ھبہ و وراثت کا مسئلہ

    hiba o warasat ka masla

    تاریخ: 5 مئی، 2026
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 1263

    سوال

    میں جب 20 دن کا تھا اس وقت ایک جوڑے نے مجھے گود لے لیا ۔ انکی کوئی اولاد نہیں تھی بعد ازاں جب میں 22 سال کا ہواتو انہوں نے اپنی جائیداد میرے نام کردی جس میں پنجاب میں موجود گھر اور زمینیں شامل ہیں۔اور ان سب کا قبضہ اورانتظام اس وقت 1991 سے ہی میرے ہاتھ میں تھا۔ ایک گھر کراچی میں موجود ہے جو کہ پگڑی کاہے ،اسی طرح کراچی میں موجود دکانیں بھی ہیں۔رقم کی صورت میں کچھ مال موجود نہیں تھا۔

    میرے لے پالک والد(سلیمان خان )کا سن 2000 میں انتقال ہوا۔جس وقت انکا انتقال ہوا اس وقت انکے ایک چھوٹے بھائی شیر خان موجود تھے باقی سب یعنی والدین بھائیوں اور بہنوں کا انتقال ہوچکا تھا۔والد کی وفات کے کچھ ماہ بعد انکے بھائی شیر خان کا انتقال بھی ہوگیا ۔شیر خان کی زوجہ اور ایک بیٹا شیر خان سے پہلے وفات پاچکے ۔ اب شیر خان کی تین بیٹیاں(فاطمہ، عائشہ،اور زینب) اور ایک پوتا(عبداللہ ) موجود ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ جائیداد میں کس کس کا حق بنتا ہے اور کتنا ہر ایک کی تفصیل ارشاد فرمادیں۔

    نوٹ:سوال میں مذکور شیر خان کی تین بیٹیوں اور پوتے کا نام فرضی ہے۔

    سائل:انیس الرحمان:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مستفسرہ میں اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ذکر ہوا تو حکمِ شرع یہ ہے کہ پنجاب والا گھر اور دوکانیں خاص لے پالک بیٹے کی ملک ہے، کہ یہ دکانیں والدین کا اسکے لئے ھبہ اور گفٹ ہے جو کہ بعدِ قبضہ کاملہ تمام ہوگیا۔اور کراچی میں موجود دکانیں اورپگڑی کا گھر وراثت قرار پائیں گی۔(دکانیں بعینہ جبکہ مکان کی پگڑی کی موجودہ قیمت وراثت ہوگی۔)جو ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہونگی۔نیز وراثت محض فاطمہ، عائشہ،زینب اورعبداللہ کے مابین تقسیم ہوگی۔لے پالک بیٹے کا وراثت میں کچھ حصہ نہ ہوگا۔تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ سلیمان خان کی وراثت کے کل 9 حصے کئے جائیں گے جس میں سے فاطمہ،عائشہ اور زینب ہر ایک کو الگ الگ دو ،دو حصے دیئے جائیں گے جبکہ عبداللہ کو تین حصے ملیں گے۔

    ھبہ بعد قبضہ کامل کے تام ہوجاتا ہے جیساکہ تنویرالابصار میں ہے: وَ( شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)

    اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)

    عالمگیریہ میں ہے :لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃالباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)

    سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام۔ اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے۔اگر دو یا دو سے زائد بیٹیاں ہوں تو انکو ودثلث یعنی 2/3 ملے گا یعنی کل جائیداد کے تین حصے کیے جائیں گے اس میں سے دو حصے بیٹیوں کو دیئے جائیں گے ۔ قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔(النساء :11)

    اور پوتا عصبہ ہے جو بیٹیوں سے باقی ماندہ تمام مال لے لے گا۔ اسی میں ہے :والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال ۔ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔(السراجی فی المیراث ص 9)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:19 ربیع الثانی 1442 ھ/05 دسمبر 2020 ء