warasat ki taqseem do biwi nau bachay
سوال
میرے دادا کا پگڑی کا مکان تھا جو کہ انکی وفات کے بعد میرے والد نے اپنے پاس رکھ لیا اور اس وقت کی موجودہ ویلیو کے حساب سے اپنے بہن بھائیوں کو حصہ دے دیا۔پھر 2016 میں ، میرے والد صاحب کا بھی انتقال ہوگیا تو یہ فلیٹ میں نے رکھ لیا اور یہ نیت تھی کہ جیسے ہی مالی وسعت میسر ہوگی بہن بھائیوں کو حصہ دے دونگاحتی کہ اب 28 جولائی 2023 کو میری والدہ بھی وفات پاگئیں۔ اب میرے درج ذیل سوالات ہیں:
1: اس فلیٹ کو میں خود رکھنا چاہتا ہوں اس سے بہن بھائیوں کو کس طرح حصہ دوں؟نیزاس مکان میں کچھ فرنیچر اور دیگر سازو سامان والد صاحب کا خرید کیا ہوا ہے اس میں ورثاء کا حق کیسے نکلے گا؟نیز میرے پاس اس وقت بھی کیش نہیں ہے تو ورثاء میں وراثت کی طرح تقسیم کی جائے گی؟ شریعت میں اسکا کیا حل ہے۔
2: میرے والد(عبدالمجید) صاحب کی دو بیویاں(حمیدہ،حلیمہ) تھی انکی پہلی بیوی (حمیدہ )کا انتقال ان سے پہلے ہی ہوگیا ان سے والد صاحب کے تین بیٹے(جعفر،جاوید ، حسین)اور تین بیٹیاں (رشیدہ، رابعہ، عدیلہ) ہیں۔ جبکہ دوسری بیوی(حلیمہ ) جوکہ ہماری والدہ بھی ہیں انکا انتقال اب ہوا ہے ان کے ورثاء میں ہم دو بھائی(بلال، توصیف) اور ایک بہن (ارم) ہیں ۔
سائل: محمد توصیف: کھارادر، کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ہمارے نزدیک پگڑی کے مکان و دکان کی بیع جائز ہے ، لہذا جس وقت آپ کے والد نے اس مکان سے دیگر ورثاء کو حصہ دے دیا تو اب وہ مکمل طور پراس مکان کے مالک ہوگئے لہذا بعد از وصال یہ مکان انکے ورثاء کے مابین انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا، یعنی مکان کی پگڑی کی مارکیٹ ویلیو وراثت میں تقسیم ہوگی۔
اب اس مکان کی اور دیگر تمام سامان وغیرہ جو کچھ والد کی ملکیت ہے سب کی تقسیم از روئے شرع لازم ہے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ تمام اشیاء یا تو بیچ کر یا انکی مارکیٹ ویلیو لگواکر تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق جلد تقسیم کی جائیں کہ تقسیم وراثت میں بلاوجہِ شرعی تاخیر کرنا مناسب نہیں ۔ البتہ اگر تمام ورثاء اس بات پر رضامندہوں کہ کل مالِ وراثت کوئی ایک وارث رکھ لے اور اُنہیں ،اُن کا حصہ گاہے بگاہے یا بوقتِ استطاعت دے دے تو حرج نہیں۔ لیکن تقاضے کے وقت اسکی تقسیم فوراً لازم ہے خواہ اسے بیچ کر کی جائے یا کسی سے قرض لے کر دیگر ورثاء کا حصہ دے دیا جائے۔
تقسیم کی تفصیل درج ذیل ہے: کل حصے: 80
ہر ایک کے حصے کی تفصیل:
جعفر:10، جاوید :10، حسین:10، بلال:14، توصیف:14، رشیدہ:5، رابعہ:5، عدیلہ:5، ارم:7
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: بیویوںکےحصے بارے میں ارشاد ہے ۔قال اللہ تعالٰی:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
فائدہ:رقم تقسیم کرنے کاحسابی طریقہ: پگڑی کی اور دیگر تمام ساز و سامان کی مارکیٹ ویلیو لگواکر فتوی میں بیان کردہ کل حصوں کو (80) پر تقسیم کریں جو جواب آئے اس جواب کو محفوظ کرلیں اور پھر اس محفوظ جواب کو ہر وارث کے حصہ سے ضرب کریں جو جواب آئے گا وہ ہر وارث کی رقم ہوگی جو بطورِ وراثت اسے اپنے مورث سے مل رہی ہے۔پھر آخر میں تمام ورثاء کی رقم کو ملاکر چیک کرلیں اگر وہ کل مجموعہ کل جائیداد کی رقم کے برابر ہے تو تقسیم درست ہے ورنہ نہیں۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 محرم الحرام 1445ھ/ 09اگست 2023 ء