وراثت کی تقسیم تین بہن بھائی

    warasat ki taqseem teen behan bhai

    تاریخ: 19 مئی، 2026
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 1381

    سوال

    ہم تین بہن بھائی تھے، جس میں ایک بھائی(عثمان) اور دو بہنیں(شمس النساء، مہر النساء) ہیں ۔ ایک بہن کا انتقال ہو گیا ہے ۔ اب صرف میری ایک چھوٹی بہن ہے ، میری والدہ کا انتقال بچپن میں ھو گیا تھا۔ میرے والد کا انتقال 1988ء میں ھوا تھا اس وقت دو کمرے کا ٹینوں والا گھر تھا اور چالیس گز کا تھا اس کی قیمت تقریباً 2 لاکھ تھی پھر میری بہن ایک بہن کا انتقال 1996 ء میں ھوگیا ۔ اس کے چھ بجے ہیں 3 بیٹے، 3 بیٹیاں۔ 1998 میں قرضہ لے کر تمام ورثاء کی اجازت سے میں نے اس گھر کو دو منزل بنوایا پھر آہستہ آہستہ قرضہ اتارا۔ میں نے اس گھر کو 2012 میں پندرہ لاکھ کا بیچا ھے ۔ میں نے اپنے والد کے گھر میں لگایا ہے تو وہ پندرہ لاکھ کا بکا ہے اگر دو کمرے کا گھر ہوتا تو سات یا آٹھ لاکھ کاجاتا۔

    مجھے معلوم یہ کرنا ہے کہ جائیداد کی تقسیم میں اپنے والد کے زمانے والے گھر کے حساب یعنی سات یا آٹھ لاکھ سے تقسیم کروں یا پھر میں نے بھی جو پیسہ لگایا اس کھر کے حساب (15 لاکھ) سے تقسیم کروں ؟ اور یہ بھی بتا دیں کہ آج کے وقت کے حساب سے قیمت لگاؤں 2012 میں بیجا تھا اس کے حساب سے تقسیم کروں اور یہ بھی بتا دیں کہ میری بہن جس کا انتقال ہو گیا ہے کیا اس کا جائیداد میں حصہ ہے ؟ اور اس کے حصہ میں بچوں کا حصہ لگے گا یا نہیں ؟ جبکہ بہن اور بہنوئی دونوں کا انتقال ہوگیا ہے پہلے بہن کا پھر بہنوئی کا ۔ ان کے تین بیٹے(کامران،عمران،عرفان) اور تین بیٹیاں (سیما، ریما، عائشہ)ہیں ۔ دوسری بہن جو حیات ہیں اس کا کتناحصہ ہوگا ؟ میرے بھی دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ان سب کے درمیان جائیداد کس طرح تقسیم ہوئی؟

    سائل:عثمان: کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیساکہ ذکر کیا گیاتو حکمِ شرع یہ ہے کہ چونکہ مکان کی تعمیر باجازتِ ورثاء کی گئی ہے لہذا جس وقت مکان بیچا اس وقت کی قیمت کے اعتبار سے اس مکان کی تقسیم کی جائے گی جسکا طریقہ یہ ہے کہ مکان کی کل قیمت (12 لاکھ )میں سے سب سے پہلے اتنی رقم منہا کرلیں جو آپ نے تمام ورثاء کی اجازت سے تعمیرات میں لگائی اسکے بعد جو رقم بچے اس رقم کو تمام ورثاء میں بشمول آپکے انکے شرعی حصوں کےمطابق تقسیم کرلیں ۔

    تقسیم کی تفصیل درج ذیل ہے:

    کل حصص: 36

    ہر ایک کا حصہ: عثمان:18 ، شمس النساء:9 ، کامران:2 ، عمران:2 ، عرفان:2 ، سیما:1، ریما:1، عائشہ:1

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء :آیت نمبر :11)

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    وراثت کا مال تمام ورثاء کو بطور شرکت ملک حاصل ہوتا ہے، اور شرکت الملک میں تمام ورثاء ایک دوسرے کےحصہ میں اجنبی کی طرح ہوتے ہیں کوئی بھی وارث دوسرے کے حصے میں اسکی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کرسکتا ۔جبکہ اجازت کے ساتھ تصرف جائز ہے، تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: شَرِكَةُ مِلْكٍ، وَهِيَ أَنْ يَمْلِكَ مُتَعَدِّدٌ عَيْنًا أَوْ دَيْنًا أَوْ بِإِرْثٍ أَوْ بَيْعٍ أَوْ غَيْرِهِمَا،وَكُلٌّ أَجْنَبِيٌّ فِي مَالِ صَاحِبِهِ۔ترجمہ: شرکت ملک یہ ہے کہ متعدد اشخاص عین یا دین میں یا وراثت میں یا بیع یا کسی اور چیز میں مشترکہ مالک ہوجائیں ،ان میں سے ہر ایک دوسرے کے حصہ میں اجنبی ہوگا۔(تنویر الابصار مع الدر المختار ،کتاب الشرکۃ جلد 4 ص 299،300)

    تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے: وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَجْنَبِيٌّ فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ حَتَّى لَا يَجُوزَ لَهُ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِيهِ إلَّا بِإِذْنِهِ۔ ترجمہ:ان میں سے ہر ایک دوسرے کے حصہ میں اجنبی کی طرح ہے حتٰی کی ایک کو دوسرے کے حصے میں اسکی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق کتاب الشرکۃ جلد 3 ص 313)

    سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباہ۔ترجمہ: العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے گھر بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ گھر اس بانی کا ہوگا ۔الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ میں ہے۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ ،جلد 19 ص 224 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)

    مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ۔ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )

    رہاآپکے بچوں کا سوال تو ان کا اس جائیداد میں کوئی حق نہیں بلکہ جب تک آپ حیات ہیں تقاضے کابھی حق نہیں، البتہ اگر آپ زندگی میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو تمام اولاد میں برابر برابر تقسیم کرنا ضروری ہے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:15 ربیع الثانی 1445ھ/ 31 اکتوبر 2023 ء