراگر ایسا نصاب نہ تھا تو جس دن سے وصول ہُوا اگر بقدرِنصاب ہے اُسی وقت سے سال شروع ہوا ورنہ کچھ نہیں ۔ (فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 160رضا فاؤنڈیشن لاہور )
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاريخ اجراء: رمضان المبارک 1447ھ/ 02 مارچ 2026 ء