warasat ki taqseem ka hukam aur wasiyat ka nafaz
سوال
اگر کسی شخص کا انتقال ہوجائے اور اسکے ترکہ میں ذاتی مکان بینک بیلنس کے علاوہ متفرق اشیاء فرج ، اے سی وغیرہ گھریلو سامان ، گاڑی وغیرہ ہو تو اسکی تقسیم کیسے ہوگی۔نیز اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس وصیت پر عمل کرنا ورثاء کے لئے کتنا ضروری ہے اور عمل نہ کرنے کی صورت میں کیا کیا وعیدیں بیان کی گئیں ہیں۔
سائل: ندیم: کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مرحوم کے ترکہ میں جو کچھ مالِ وراثت ہے، موجودہ ویلیو کے اعتبار سے تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔ مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ۔ ترجمہ:شرکۃ الملک میں تمام شرکاء کے مابین مال مشترک کی تقسیم ان کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )
کسی بھی شخص کی وفات کے بعد اسکی جائز وصیت کو نافذ کرنا تمام ورثاء پر واجب ہے۔ وصیت نافذ نہ کرنے کی صورت میں ورثاء گناہ ہونگے اور آخرت میں مستحق ِعقاب ہونگے،کما قال اللہ تعالٰی : فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ مَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ، فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۔ ترجمہ کنز الایمان: تو جو وصیت کو سن سنا کر بدل دے اس کا گناہ انہیں بدلنے والوں پر ہے بےشک اللہ سنتا جانتا ہے۔(البقرۃ آیت نمبر 181)
اس آیت کے تحت صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی فرماتے ہیں: خواہ وصی ہو یا ولی شاہد اور وہ تبدیل کتابت میں کرے یا تقسیم میں یا ادائے شہادت میں اگر وہ وصیت موافق شرع ہے تو بدلنے والا گنہگار ہے۔
(زیرِ آیت البقرہ : 181، ف 321)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 19 ربیع الاول 1443 ھ/26 اکتوبر2021 ء