نافرمان بیوی کا شوہر کی وراثت میں حصہ

    nafarmaan biwi ka shohar ki warasat mein hissa

    تاریخ: 5 مئی، 2026
    مشاہدات: 12
    حوالہ: 1262

    سوال

    میری بڑی بہن کا 20 سال پہلے انتقال ہوگیا تھا انکے ورثاء میں شوہر، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔ بڑی بہن کی سب اولاد شادی شدہ اور بال بچے دار ہیں ۔ بہن کے انتقال کے بعد میرے بہنوئی نے جو کہ میرے تایا زاد بھائی بھی ہیں ایک عمر رسیدہ عورت سے شادی کرلی ۔ وہ عورت سرکاری اسکول میں اچھے گریڈ کی ٹیچر تھی ۔ اس عورت نے شروع دن سے ہی بچوں سے فاصلہ رکھا لیکن بعد میں شوہر سے بھی دو رہنے لگی ہفتے ہیں 4 دن شوہر کے ہاں رہتی اور 3 دن میکے رہتی ۔ اور کبھی کبھی مہینوں مہینوں میکے رہتی شوہر کی کوئی خیر ،خیریت دریافت نہیں کرتی۔پھر میری بہنوئی کو 3 سال پہلے ایک دماغی بیماری ہوگئی اب تو اس عورت نے بالکل آنا چھوڑ دیا بس کبھی کبھی کال پر بیٹے سے خیریت پوچھ لیتی تھی۔شوہر ہسپتال میں ایڈ مت رہا تو سب ایک دو بار دیکھنے آئی اسکے بعد انکا انتقال ہوگیا تو وہ مرنے پر بھی نہیں آئی۔ اب ایک ماہ قبل میرے بہنوئی کا انتقال ہوا ہے انکی وراثت میں دو مکان، ایک آفس اور ایک گاڑی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس عورت کا انکی وراثت میں حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟ اگر بنتا ہے تو کتنا؟ حالانکہ اس نے کبھی شوہر کی کوئی خدمت نہیں کی۔قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

    ورثاء کی تفصیل یہ ہے کہ ابھی اس وقت انکی ایک بیوی (جسکا ذکر سوال میں ہوا) 2 بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔

    سائل:ملک ناصر حسین: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    شوہر کی نافرمانی گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ،خلاق عالم نے بیوی کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ شوہر کی ہر صورت میں تابعدار اور فرمان بردار رہے جب تک کہ شوہر کسی خلاف شرع کام کا حکم نہ کرے ، قرآن مجید میں اللہ کریم نے شوہر کو بیوی کے لیے حاکم یعنی حکمران کہا ہے، اوربتایا ہے کہ نیک بیوی وہ ہے جو شوہر کی فرمانبردار اور ادب کرنے والی ہو۔ مذکورہ صورت حال اگر حقیقت پر مبنی ہےتویہ عورت شدید گناہ گار ہے ،لیکن اس تمام کے باوجوداگر شوہر کی وفات تک اس کے نکاح میں باقی رہی تو کوئی چیز اس کو وارث بننے سے نہیں روک سکتی۔شوہر کی وراثت سے بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا۔

    بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(سورۃ النساء: 12)

    وراثت کی تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کے40حصے کئے جائیں گے جس میں سے مرحوم کی بیوی کو5 حصے، بیٹیوں میں سے ہر ایک کو الگ الگ 14حصے ملیں گے، جبکہ بیٹی کو7حصے ملیں گے۔

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان :تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:24 محرم 1442 ھ/14 دسمبر 2020 ء