قرآن ترتیب سے پڑھنا افضل یا مخصوص سورتیں پڑھنا افضل؟

    Quran tartib se parhna afzal ya makhsoos surtain parhna afzal

    تاریخ: 3 مئی، 2026
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 1258

    سوال

    ایک شخص زید روزانہ باقاعدگی کے ساتھ قرآنِ مجید کی تلاوت کرتا ہے، وہ ترتیب کے ساتھ روزانہ تقریباً آدھا پارہ پڑھتا ہے اور اسی طرح ہر دو ماہ میں ایک مرتبہ مکمل قرآنِ مجید ختم کر لیتا ہے۔ دوسری طرف بکر قرآنِ مجید کو ترتیب کے ساتھ نہیں پڑھتا، بلکہ وہ روزانہ مخصوص سورتیں پڑھتا ہے، مثلاً: سورۃ یٰسین، سورۃ الرحمٰن، سورۃ الملک، اور تیسویں پارے کی وہ چھوٹی سورتیں جن کے پڑھنے کے فضائل بیان ہوئے ہیں۔ نیز رات کے وقت وہ سورۃ البقرہ کی آخری آیات اور سورۃ الحشر کی بعض آیات کی تلاوت بھی کرتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ: ان دونوں میں سے کس شخص کو زیادہ ثواب ملے گا؟ کیا ترتیب کے ساتھ پورا قرآن پڑھنا زیادہ افضل ہے یا مخصوص فضائل والی سورتوں کی پابندی کرنا زیادہ بہتر ہے؟ رہنمائی فرما دیں؟

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    عام حالات میں قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے وقت ترتیب واجب ہے۔ لیکن اگر مقصد ان مخصوص سورتوں کی تلاوت ہو جن کی فضیلت احادیث میں بیان ہوئی ہے (جیسے رات کے وقت سورہ ملک یا سورہ واقعہ وغیرہ پڑھنا)، تو ایسی صورت میں ترتیب کا پابند ہونا لازمی نہیں ہے۔ چونکہ اس وقت مقصد ان سورتوں کے خاص فضائل حاصل کرنا ہے، اس لیے ہر سورت ایک الگ عمل شمار ہوگی۔ لہٰذا، آپ اپنی پسند یا سہولت کے مطابق جسے چاہیں پہلے پڑھ سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج یا گناہ نہیں۔لیکن من حیث المجموع ترتیب سے پڑھنا افضل ہے۔