ورثاء میں دو بیٹے،دوبیٹیاں اور والدہ
    تاریخ: 12 مارچ، 2026
    مشاہدات: 10
    حوالہ: 1014

    سوال

    میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے۔ ورثاء میں،میں ، دو بیٹے ،دو بیٹیاں ،اور والدہ ہیں ۔شوہر کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟

    وراثت کی تفصیل یہ ہے کہ تین پلاٹ ہیں دو میرے نام ہیں اور ایک چھوٹی بیٹی کے نام ، فائل بھی ہمارے پاس موجود ہے اور ہمارے قبضے میں ہی ہیں انہوں نے خود ہمارے نام کیے تھے ۔ اس میں دوسرے ورثاء کا حصہ ہوگا یا نہیں؟زمین کے پلاٹس کی بالخصوص وضاحت چاہوں گی کیونکہ فی الحال پلاٹس بیچنے کا ارادہ نہیں ہے ؟ اسکا کیا حل ہوگا؟

    پاکستان میں جس گھر میں رہ رہے ہیں وہ پہلے شوہر کے والدکا تھا۔ وہ گھر کئی سال پہلے شوہر کے والد صاحب نے صرف گراؤنڈ فلور بنوایا تھا۔ ہماری شادی کے بعد جب میرے شوہر سعودیہ چلے گئے ، تو دوسرے بھائیوں کی شادی کی وجہ سے دوسری منزل میرے شوہر نے اپنے پیسوں سے بنوائی تھی۔ گھر شوہر کی والدہ کے نام پر تھا،والد صاحب کے انتقال کو بیس سال ہوگئے ہیں ۔ دوسرے دو بھائیوں نے اپنے اپنے ذاتی مکان لئےہیں ۔ بہن کا گھر بھی ہوگیا ہے۔میرے شوہر نے اپنی زمین پر گھر بنانے کا سوچا لیکن وہ نہ ہو سکا پھر انہوں نے وہی گھر لینے کا سوچا جس میں ہم رہ رہے ہیں ۔ تو انہوں نے یہ مکان خرید کر اپنے دونوں بھائیوں کو بہن کو اور والدہ کو حصہ دے دیا تھا۔پھر جب گھر کے کاغذات تبدیل کروارہے تھے تو پہلے گھر میرے شوہر کے نام ہوا ،اسکے بعد گھر میرے نام کروایا اور شوہر نے کہا کہ یہ تمہارا گفٹ ہے۔اب اسکی وضاحت درکار ہے جبکہ فی الحال بیچنے کا ارادہ نہیں ہے۔

    اسٹاک مارکیٹ میں پیسہ انویسٹ کیا ہوا ہے پیسہ سارا شوہر کا ہے بس شیئرنگ سب میرے نام ہے ؟جو نفع آتا ہے ہرمہینے فکس وہ کس کا ہے ؟ اس کی تقسیم ہوگی یا نہیں؟

    وراثت میں گھریلو ساما ن ہے یعنی جو سعودیہ میں کرائے کا گھر تھا اس میں سامان ہےس سامان میں سب وارثوں کا حصہ ہوگا تو کیسے اسکا کیا حل ہے؟

    کچھ سونا بچوں کو دینے کی نیت سے رکھا ہوا تھا لیکن ابھی دیا نہیں ، اب یہ بچوں کو ہی دینا یا یا شوہر کی والدہ کا حصہ ہوگا یا انکی اجازت لینی ہوگی یا سب ورثاء کا اس میں حصہ ہوگا؟

    میرے اور میرے شوہر کامشترکہ بینک اکاؤنٹ ہے ،اس میں پیسے شوہر کے ہی ہیں ۔اورشوہر کی حیاتی میں ہی سب دستخظ وغیرہ میں کرتی تھی اور میرے دستخط سے ہی چیک کیش ہوتا تھا ؟ تو کیا اب بھی وہ شوہر کی وراثت میں تقسیم ہوں گے یا نہیں ؟

    گاڑی پرانی ہے،اور استعمال میں ہے،جب خریدی تھی اس وقت سے ہی شوہر نے مجھے دی ہوئی ہے اور اس وقت سے اب تک اسکی اونرشپ بھی میرے نام ہی ہے،اور استعمال بھی میں ہی کرتی ہوں۔ اسکا کیا حکم ہوگا؟

    سائل: معرفت یحیی چامڑیا صاحب


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین رہے جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے تو بات مکمل ہے اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر اسکے ذمے جو قرض ہے اسکی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ اگر مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس) مال کے تین حصے کیے جاتے ہیں ،ایک حصہ سے وصیت پوری کی جاتی ہے اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جاتے ہیں۔

    السراجی فی المیراث ص 5پر ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ :ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔

    پھر وہ مال اسکی وفات کے بعد اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوتا ہے جو اسکی وفات کے وقت زندہ تھے ، اور اسکو ہی مال وراثت کہتے ہیں ،اسی کو ترکہ بھی کہا جاتا ہے۔

    علامہ سید میر شریف جرجانی ترکہ کی تعریف ان الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں :ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه:ترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا( یعنی وہ اسی کی ملکیت میں ہو)۔(التعریفات ص 42)

    ذکر کردہ اشیاء میں سےتینوں پلاٹ، آپ کا گھر جس میں رہائش پزیر ہیں اور گاڑی جو استعمال میں ہے۔ان میں وراثت جاری نہ ہوگی کیونکہ یہ تمام چیزیں آپکے شوہر نے زندگی میں ہی آپ کے(اور ایک پلاٹ چھوٹی بیٹی ) کے نام کردیے تھےاور زندگی میں مکان،پلاٹ یا فلیٹ،یا کوئی اور چیز نام کردینا گفٹ یا ھبہ کے طور پر ہوتا ہے لہذا اگر کسی شخص کے لیے کوئی جگہ یا مکان یا پلاٹ یا گاڑی گفٹ کیا گیا ہو اور وہ موہوب لہ (یعنی جس کے لیے گفٹ کیا گیا ہے) کو اپنے قبضے میں لے لے، تو یہ ھبہ تام ہوجاتا ہے یعنی اس میں اس شخص کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے جس کے لیے وہ مکان ھبہ کیاگیاہے ۔ اور اگر وہ چیز پہلے ہی اس کے قبضے میں ہو جس کے لیے ھبہ کیا گیا ہے تو اسی قبضہ سے ملکیت ثابت ہوجائیگی ۔نئے سرے سے قبضہ ضروری نہیں ہے۔

    اور اسٹاک مارکیٹ میں اس وقت جتنی بھی رقم موجود ہے وہ سب وراثت میں شامل کرکے ورثاء کے مابین تقسیم ہوگی۔ لیکن یاد رہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں سودی معاملات میں انویسٹ کرنا حرام اور گناہ کا کام ہے اگر انویسمینٹ سودی ہے تو فورا سارا سرمایہ نکال لیں اوراللہ کی بارگاہ میں توبہ کریں کیونکہ سود بنص قطعی قرآنی حرام ہے ۔ جو سود کی رقم ہے اسکو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کردیں ۔ اور اگر سودی معاملہ نہیں ہے تو بھی وہ رقم نفع سمیت آپکے شوہر کے ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگی۔

    انکے علاوہ آپ کے شوہر اپنی زندگی میں جس جس چیز کے مالک تھےیعنی گھریلو سامان ،سونا ،کیش پیسے، یہ سب چیزیں تمام ورثاء میں ان کے شریعت میں مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم ہونگی۔

    کل وراثت کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل مال وراثت کو 144 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے شوہر کی والدہ کو 24 حصے ، بیوی کو 18حصے،ہر بیٹے کو 34،34حصے اور ہر بیٹی کو 17،17 ملیں گے ۔

    المسئلۃ بہذہ الصورۃ:

    مسئلہ : =6x24 144

    مــیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

    بیوی والدہ بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی

    1/8 1/6 عصبـــــــــــــــــــــــــــــــہ

    3 4 17

    18 24 34 34 17 17

    تنویرالابصارمیں ہے:وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ) کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز) میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)

    تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے :تتم الھبۃ بالقبض الکامل :ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)

    عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض:ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے ، بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ:ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    ماں،باپ کے حصےکے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیوَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ:ترجمہ کنز الایمان : اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے) اگر میت کے اولاد ہو ۔

    لڑکے اور لڑکیوں کے حصے کے بارے میں فرمایا، قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ :ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین :ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    نوٹ : مال تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جتنا مال وراثت ہے اس سب کی قیمت لگالی جائے،اور کیش پیسے اس کے ساتھ ملا کر اس کل رقم کو اوپر ذکر کردہ کل حصوں یعنی 144 پر تقسیم کردیا جائے جو جواب آئے اسکو 144 میں سے ہر ایک کا جو حصہ ہے اس میں ضرب دے دیں اس طرح کل وراثت سے ہر ایک کا حصہ معلوم ہوجائے گا ۔

    بڑے بزرگوں کے سامنے لکھت کروانا شرعی اعتبار سے ضروری نہیں ہے البتہ یہ اچھی بات ہے تاکہ بعد میں کسی طرح کا کوئی جھگڑا نہ ہو۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:04ربیع الاول 1440 ھ/13نومبر 2018 ء