وراثت کے ایک مسئلے کا حکم

    warasat ke aik maslay ka hukum

    تاریخ: 5 مئی، 2026
    مشاہدات: 12
    حوالہ: 1261

    سوال

    السلام علیکم

    والد اور والدہ کا انتقال ہوگیا ہے ، والد کے نام ایک گھر ہے ، ہم پانچ بھائی،تین بہنیں ہیں ، سب ایک ہی بلڈنگ میں رہتے ہیں،ایک بھائی حصہ کا مطالبہ کررہا ہے ،اگر میں اسکو اپنی طرف سے حصہ دے دوں ،تو کیا بعد میں جب والد کی جائیداد جو گھر کی صورت میں ہے بکتی ہے تو کیا وہ مجھے ملے گا،اور اگر ملے گا تو اسکی ویلیو وہی پرانی ہوگی یا 10 سال بعد یا جب بیچیں گے اس وقت جو ویلیو ہوگی وہ ملے گا؟ براہ کرم جواب عنایت کردیجیے۔

    سائل: نعمان


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مسئولہ میں اگر آپ انکے حصہ کی مارکیٹ ویلیو نکلوا کر انکا حصہ اپنے ذاتی پیسوں سے خرید لیں اور انکے حصے کی رقم انکو دے دیں تو میں جب وراثت کی تقسیم ہوگی تو وہ حصہ آپ کا ہوگا اس کی جو بھی قیمت لگے گی اسکے آپ حقدار ہونگے،ہدایہ کتاب الشرکۃ جلد 3ص5 میں ہے:ويجوز بيع أحدهما نصيبه من شريكه في جميع الصور:ترجمہ: اور اپنے شریک کو اپنا حصہ بیچنا تمام صورتوں میں جائز ہے۔

    پھر اگر ایسا کرنا چاہیں تو اس کے لیے ہر ایک کا حصہ جاننا ضروری ہے،لہذا اگر معاملہ ایسا ہی ہے اور انکے علاوہ کوئی اور وارث نہیں ہے تو کل وراثت کے 13 حصے کیے جائیں گے،میت کے ہر بیٹے کو 2،2 حصے جبکہ ہر بیٹی کو 1،1 حصہ ملے گا ،

    قال اللہ تعالیٰ:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ:ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    سراجی ص19میں ہےومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین :ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ کل وراثت کے 13 حصے کیے جائیں گے،میت کے ہر بیٹے کو 2،2 حصے جبکہ ہر بیٹی کو 1،1 حصہ ملے گا ، اوراگر آپ حصوں کی مارکیٹ ویلیو نکلوا کر اپنے اس بھائی کا حصہ اپنے ذاتی پیسوں سے خرید لیں جو حصہ کا مطالبہ کررہا ہے اور انکے حصے کی رقم انکو دے دیں تو میں جب وراثت کی تقسیم ہوگی تو وہ حصہ آپ کا ہوگا اس کی جو بھی قیمت لگے گی،وہ آپکی ہوگی۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی