میت کا قرض وراثت میں تقسیم ہوگا یا نہیں

    mayyat ka qarz wirasat mein taqseem hoga ya nahi

    تاریخ: 2 مئی، 2026
    مشاہدات: 28
    حوالہ: 1255

    سوال

    میری بہن اور بہنوئی گورنمنٹ ملازم تھے، انکی کوئی اولاد نہیں تھی بہنوئی کاایک مکان تھا جو کہ انہوں نے زندگی میں ہی اپنی بیوی یعنی میری بہن کے نام کردیا تھا اور انکا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ میرے بعد میرے بھائی تمہیں تنگ کریں گے، اور پھر ایسا ہی ہوا انکے وفات کے بعد انہوں نے کیس کردیا اور میری بہن عدالت سے کیس جیت گئی کیونکہ کاغذات اسی کے نام تھے اورشوہر کی جانب سے گفٹ ڈیڈ کے تمام تقاضے پورےکردیئے گئے تھے ۔

    اور بہنوئی کے ایک بھتیجے نے ان سے قرض لیا تھا اب انکے انتقال کے بعد وہ قرض کس طرح تقسیم ہوگا؟ یاد رہے کہ بہن اور بہنوئی کی کوئی اولادنہیں ہے ، بہنوئی نے بیوی کی بھانجیوں کو گود لیا ہوا تھا ۔ اور کہا تھا کہ اپنے ماموں (یعنی اس بھتیجے )سے پیسے تم لوگ لے لینا، اور اس بات کے گواہ بھی موجود ہیں ۔قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرمادیں۔بہنوئی کے ورثاء میں تین بھائی اورچار بہنیں ہیں ، والدین کا پہلے ہی انتقال ہوگیاہے۔

    سائل:نازنین : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیساکہ سوال میں ذکر کیااور انکے علاوہ دیگر کوئی وارث نہیں تو حکم شرع یہ ہے کہ سب سے پہلے میت کی لے پالک بچیوں (اسکی بیوی کی بھانجیوں ) کو کل قرض میں سے ایک تہائی مال بطورِ وصیت دیا جائے گا ،کیونکہ مرحوم کا یہ قول کہ اپنے ماموں (یعنی اس بھتیجے ) سے پیسے تم لوگ لے لینا، وصیت ہے۔کیونکہ اس جملے( تم لوگ لے لینا) کا مطلب بعد از وفات لیناہے ۔ اور وہ چیز جس کے ثبوت کو انسان اپنی موت پر معلق کر دے وہ صیت ہوتی ہے ۔ اور وصیت ایک تہائی میں نافذ ہوتی ہے۔

    اسکے بعد بچ جانے والا قرض اور اسکے علاوہ جو کچھ مالِ میت ہے وہ سب ورثاء کے مابین انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔

    تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ قرض اور اسکے علاوہ جو کچھ مالِ میت ہے اسکے 40 حصے کئے جائیں گے جس میں سے 10 حصہ مرحوم کی زوجہ کو ، 6حصے ہر بھائی کو الگ الگ اورہر بہن کو3 الگ الگ حصے ملیں گے۔

    وصیت کے بارے میں تنویر الابصار میں ہے :(وَتَجُوزُ بِالثُّلُثِ لِلْأَجْنَبِيِّ وَإِنْ لَمْ يُجِزْ الْوَارِثُ ذَلِكَ لَا الزِّيَادَةَ عَلَيْهِإلَّا أَنْ تُجِيزَ وَرَثَتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ)ترجمہ:اور ایک تہائی مال میں اجنبی شخص(جو وارث نہ بن رہا ہو)کے لئے وصیت جائز ہے، اگر چہ ورثاء اسکی اجازت نہ دیں ، اور ایک تہائی سے زائد کی جائز نہیں ہے مگر یہ کہ موصی(وصیت کرنے والے )کی موت کے بعد دیگر ورثاء جائز قرار دیں تو اب ثلث سے زائد میں بھی جائز ہوجائے گی۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب الوصایا جلد 6ص165)

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کےمطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے:قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء:12)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء:11)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 22 صفر المظفر 1443 ھ/30 ستمبر 2021 ء