وراثت کی تقسیم کا حکم

    warasat ki taqseem ka hukum

    تاریخ: 20 مئی، 2026
    مشاہدات: 15
    حوالہ: 1385

    سوال

    میرے(رشیدہ) بھائی (عبداللطیف) کا انتقال ہوا، ورثاء میں 2 بیویاں (فریدہ، سائرہ) 2 بہنیں(رشیدہ، حمیدہ) ہیں ، اور 2 بھائی (اقبال، یوسف)بھی تھے جن کا انتقال پہلے ہوگیا دونوں کی مذکر اولاد میں ٹوٹل 4 لڑکے(مزمل، ذیشان، علی، ثقلین) ہیں ۔ بھائی کی کافی پراپرٹی ہے جس میں بلڈنگ، بینک بیلنس وغیرہ ہے ۔ اب میری بھابھی نے ہمارے بھتیجے سے کہا ہے کہ یہ پراپرٹی بیچ دو اور وہ لوگ یہ پراپرٹی تھوڑے سے دام میں بیچ رہے ہیں ۔ دونوں بھابھیوں نے وہ گھر جس میں وہ رہتی تھیں اپنے پاس رکھ لئے ہیں جبکہ انکا حصہ 8/1 ہے مکان اس سے بہت زیادہ ہیں۔ہم بات کرنے جاتے ہیں تو ہم سے لڑائی کرتے ہیں۔ برائے مہربانی شرعی حکم لکھ دیں کس کا کتنا حصہ ہوگا؟ اور مارکیٹ سے کم دام کا حکم بھی لکھ دیں نیز بھابھیوں نے حصہ سے زیادہ جو لیا اسکا بھی بتادیں کہ کیا حکم ہے؟

    سائل: رشیدہ : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے فبہا۔ اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر قرض کی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس)مال کے تین حصے کیے جائیں گے ،اس میں سے ایک حصہ سے وصیت پوری کی جائیگی اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جائیں گے۔السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(سراجی فی المیراث ص 5)

    صورت مستفسرہ میں چونکہ میت کے بھائیوں کا پہلے ہی انتقال ہوچکا لہذا انکا وراثت میں کچھ حق نہیں ، البتہ ان کی مذکر اولاد ضرور حصہ پائے گی۔ لہذا اب دونوں بیویاں، دونوں بہنیں اور بھتیجے شرعی وارث ٹھہریں گے ، بھتیجیوں کا وراثت میں حصہ نہ ہوگا کہ بھتیجوں کی موجودگی میں بھتیجیاں وراثت سے محروم ہوتی ہیں ۔ نیز بھتیجے اور میت کی بیوی جو جائیداد کے معاملات دیکھ رہے ہیں ان پر لازم ہے جائیدادکی موجودہ ویلیو کے اعتبار سے تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کریں، کم دام لگوانا اور حصہ سے کم دینا دونوں ہی سخت گناہ اور حرام ہے جسکے سبب بروزِ حشر سخت رسوائی و عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    مالِ وراثت کی تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل رقم کو 48 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا :

    ہر وارث کا حصہ درج ذیل ہے:ٹوٹل حصے: 48

    فریدہ:6، سائرہ:6 ، رشیدہ:16 ، حمیدہ:16 مزمل:1 ، ذیشان:1 ، علی:1 ثقلین:1

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کی مقرر کردہ تقسیم کے مطابق ہے: بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے :قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(النساء : آیت نمبر 11)

    اگر دو یا دو سے زائد بہنیں ہوں تو انکو دو ثلث 2/3 ملے گا یعنی کل جائیداد کے تین حصے کیے جائیں گے اس میں سے دو حصے بہنوں میں تقسیم کیے جائیں گے ۔قال اللہ تعالٰی: فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ۔ ترجمہ کنز الایمان :پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی ہے۔(النساء:10)

    سگی بہن کے حصہ کی بابت السراجی فی المیراث میں ہے :أمّا للأخَوات لأبٍ وأُمٍّ فأحْوَال خَمْس: النِصْف للواحدة، والثُلُثانِ للاثنتَينِ فصاعِدة،ومع الأخ لأبٍ وأُمٍّ للذَكَر مِثْل حظّ الأنثيَينِ يَصِرْنَ به عَصَبةترجمہ:بہرحال سگی بہن تو اسکے پانچ احوال ہیں:ایک بہن ہو تو نصف حصہ ہوگا،اور دو یا دو سے زیادہ بہنیں ہوں تو دو تہائی حصہ ہوگا۔اور سگے بھائی کے ساتھ للذکر مثل حظ الانثیین (لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کی مثل ہے)کے تحت عصبہ ہوگی۔ ( السراجی فی المیراث ،ص39مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)

    میت بھائی کی عدم موجودگی میں بھائی کا بیٹا یعنی بھتیجاعصبہ بنے گا: أولاهم بالميراث عند عدَم جزء الميِّت وأصله جزءُ أبيه) أي: جزء أبي الميِّت (أي: الإخْوَة) لأبٍ وأمٍّ أو لأبٍ (ثُمّ) أي: وعند عدَم الإخَوة (بَنوهم) أي: بنوا الإخْوَة)وان سفلوا کبنی بنی الاخوۃ۔ترجمہ:میت کی فروع(بیٹا ،پوتا وغیرہ)اور اصول (باپ،دادا ،وغیرہ)کی عدم موجودگی میں وراثت کے حقدار میت کےوالد کی فروع (میت کا سگا اور باپ شریک بھائی )ہوگا ۔پھر بھائی کی عدم موجودگی میں بھائی کا بیٹا وراثت کا حقدار ہوگا۔اسی طرح نیچے تک جیساکہ بھائی کے بیٹوں کے بیٹے۔(السراجية مع شرحه القمرية، جلد:1، ص:30،مکتبہ المدینہ کراتشی)

    اسیمیں ہے: والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال :ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں)تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔( السراجی فی المیراث ص54مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)

    بھتیجے کی موجودگی میں بھتیجیاں وراثت سے محروم ہوتی ہیں ۔ بھتیجے انہیں عصبہ نہیں بناتے کہ انہیں بھتیجوں کے ساتھ مل کر ان کے حصہ کا نصف ملے۔چناچہ سیدی اعلٰی حضرت فتاوٰی رضویہ میں لکھتے ہیں:غیرابن وابن الابن وان سفل واخ عینی یاعلاتی ہیچ ذکرراقوت تعصیب نیست تاآنکہ ابن الاخ یاعم وابن الاعم ہم خواھر عینیہ خودش راعصبہ نتواں نمود۔ علامہ محمد بن علی دمشقی درہمیں درمختار فرمود قال فی السراجیۃ:ولیس ابن الاخ بالمعصب من مثلہ اوفوقہ فی النسب۔ترجمہ: بیٹے، پوتے اگرچہ نیچے تک ہوں، حقیقی بھائی یاعلاتی بھائی کے سوا کوئی مذکر کسی کو عصبہ بنانے کی طاقت نہیں رکھتا یہاں تک کہ بھتیجا یاچچا یاچچا کابیٹا بھی خود اپنی حقیقی بہنوں کو عصبہ نہیں بنا سکتے۔ علامہ محمد بن علی دمشقی نے اسی درمختارمیں فرمایا کہ سراجیہ میں کہاہے : بھتیجا عصبہ بنانے والانہیں ہے۔ نہ اپنی مثل کونہ اس کوجونسب میں اس سے اوپر ہے۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الفرائض،جلد 26 ص 249،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:19 جمادی الاول1444 ھ/14 دسمبر 2022 ء