taqseem e warasat aur warasa ki janib se ki jane wali tameerat ka hukam
سوال
ہمارے والد ین کا انتقال ہوگیا ہے ،ہم تین بھائی ہیں بہن کوئی نہیں ہے،والد صاحب کا ایک مکان تھا جو کہ انہوں نے 3 سے 4 لاکھ کا لیا تھا اب اسکی ویلیو 1 کروڑ 20 لاکھ ہے۔والد صاحب کے انتقال کے بعد اس گھر میں ہم نے بجلی گیس ،پانی ، کلر اور کچھ تعمیرات کروائی۔بڑے بھائی کی فیملی گراؤنڈ فلور پر رہتی ہے ۔ انکے بعد والے غیر شادی شدہ ہیں جوکہ فرسٹ فلور پر میرے برابر والے کمرے میں رہتے ہیں ،فرسٹ فلور کے باقی حصہ پر میری فیملی رہتی ہے۔ بڑے بھائی کا کہنا ہے کہ میں نے گراؤنڈ فلور پر پیسہ لگایا ہے اور تم نے فرسٹ پر اس حساب سے ہمارا حق وراثت میں زیادہ ہے ۔ انکی یہ بات درست ہے یا نہیں؟ نیز ہم نے جو مشترکہ یوٹیلیٹی بلز اداکئے انکا کیا حکم ہے؟
سائل: اختروہاب:کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جن وارثوں نے وراثت کے مکان کی تعمیرات میں رقم لگائی تو اس کی دو صورتیں ہیں اگر دیگر ورثاء کی اجازت سے لگوائی تو اتنی رقم انہیں واپس کی جائے گی جتنی رقم انہوں نے لگائی، بصورت دیگر اسے وہ رقم واپس نہیں کی جائے گی بلکہ وہ اسکی طرف سے تبرع و احسان ہوگا۔
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے: وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَجْنَبِيٌّ فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ حَتَّى لَا يَجُوزَ لَهُ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِيهِ إلَّا بِإِذْنِهِ۔ ترجمہ:ان میں سے ہر ایک دوسرے کے حصہ میں اجنبی کی طرح ہے حتٰی کی ایک کو دوسرے کے حصے میں اسکی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق کتاب الشرکۃ جلد 3 ص 313)
سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباہ۔ترجمہ: العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے گھر بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ گھر اس بانی کا ہوگا ۔الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ میں ہے۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ ، جلد 19 ص 224 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:أَنْفَقَ بِلَا إذْنِ الْآخَرِ وَلَا أَمْرَ قَاضٍ، فَهُوَ مُتَبَرِّعٌ كَمَرَمَّةِ دَارٍ مُشْتَرَكَةٍ.ترجمہ:اگر کسی شریک نے دوسرے کی اجازت کے بغیر ، یونہی قاضی کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ کیا تو وہ متبرع ہے ،جیسا کہ مشترکہ مکان میں خرچ کرنا۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب المزارعۃ جلد 6 ص 284)
یونہی فتاویٰ رضویہ میں ہے:فان من انفق فی امر غیرہ بغیر امرہ ولامضطرا الیہ فانہ یعد متبرعا فلایرجع بشئ۔ ترجمہ: کیونکہ جس نےغیر کےمعاملہ میں اس کےحکم اورکسی مجبوری کےبغیرخرچ کیاتووہ خرچہ بطورنیکی ہوگالہذااس خرچہ کی وصولی کےلئےرجوع نہ کرسکےگا۔(فتاوی رضویہ :ج18،ص178،رضافاؤنڈیشن لاہور)۔
اور یوٹیلیٹی بلز کی مد میں ادا کردہ رقم مکان کی کل قیمت سے منہا نہ کی جائے گی کیونکہ وہ بلز آپ کی ہی استعمال کردہ سہولیات کا عوض ہیں، لہذا وہ واپس لینے کا حق آپکو نہیں ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگردیگر ورثاء کی اجازت سے تعمیرات کی تو مکان کی کل قیمت سے اتنی رقم منہا کرلیں جتنی تعمیرات پر خرچ کی اسکے بعد جو کچھ بچے وہ تینوں بھائیوں میں برابر تقسیم ہوگی۔
مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ۔ ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:25 صفر المظفر 1442 ھ/13 اکتوبر2020 ء