سوال
ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے انھوں نے وراثت میں ایک 100 گز کا مکان چھوڑا تھا جو کہ سنگل سٹوری تھا ۔اب یہ مکان میری والدہ کے نام پر ہے جو کہ حیات ہیں۔ہم تین بھائی اور چار بہنیں ہیں ۔ہم سب کی اجازت سے بڑے بھائی نے اوپر کا فلور رہائش کے لیے بنایا تھا۔جس پر وہ آٹھ سے نو سال تک رہائش پذیر رہےلیکن دو ماہ پہلے وہ اوپر کاپورشن کرائے پر دے کر چلے گئے ۔اب ہم گھریلو مسائل کی وجہ سے گھر فروخت کرنا چاہتے ہیں جس کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 92 لاکھ تک پہنچ چکی ہے ۔اب بڑے بھائی کا کہنا ہے کہ اوپر کا فلور میں نے بنایا تھا لہذا 46 لاکھ میں لوں گا ۔جب کہ اوپر کا فلور بنانے میں بھائی نے 14 لاکھ لگائے تھے ۔کیا وراثتکی زمین کو اگر کوئی پورشن کر کے فروخت کرنا چاہے تو کر سکتا ہے ؟۔نیز اس میں سب بہن بھائیوں کا کتنا حصہ بنے گا ؟مہربانی فرما کر جواب عنایت فرمائیں!
سائل :کمال احمد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں سنگل اسٹوری میں تو بڑے بھائی سمیت سب ورثا شریک ہیں جبکہ وہ پورشن جو بڑے بھائی نے سب ورثا کی اجازت سے تعمیر کیا اس کامالک صرف وہی ہے۔
اس پورشن کی مارکیٹ ویلیو لگاتے وقت زمیناورچھت تک کے حصے کو مستثنی رکھا جائے گااور یقیناً ایساکرنے سے بھائی کے پورشن کی قیمت 46لاکھ نہیں بنے گی ، بلکہ کم ہو گی ۔
جس بیٹے نے والد کی زندگی میں انکی اجازت سےجو تعمیرات کی وہ خاص اسی کی ہے وہ وراثت میں تقسیم نہ ہوگی۔جیسا کہ سیدی اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباہ۔ترجمہ: العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے گھر بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ عمارت اس بانی کی ہوگی۔الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ میں ہے۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ ،جلد 19 ص 224 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
الاشباہ کے الفاظ یہ ہیں : كُلُّ مَنْ بَنَى فِي أَرْضِ غَيْرِهِ بِأَمْرِهِ فَالْبِنَاءُ لِمَالِكِهَا۔ترجمہ:جس نے غیر کی زمین میں اسکی اجازت سے تعمیرات کی تو تعمیرات اس کے مالک (معمر)کی ہوں گی۔
درر الحکام شرح مجلۃ الحکاممیں مادہ(1309)کے تحت شارح لکھتے ہیں :اذا عمراحد الشریکین المال المشترک باذن الشریک الآخر فتکون التعمیرات المذکورۃ ملکا للمعمر ویکون الشریک الاخرقد اعار حصتہ لشریکہ۔ترجمہ :جب شریکوں میں سے کوئی ایک شریک دیگر شرکا کی اجازت سے مال مشترک میں (گھر وغیرہ)میں کچھ تعمیر کروائے ،تو مذکورہ تعمیرات معمر کیملکیت ٹھہریں گی ۔اور دوسرا شریکتو اپناحصہ اپنے شریک کو عاریتاً دے چکا ہے ۔( درر الحکام شرحمجلۃ الحکام،جلد03،صفحہ315،المکتبۃ الطارق،قابل افغانستان)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:11جمادی الاول 1443 ھ/17دسمبر2021ء