warasat ka masla char betay aur aik beti
سوال
ہمارے دادا کی وفات کے وقت انکے 4 بیٹے (بشیر ،انور، شبیر، ابن علی)اور ایک بیٹی(شمیم) حیات تھی،دادی کا انتقال پہلے ہوچکا ۔دادا کے انتقال کے بعد وراثتی مکان سے انور علی نے شبیر کو انکا اس وقت کے اعتبار سے مکمل حصہ دے دیاتھا۔ دادا کے بعد ایک بیٹے بشیر احمد کا انتقال ہوگیا انکے ورثاء میں ایک بیوی(رخسانہ) ایک بیٹا (غوث)اورایک بیٹی(غوثیہ) ہے۔ اسکے بعد ایک اور بیٹے ابن علی کا انتقال ہوگیا انکے ورثاء میں ایک بیوی (زبیدہ) 5بیٹیاں(انعم، شمائلہ، فوزیہ، ندا، ماریہ) 3 بیٹے(فضل، ریحان، عرفان) حیات ہیں ۔ جبکہ ایک بیٹی کا انتقال ابن علی سے پہلے ہوگیا تھا۔ گھر کی قیمت 50 لاکھ ہے شرعی اعتبار سے تما م ورثاء کے حصے کی مکمل تفصیل بیان فرمادیں۔
سائل: غوث احمد : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
یہاں دو امر ہیں: ہر ایک کا حکم بالتفصیل درج ذیل ہے:
1:انور علی کا شبیر کو اپنی طرف سے حصہ دینے کا حکم:
اگر کوئی ایک وارث کسی دوسرے کو اپنی جانب سے اسکے حصہ کی مقدار کے مطابق رقم دے دے تو ضمناً بیع ثابت ہونے کی وجہ سے پہلا وارث دوسرے کے حصے کا مالک ہوجاتا ہےنیز حصہ لینے کے بعد مال ِوراثت سے اس دوسرے وارث کا کوئی تعلق نہیں ہوگا ،یعنی جب کچھ عرصہ بعد دیگر وارثوں کے مابین وراثت تقسیم ہو گی تو اس کو کچھ بھی نہیں ملے گا ۔لہذا حصہ دینے سے پہلے اسے آگاہ کردینا چاہیے تاکہ بعد میں کوئی پریشانی نہ ہو ،کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مکان کی قیمت بڑھتی رہتی ہے ،یوں بعد میں جب دیگروں وارثوں میں میراث تقسیم ہوتی ہے تو رقم بھی یقینا ً بڑھ جاتی ہے ،اور پھر وہ وارث(جو اپنا حصہ لے کر الگ ہو چکا تھا)مزید رقم طلب کرتا ہے۔ حالانکہ جس وارث نے دوسرے وارث کو اپنی جانب سے رقم دی ہے وہ در اصل اس وارث کے حصے کا مالک ہوجاتا ہے لہذا اب جب تقسیم ہوگی اس وارث کے حصہ کی رقم اُس وارث کو دی جائے گی جس نے اپنی جانب سے رقم بطورِ حصہ دوسرے وارث کو دی تھی اور مابقی رقم تمام ورثاء میں(بشمول اس وارث کے جس نے رقم دی) انکے شرعی حصص کے اعتبار سے تقسیم ہوگی۔
2: وراثت کی تقسیم :
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت کوکو 1188 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، جس میں سے انور علی کو 528 (انکے اپنے اور شبیر کے حصے دونوں کے ملاکر ) حصے ملیں گے ، ذیل میں ہر وارث کے حصہ کی تفصیل درج ذیل ہے:
کل حصے: 1188
ہر ایک کا حصہ:
انور:528 ، شمیم:132 ، رخسانہ:33 ، غوثیہ:77 غوث:154 ، زبیدہ:33 ، انعم:21، شمائلہ:21، فوزیہ:21، ندا:21، ماریہ:21 فضل:42 ، ریحان:42، عرفان:42
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: بیویوںکےحصے بارے میں ارشاد ہے ۔قال اللہ تعالٰی :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ :ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:24 شعبان المعظم 1445ھ/ 04 مارچ 2024 ء