digital platforms aur mobile games ki aamdani ka sharai hukum
سوال
(۱) میں ویب سائٹس، موبائل ایپلی کیشنز اور یوٹیوب چینل کے ذریعے کام کرتا ہوں، جہاں گوگل ایڈسینس (Google AdSense)اور گوگل ایڈ موب (Google AdMob)کے ذریعے اشتہارات چلائے جاتے ہیں۔ ان اشتہارات پر ہمارا سو فیصد کنٹرول نہیں ہوتا، تاہم ہم گوگل کے فلٹرنگ سسٹم کے ذریعے غیر شرعی کیٹیگریز جیسے جوّا، شراب، اور فحاشی وغیرہ کو کسی حد تک بلاک کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود بعض اوقات ایسے اشتہارات آ جاتے ہیں جن میں موسیقی یا خواتین کی تصاویر (بے پردگی) شامل ہوتی ہے، جو مکمل طور پر ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا۔اس حوالے سے بعض علماء کی یہ رائے ہے کہ جتنا ممکن ہو سکے کنٹرول کیا جائے اور مشتبہ آمدنی کی تطہیر کیلئے کل رقم کا تقریباً %10 ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کر دیا جائے۔ کیا ان پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی ایسی آمدنی شرعاً حلال ہے؟ اور کیا صدقہ کرنے والی یہ دلیل شرعی طور پر معتبر ہے؟
(۲) میں موبائل کیلئے چھوٹے گیمز ( 2D Hyper Casual Games)بنانا چاہتا ہوں، جو عام طور پر وقت گزاری کیلئے کھیلے جاتے ہیں۔ ان گیمز میں نہ تو میوزک شامل ہے، نہ ہی کوئی فحش یا حرام عنصر موجود ہے۔ یہ بڑے گرافکس والے نہیں بلکہ سادہ نوعیت کے گیمز ہیں۔ کیا ایسی ایپلی کیشنز بنانا اور ان کی ڈویلپمنٹ سے آمدنی حاصل کرنا شرعاً جائز ہے؟
براہِ کرم ان دونوں مسائل کے حوالے سے قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما کر مشکور فرمائیں۔
سائل: عبد اللہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
(۱) گوگل ایڈسینس اور گوگل ایڈ موب ایسے اشتہاری نیٹ ورک ہیں جو ویب سائٹ مالکان، موبائل ایپ ڈویلپرز اور یوٹیوبرزکو اپنی ڈیجیٹل جگہ پر اشتہارات دکھانے کے عوض رقم فراہم کرتے ہیں۔ ایڈسینس بنیادی طور پر ویب سائٹس اور یوٹیوب کیلئے ہے، جبکہ ایڈ موب موبائل ایپلی کیشنز میں اشتہارات کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ ان پلیٹ فارمز پر اشتہارات چلانے والی کمپنیاں گوگل کو ادائیگی کرتی ہیں، جس میں سے گوگل اپنا حصہ رکھ کر باقی رقم مواد کے مالک کو دیتا ہے۔ اگرچہ گوگل فلٹرنگ کا نظام فراہم کرتا ہے، لیکن عملی طور پر اشتہارات پر سو فیصد کنٹرول ممکن نہیں ہوتا اور بعض اوقات غیر ارادی طور پر میوزک یا بے پردہ عورت کی تصاویر جیسے امور سامنے آ جاتے ہیں۔
ان پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حکم اس بات پر منحصر ہے کہ وہاں کس قسم کے اشتہارات چلتے ہیں۔ اگر چلائے جانے والے اشتہارات سو فیصد حلال ہوں، مثلاً کسی حلال پروڈکٹ کے ہوں اور ان میں کوئی شرعی خرابی نہ ہو، تو اس سے حاصل شدہ آمدنی کے جائز ہونے میں کوئی کلام نہیں۔ تاہم، مشاہدہ یہ ہے کہ ان میں حرام اجزاء (میوزک یا بے پردہ عورت کی تصاویر وغیرہ) شامل ہو جاتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں اگرچہ بعض علماء عدمِ جواز کی طرف گئے ہیں، لیکن فقہِ حنفی کے قواعد اور مقاصدِ شریعت کی روشنی میں اس مسئلے میں وسعت موجود ہے۔ شرع شریف میں جب تک کسی کام کی حرمت پر نصِ قطعی موجود نہ ہو، امت کیلئے آسانی کا پہلو تلاش کیا جاتا ہے، کیونکہ دین میں بلاوجہ تنگی پیدا کرنا مقاصدِ شریعت کے خلاف ہے۔ مقاصدِ شریعت (مقاصدِ خمسہ) میں جلبِ مصلحت اور دفعِ مضرت بنیادی اصول ہیں، اور موجودہ دور میں ڈیجیٹل ذرائع کی ضرورت کے پیشِ نظر غیر منصوص مسائل کو انہی قواعد کی روشنی میں حل کیا جائے گا۔
تعیینِ معصیت اور تعاون علی الاثم کی تحقیق کے حوالے سے امامِ اعظم امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا موقف یہ ہے کہ اگر کسی فعل میں گناہ کا پہلو ہونے کے باوجود، اس شے کے استعمال کی کوئی ایک بھی جائز صورت باقی رہے، تو وہاں معصیت متعین نہیں ہوتی، لہٰذا اس معاملے کی اجرت لینا جائز ہے۔ چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں: "الذي يظهر لي أنّ الشيء إذا صلح في حدّ ذاته لأن يستعمل في معصية وفي غيرها ولم يتعيّن للمعصية فلم يكن بيعه إعانةً عليها؛ لاحتمال أن يستعمل في غير المعصية، وإنما يتعين ذلك بقصد القاصدين والشك لا يؤثر، وغلبة الظن في أمثال المقام ملتحق باليقين، والتغيير لكونه فعل فاعل مختار يقطع النسبة". ترجمہ: میرے لیے جو ظاہر ہوا وہ یہ کہ جب کوئی چیز اپنی ذات کے اعتبار سے معصیت اور غیر معصیت دونوں میں مستعمل ہوسکے اور معصیت کے لیے متعین نہ ہو تو اس کی خرید و فروخت گناہ پر اعانت نہیں کیونکہ احتمال موجود ہے کہ وہ غیر معصیت میں استعمال ہو اور اس کا معصیت کیلئے متعین ہونا قاصد کے قصد سے ہوگا اور اس میں شک مؤثر نہیں ہوگا اور ایسے مسائل میں غلبہ ظن یقین سے ملحق ہوتا ہے۔تغییر کیونکہ فاعل مختار کا فعل ہے اس لئے یہ بھی بائع سے معصیت کی نسبت کو منقطع کر دے گا۔ (جد الممتارعلی رد المحتار،7/75-76،دار الکتب العلمیۃ)
اس کے برعکس، صاحبین رحمہما اللہ کے موقف کے مطابق معصیت تب متعین ہوگی جب وہ شے معصیت کیلئے ہی بنائی گئی ہو، یا اس کا مقصودِ اعظم گناہ ہو، یا کوئی قوی قرینہ معصیت کو متعین کر دے۔ پس امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إذا تمهد هذا، فاعلم أن معنى ما تقوم المعصية بعينه أن يكون في أصل وضعه موضوعة للمعصية أو تكون هي المقصودة العظمى منه، فإنه إذا كان كك يغلب على الظن أن المشتري إنما يشتريه لاتيان المعصية؛ لأن الأشياء إنما تقصد الاستمتاع بها، فما كان مقصوده الأعظم تحصيل معصية - معاذ الله تعالى - كان شراؤه دليلاً واضحاً على ذلك القصد فيكون بيعه إعانة على المعصية لما علمت من التعين بقصد القاصد وكذلك ما لم يكن موضوعاً لذلك بعينه ولا ما هو المقصود الأعظم منه لكن قامت قرينة ناصّة على أنّ مقصود هذا المشتري إنما يستعمله معصية..( مثلا لو باع عصير عنب ممن يعلم).. أنه يتخذه خمرًا؛ لأنه ليس موضوعاً للمعصية وقصد المشتري كان معيناً للعصيان، لكن الاحتياج إلى التغيير".ترجمہ: جب یہ تمہید سمجھ آگئی توجان لو کہ جس کسی چیز کے ساتھ معصیت بعینہ قائم ہو اس کا معنی یہ ہے کہ وہ چیز اصل وضع میں ہی معصیت کے لئے موضوع ہو یا پھر اس چیز سے بڑا مقصد ہی یہ معصیت ہو کیونکہ اگر معاملہ ایسا ہو تو غلبہ ظن یہ ہوگا کہ خریدار نے یہ چیز گناہ کرنے کے لیے ہی خریدی ہے کیونکہ اشیاء کا مقصد ان سے فائدہ ہی اٹھانا ہوتا ہے تو جس شخص کا مقصود اعظم ہی گناہ کا ارتکاب ہو معاذ اللہ تو اس کی خرید اس گناہ کے قصد پر واضح دلیل ہوگی لہذا ایسے شخص کو یہ چیز بیچنا گناہ پر اعانت ہوگی اس تعین کی وجہ سے جو تجھے قصد قاصد سے معلوم ہوئی۔اسی طرح جو چیز بعینہ گناہ کے لیے موضوع نہ ہو نہ ہی اس کا مقصود اعظم گناہ ہو لیکن کوئی ایسا واضح قرینہ پایا جائے کہ اس خریدار کا مقصد یہ ہے کہ یہ اسے گناہ کے لیے استعمال کرے گا مثلاً انگور کا شیرہ اس شخص کو بیچنا جو اس سے شراب بنائے گا، کہ یہ شیرہ معصیت کے لئے موضوع نہیں لیکن مشتری کا قصد اس گناہ کو معین کر دے گا البتہ معصیت کے حصول کیلئے تغییر کی طرف احتیاج ہوگی۔ (جد الممتارعلی رد المحتار،7/76،دار الکتب العلمیۃ)
اشتہارات کے معاملے میں یہ حقیقت موجود ہے کہ بہت سے اشتہارات حلال مصنوعات (مثلاً عطر، کپڑے یا تعلیمی کورسز) کے ہوتے ہیں جن میں میوزک یا بے پردہ عورت کی تصاویر نہیں ہوتیں۔ چونکہ یہاں حلال آمدنی کا امکان اور صورت موجود ہے، اس لیے امامِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے موقف کے مطابق یہ آمدنی اصلا حلال قرار پائے گی۔
اشکال(۱): اشتہارات کی آمدنی میں چونکہ بالعموم غیر شرعی اشتہارات کا حصہ شامل ہو جاتا ہے، تو اس کمائی کو مخلوط آمدنی سمجھا جائے گا، اور کیا مخلوط کمائی کی وجہ سے حاصل ہونے والی پوری آمدنی حرام ہو جائے گی؟
جواب: یہ کمائی مخلوط نہیں، کہ جب پلیٹ فارمز کو ویڈیو اس ارادےسے دی جائیں کہ اس میں جائز اشتہارات چلائے جائیں، اور ناجائز اشتہارات چلانے کی اجازت کا قصد نہ ہوتو کمائی اصلا مخلوط نہیں ہوگی، کیونکہ ویڈیو کا مالک پلیٹ فارمز سے اجارہ جائز اشتہارت پر کر رہا ہے جو نہ معصیت ہے نہ اس کا سبب، ہاں معصیت پلیٹ فارمز (فاعل مختار) کے فعل سے حاصل ہوگی کہ ایسے اشتہارات وہ شامل کردے جن میں موسیقی یا اور کوئی غیر شرعی عنصر پایا جائے۔ لیکن جب ویڈیو کا مالک غیر اشتہارات کے چلانے کی نیت نہ کرے تو اس سے نسبت بھی ختم ہوجائے گی۔
اشکال(۲): ویڈیو پلیٹ فارمز، اشتہار مالکان سے جو رقم لیتے ہیں اس میں سے ویڈیو مالکان کو فیصد کے لحاظ سے اجرت دی جاتی ہے۔جبکہ فیصد سے اجرت طے کرنا جائز نہیں۔
جواب:فقہائےکرام نے اجارہ کے باب میں جہاں فیصد سے اجرت کے عدمِ جواز کا قول کیا، اس کی علّت ایسی جہالت ہےجو مفضی الی النزاع ہو۔اسی لئے حمام کی اجرت کے مسئلہ میں جہاں قیاساً اجارہ فاسد ہونا چاہئے تھا،کہ معلوم نہیں حمام میں کتنا پانی استعمال ہوگا؟ یا نہانے والا کتنا وقت لگائے گا؟یعنی منفعت مجہول تھی، لیکن عرف کی بناء پر اسے جائز قرار دیا گیا کہ یہ ایسی جہالت ہے جومفضی الی النزاع نہیں۔اسی طرح درپیش مسئلہ میں اجرت کا یہ سلسلہ ایسا معروف ہے کہ اس کی جہالت کی وجہ سے آپس میں نزاع کا باعث نہیں بنتی۔لہذا یہ اجارہ درست ہے۔
اشکال (۳): اس قسم کے مسائل میں جہاں گناہ کا راستہ کھلنے کا امکان ہو، وہاں سدِ ذرائع کے اصول کے تحت صاحبین رحمہما اللہ کے مؤقف پر فتویٰ دینا زیادہ مناسب تھا۔ پھر امام اعظم رضی اللہ عنہ کے مؤقف پر فتویٰ دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
جواب: اصل بات یہ ہے کہ شریعت مطہرہ میں بے جا سختی نہیں ہے، اور ضرورت کے وقت امت کو آسانی فراہم کرنا مقصودِ شریعت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درپیش مسئلہ میں امام اعظم رضی اللہ عنہ کے موقف کو ترجیح دی جاتی ہے۔جن تفریعات (شراب کا اٹھانا، طوائف کا علاج، ہندو کو لکڑی بیچنا) میں امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے قول پر فتویٰ دیا گیا، وہاں کسی بھی جگہ اجیر یا بائع کے لیے ضرورت شرعی یا حاجت شرعی کے متحقق ہونے کی صراحت موجود نہیں۔ اس کے باوجود، ان تمام تفریعات میں امام صاحب رحمہ اللہ کے مؤقف میں فی نفسہ جواز بیان ہوا، اور دو تفریعات میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ کا براہ راست امام صاحب کے قول پر فتویٰ بھی موجود ہے۔نیز، درپیش مسئلہ ایک عمومی ابتلاء کا مسئلہ ہے جس میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مبتلا ہے۔ ایسے غیر منصوص علیہ مسائل میں بلا وجہ شدت اختیار کرنا اور مسلمانوں کو بے جا طور پر گنہگار اور حرام کھانے والا قرار دینا دین پر افتراء ہے۔لہٰذا، مفتی کا کام فتویٰ دینا اور ساتھ ہی تقویٰ کا مشورہ دینا ہے۔ چونکہ امام اعظم رحمہ اللہ کے موقف میں معصیت کا انقطاع ثابت ہے، اس لیے فتویٰ آسانی کے پہلو پر مبنی ہو گا، جبکہ احتیاط کے لیے تقویٰ کی تلقین کی جائے گی۔
اشکال (۴): اس مسئلہ میں اشہارات کی آمدنی کو اجارہ کے باب میں شمار کیا اور اجارہ منفعت پر ہوتا ہے اور منفعت عین سے حاصل ہوتی ہے اور عین وہ ہوتا ہے جس کا خارج میں وجود ہو، جبکہ ویب سائٹ ،یوٹیوب چینل یا ایپلییکیشن، ان سب کا خارج میں کوئی وجود نہیں۔لہذا یہاں تو اصلا اجارہ ہی درست نہیں چہ جائے کہ اس پر تعین معصیت کی بحث ہو۔
جواب: اوّلاً: اجارہ میں منفعت کے پیچھے عین کی شرط اس لیے رکھی گئی کہ انفساخِ عقد (عقد کے اچانک ختم ہو جانے) کا خطرہ نہ رہے؛ کیونکہ مادی اشیاء میں منفعت عین کے ساتھ جڑی ہوتی ہے اور عین کے ہلاک ہونے سے عقد ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن درپیش مسئلہ (ڈیجیٹل اسپیس) میں انفساخِ عقد کا ایسا کوئی غرر موجود نہیں ، کیونکہ موجودہ دور کا عرفِ عام اس بات پر قائم ہے کہ یہاں اگرچہ عین موجود نہیں، اس منفعت پر عقد جاری ہے اور فریقین کے درمیان کوئی نزاع یا ابہام پیدا نہیں ، اور یہی نزاع و ابہام کو دور کرنے کیلئے ہی شرع نے مختلف عقود میں مختلف شرائط جاری کیں، پس جب اصل (نزاع و ابہام) نہیں تو اس کا حکم بھی ثابت نہیں۔
ثانیاً: اس معاملے کی فقہی تکییف اجارہ علی الحق کی ہے۔ جس طرح متقدمین فقہاء کرام نے حقِ مجرد کی بیع اصلا ناجائز قرار دی، لیکن بعد ازاں عرفِ عام کی بنا پر مشائخِ بلخ نے مجرد حقِ شرب کی بیع و شراء کو جائز قرار دیا، بالکل اسی طرح ہم اسی اصول کی پیروی میں ان حقوقِ مجردہ کے اجارہ کا جواز بیان کرتے ہیں جن پر عرف جاری ہو اور درپیش مسئلہ میں عرف شاہد ہے کہ دنیا بھر میں عوام و خواص سافٹ وئیرز اور ایپلی کیشنز کی ماہانہ یا سالانہ سبسکرپشن لیتے ہیں، حالانکہ سافٹ وئیر کوئی عین نہیں بلکہ ایک حق ہے۔ جب عرف کی بنا پر ایسے حقوق پر اجرت لینا اور دینا جائز ہے، تو ویب سائٹ یا یوٹیوب کی ڈیجیٹل جگہ کا اجارہ بھی بدرجہ اولیٰ درست قرار پائے گا۔
اگرچہ احتیاط کا تقاضا (سدِ ذرائع) بعض صورتوں میں سختی کا متقاضی ہوتا ہے، لیکن چونکہ یہ مسئلہ عمومِ بلویٰ اختیار کرچکا ہے کہ اس میں مسلمانوں کی عام و خاص بڑی تعداد وابستہ ہے، اس لیے امامِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے موقف پر فتویٰ دینا ہی مقاصدِ شریعت کے موافق ہے تاکہ مسلمانوں کو بلاوجہ گنہگار اور حرام خور قرار دینے سے بچا جا سکے۔ مفتی کا منصب جہاں فتویٰ دینا ہے، وہیں تقویٰ کی تلقین کرنا بھی ہے۔ لہٰذا، حلال کیٹگریز کو منتخب کرنے اور غیر شرعی اشتہارات کو بلاک کرنے کی حتی الامکان کوشش کے باوجود جو مشتبہ آمدنی شامل ہونے کا اندیشہ ہے، اس کی تطہیر کیلئے کل رقم کا کچھ حصہ (مثلاً 10 فیصد) صدقہ کر دینا ایک مستحسن شرعی تدبیر اور احتیاط ہے ۔
تعیین معصیت ہونے نہ ہونے کی چندتفریعات:
(۱) اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہواکہ مسلمان کو ہندو مردہ جلانے کے لئے لکڑیاں بیچنا جائز ہے یانہیں؟ تو اس کے جواب میں فرماتے ہیں:’’ لکڑیاں بیچنے میں حرج نہیں لان المعصیۃ لاتقوم بعینہا (کیونکہ معصیت اس کے عین کے ساتھ قائم نہیں ہوتی) مگر جلانے میں اعانت کی نیت نہ کرے اپنا ایک مال بیچے اور دام لے واللہ تعالٰی اعلم‘‘۔(فتاوی رضویہ،17/168،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
(۲) علامہ زیلعی رحمہ اللہ کے حوالے سے خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "(قَوْلُهُ وَحَمْلُ خَمْرِ ذِمِّيٍّ) قَالَ الزَّيْلَعِيُّ: وَهَذَا عِنْدَهُ وَقَالَا هُوَ مَكْرُوهٌ " لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ «لَعَنَ فِي الْخَمْرِ عَشَرَةً وَعَدَّ مِنْهَا حَامِلَهَا» وَلَهُ أَنَّ الْإِجَارَةَ عَلَى الْحَمْلِ وَهُوَ لَيْسَ بِمَعْصِيَةٍ، وَلَا سَبَبَ لَهَا وَإِنَّمَا تَحْصُلُ الْمَعْصِيَةُ بِفِعْلِ فَاعِلٍ مُخْتَارٍ، وَلَيْسَ الشُّرْبُ مِنْ ضَرُورَاتِ الْحَمْلِ، لِأَنَّ حَمْلَهَا قَدْ يَكُونُ لِلْإِرَاقَةِ أَوْ لِلتَّخْلِيلِ، فَصَارَ كَمَا إذَا اسْتَأْجَرَهُ لِعَصْرِ الْعِنَبِ أَوْ قَطْعِهِ وَالْحَدِيثُ مَحْمُولٌ عَلَى الْحَمْلِ الْمَقْرُونِ بِقَصْدِ الْمَعْصِيَةِ اهـ".ترجمہ: مصنف کا قول ذمی کیلئے شراب اٹھانا (جائز ہے) امام زیلعی نے فرمایا: یہ امام صاحب رحمہ اللہ کے نزدیک ہے۔ صاحبین رحمہما اللہ نے فرمایا: یہ مکروہ ہے۔ کیونکہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے شراب کے معاملہ میں دس افراد پر لعنت کی ہے۔ ان میں سے ایک اس کےاٹھانے والے کو شمار کیا ہے۔امام صاحب رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ اٹھانے پر کسی کے ساتھ اجارہ کرنا نہ معصیت ہے اور نہ ہی اس کا سبب ہے۔ معصیت تو فاعل مختار کے فعل کے ساتھ حاصل ہوتی ہے۔ اور پینا یہ اٹھانے کی ضروریات میں سے نہیں ۔ کیونکہ شراب کا اٹھانا بعض اوقات اسے بَہانے اور اسے سِرکہ بنانے کے لیے ہوتا ہے۔ پس یہ اس طرح ہو گیا جس طرح وہ اسے اجرت پر لے تاکہ وہ انگور کا رس نچوڑ لے یا انگوروں کو کاٹے۔ حدیث اس اٹھانے پر محمول ہو گی جو معصیت کے ارادہ کے ساتھ ملی ہوئی ہو ۔ (رد المحتار، 6/391-392،دار الفكر)
(۳) فتاوی رضویہ شریف میں امام اہلسنت رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ طوائف مریضہ اگرمطب میں آئے تو اس کا علاج کرنامعصیت ہے یانہیں؟ دوسری صورت میں اعانت برمعصیت ہونے میں کوئی شبہہ ہے؟ اسکے جواب میں آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا :’’اگرمعالجہ زن فاحشہ سے طبیب خود یہی نیت کرے کہ یہ ارتکاب معاصی کے قابل ہوجائے ناسازی طبیعت کہ مانع گناہ ہے زائل ہوجائے جب تو اس کے عاصی ہونے میں کلام نہیں،فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پرہے اور ہرشخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔اور اگر اس کی یہ نیت نہیں بلکہ عام معالجے جس نیت محمودہ یا مباحہ سے کرتاہے وہی غرض یہاں بھی ہے تو اگرمرض ایذادہندہ ہے جیسے کہ اکثر امراض یونہی ہوتے ہیں جب تو اصلاً حرج نہیں، نہ اسے اعانت معصیت سے علاقہ بلکہ نفع رسانی مسلمہ، یادفع ایذائے انسان کی نیت ہے تو اجر پائے گا۔قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی کل کبد حرّاء اجر۔ رواہ الشیخان عن ابی ھریرۃ واحمد عن ابن عمرو بن العاص وکابن ماجۃ عن سراقۃ بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔ (حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) ہرجگہ گرم یعنی ہرجاندار کی نفع رسانی میں ثواب ہے (بخاری ومسلم نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے اور امام احمد نے ابن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور ابن ماجہ نے سراقہ بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت کیاہے)۔ اور اگر مرض سے کوئی ایذا نہیں صرف موانع زنا سے ہے جس کے سبب اس کا معالجہ ایک زانیہ عورت کے لئے کوئی نفع رسانی نہ ہوگا بلکہ زنا کاراستہ صاف کرے گا مثلاً عارضہ رتق یاشدّت وسعت (نہ بوجہ سیلان رطوبت) کہ فی نفسہٖ موذی نہیں مگر اس کا اشتہار باعث سردی بازار زنان زناکار ہے ایسے معالجہ کو جب کہ امورمذکورہ پرطبیب مطلع ہو اگرچہ برقیاس قول صاحبین من وجہ اعانت کہہ سکیں مگرمذہب امام رضی اﷲ عنہ پریہ بھی داخل ممانعت نہیں کہ یہ تو پاک نیت سے صرف اس کاعلاج کرتا ہے گناہ کرنانہ کرنا اس کا اپنا فعل ہے جیسے راج کاگرجایاشوالہ بنانا یامکان رنڈی زانیہ کو کرایہ پردینا‘‘۔ (فتاوی رضویہ،24/178-179،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
غور کریں کہ صاحبین رحمہما اللہ کے مؤقف کے مطابق، مذکورہ تمام مسائل میں معصیت اس لیے متعین ہو رہی ہے کہ یا تو ان چیزوں کا مقصود اعظم معصیت ہے (جیسے ہندو کا مردہ جلانے کیلئے لکڑی خریدنا) یا ان معاملات کے ساتھ قوی قرینہ (جیسے شراب کا غالب استعمال پینا، یا علاج کا مقصد صرف زنا کے موانع دور کرنا) ایسا جڑا ہوا ہے جو معصیت کو متعین کرتا ہے، لہٰذا یہ تعاون علی الاثم قرار پاتا ہے اور ناجائز ہوتا ہے۔
اس کے برخلاف، امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے مؤقف کے مطابق، ان تمام مسائل میں معصیت اس لیے متعین نہیں ہوئی کہ چونکہ ان تمام اشیاء (لکڑیاں، شراب، علاج) کا کوئی نہ کوئی جائز استعمال موجود ہے (جیسے لکڑیاں کھانا پکانے کیلئے لینا، شراب کا انڈیل دینا، طوائفہ کا علاج کے بعد زنا نہ کرنا)، اور معصیت اس چیز کے عین میں قائم نہیں بلکہ فاعلِ مختار کے فعل سے وجود میں آتی ہے، لہٰذا بیچنے یا اجرت پر دینے والے کا فعل جائز رہا بشرطیکہ وہ خود گناہ کی نیت نہ کرے۔ احفظه فإنه يجنبك الخطأ في مواضع كثيرة، إن شاء الله.
(۲) موبائل گیمز میں میوزک و دیگر حرام عناصر شامل ہوں یا نہ ہوں، لہو لعب ہے۔ اور لہو و لعب بمطابق حکم قرآنی شرعاً ممنوع ہے۔ نیز ان گیمز میں کوئی فائدہ مند سرگرمی (ذہنی یا جسمانی نشاط)نہیں بلکہ اس میں وقت کا ضیاع ہے۔ پھر بعض اوقات گیمز میں مشغولیت سے اکثر نمازوں سے غفلت ہوجاتی ہے، اور بلا عذر شرعی نماز قضاء کرنا گناہ کبیرہ ہے۔پس گیمز کی ایسی ایپلی کیشنز بنانا مکروہ و ناجائز اور ان کی ڈویلپمنٹ کی آمدنی بھی ناجائز ہے، کہ یہ تعاون علی الاثم (یعنی گناہ کے کاموں پر معاونت) کے زمرے میں آئے گا (کہ یہاں معصیت متعین ہے) جو کہ حکم قرآنی میں ممنوع ہے۔
لہو و لعب کی تعریف میں مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یا ر خان نعیمی (المتوفی: 1391ھ) فرماتے ہیں: ”ناجائز چیزوں سے خوشی حاصل کرنا لعب ہے۔ بے فائدہ چیز میں مشغول ہو کر فائدہ مند چیز سے محرومی لہو ہے۔ جس کا ترجمہ اردو میں کھیل کود ہے، جس کا ظاہر خوش کن ہے، حقیقۃً کچھ نہیں۔ نادان بچے دن بھر ریت کے گھروندے بناتے ہیں اس سے دل بہلاتے ہیں پھر خود ہی بگاڑ کر اپنے گھر آ جاتے ہیں، یہ ہے لعب و لہو“۔ (تفسیر نعیمی، 7/290، مکتبۃ اسلامیۃ لاہور)
لہو و لعب سے متعلق سنن الترمذی کی روایت ہے: "كُلُّ مَا يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ بَاطِلٌ، إِلاَّ رَمْيَهُ بِقَوْسِهِ، وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، وَمُلاَعَبَتَهُ أَهْلَهُ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الحَقِّ".ترجمہ: ہر وہ چیز جس سے مسلمان کھیلتا ہے باطل ہے سوائے کمان سے اس کا تیر اندازی کرنا، گھوڑے کو تربیت دینا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ تینوں چیزیں اس کے لیے درست ہیں۔ (سنن الترمذی، کتاب فضائل الجہاد، باب ماجاء في فضل الرمي في سبیل اﷲ،3/226، الرقم: 1637، دار الغرب الإسلامي بیروت )
لہو و لعب کے حکم میں علامہ ابو الحسن علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں: "وَيُكْرَهُ اللَّعِبُ بِالشِّطْرَنْجِ وَالنَّرْدِ وَالْأَرْبَعَةَ عَشَرَ وَكُلِّ لَهْوٍ) ؛ لِأَنَّهُ إنْ قَامَرَ بِهَا فَالْمَيْسِرُ حَرَامٌ بِالنَّصِّ وَهُوَ اسْمٌ لِكُلِّ قِمَارٍ، وَإِنْ لَمْ يُقَامِرْ فَهُوَ عَبَثٌ وَلَهْوٌ. وَقَالَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «لَهْوُ الْمُؤْمِنِ بَاطِلٌ إلَّا الثَّلَاثَ: تَأْدِيبُهُ لِفَرَسِهِ، وَمُنَاضَلَتُهُ عَنْ قَوْسِهِ، وَمُلَاعَبَتُهُ مَعَ أَهْلِهِ".ترجمہ: شطرنج، نرد، اربعۃ عشر(ایک قسم کی شے جو یہودی استعمال کرتے ہیں) اور ہر قسم کا لہو مکروہ ہے، کیونکہ اگر اس میں جوّا کھیلا جائے تو جوّا نص کے مطابق حرام ہے، اور جوّا ہر اس چیز کا نام ہے جس میں قمار بازی ہو۔ اور اگر اس میں جوّا نہ بھی کھیلا جائے تو یہ عبث اور لہو ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کا لہو باطل ہے، سوائے تین چیزوں کے: اپنے گھوڑے کی تربیت، اپنے تیر سے نشانہ بازی، اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا۔(الهداية،كتاب الكراهية،4/380، دار احياء التراث العربي)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ہر کھیل اور عبث فعل جس میں نہ کوئی غرضِ دین نہ کوئی منفعتِ جائزہ دنیوی ہو ، سب مکروہ و بے جا ہیں ، کوئی کم کوئی زیادہ “ ۔(فتاوی رضویہ ، 24 / 78، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
تعاون علی الاثم سے متعلق قرآن مجید میں ہے: وَلَا تَعَاوَنُواعَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوااللَّہَ اِنَّ اللَّہَ شَدِیدُالْعِقَابِ۔ترجمہ: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔ (المائدۃ:2)
آیت مبارکہ کی تفسیرمیں احمد بن علی ابو بکر الرازی الجصاص الحنفی (المتوفی:370ھ) فرماتے ہیں: " نَهْيٌ عَنْ مُعَاوَنَةِ غَيْرِنَا عَلَى مَعَاصِي اللَّهِ تَعَالَى".ترجمہ:اللہ عزوجل کی نافرمانی پر دوسرے کی معاونت ممنوع ہے۔(احکام القرآن للجصاص،2/381، تحت سورۃ المائدۃ:2،دار الکتب العلمیۃ)
علامہ برہان الدین محمود بن احمد مازہ الحنفی (المتوفی:616ھ) فرماتے ہیں: "الإعانة على المعاصي والفجور والحث عليها من جملة الكبائر ".ترجمہ:گناہ اورفسق وفجورپر مددکرنااوراس پراُبھارنابھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔(المحیط البرھانی فی الفقہ النعمانی،کتاب الشھادات،الفصل الثالث ،8/312،دار الکتب العلمیۃ)۔ هذا ما ظهر للعبد الضعيف
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:10 ذو القعدہ 1447ھ/28 اپریل 2026ء