وراثت کے بارے میں چند سوالات

    warasat ke bare me chand sawalat

    تاریخ: 19 مئی، 2026
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 1380

    سوال

    اگر ماں باپ انتقال کر گئے ہوں اور انکی اولادیں وراثت کی وجہ سے ایک دوسرے سے جھگڑتی ہوں بہنیں اپنا حصہ مانگتی ہوں جبکہ کچھ بھائی پارٹیشن کرکے رہنا چاہتے ہوں جب کہ کچھ ورثاء کہتے ہوں کہ ہمیں سب کچھ فروخت کرکے اپنا حصہ یعنی پیسے چاہییں ،کچھ اپنی مرضی سے وراثت میں تعمیرات کرنا چاہتے ہوں تو ان حالات میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

    1:۔ کیا تعمیرات کے لئے سب کی اجازت ضروری ہے؟

    2:۔ کیا تمام ورثاء کی رضا کے بغیر پارٹیشن کر سکتے ہیں ؟

    3:۔ کیا تمام وراثت کو فروخت کرکے سب کا حق دینا ضروری ہے؟

    سائل:۔ کامران عطاری


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:۔ کسی بھی شخص کا وراثت کے مال یا گھر وغیرہ میں کسی بھی طرح کا تصرف کرنا دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے،کیونکہ وراثت میں سب کا حصہ ہر ہر جزء میں ہوتا ہے ، لہذا ایک دوسرے کی اجازت کے بغیر بیچنا، تعمیرات کرنا ، کرایہ پر دینا وغیرہ ہرگز جائز نہیں ہے۔

    الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب الشرکۃ جلد3 ص 5 میں ہے:العين يرثها رجلان أو يشتريانها فلا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بإذنه، وكل منهما في نصيب صاحبه كالأجنبي"

    ترجمہ:دو شخص کسی عین (چیز) کے وارث بنے یا خریدا تو ان میں سے کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ دوسرے کے حصے میں اسکی اجازت کے بغیر تصرف کریں اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کے حصے میں اجنبی شخص کی طرح ہے۔

    فتاویٰ رضویہ جلد 12 ص 215 میں ہے:فانہ اجنبی صرف عن حصۃ اخیہ لیس لہ التصرف فیہ کما نصواعلیہ:ترجمہ: اس میں تو شریک دوسرے کے حصہ سے محض اجنبی ہوتا اسے دوسرے کے حصہ میں تصرف حلال نہیں جیسا کہ فقہاء نے اس پر نص کی ہے۔

    2:۔ اسی پہلے سوال کے جواب سے ہی دوسرے سوال کا جواب بھی معلوم ہوگیا کہ تمام ورثاء کی رضا کے بغیر پارٹیشن نہیں کر سکتے۔

    3:۔ مکان وغیرہ جیسی چیزوں میں اگر انہی میں سے حصہ کر کے سب کو انکاحق دینا ممکن ہو تو دے سکتے ہیں وگرنہ اسکی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے قیمت لگاکر ہر کو اسکے حصے کے مطابق دیا جائے ۔ اور یہ بھی ممکن نہ ہو تو انکو فروخت کرکے دینا لازم ہے ۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی