وراثت کی تقسیم اور ایک بچے کو زائد دینے کا حکم
    تاریخ: 4 مارچ، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 956

    سوال

    میرے دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، میں اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا چاہتا ہوں اسکا طریقہ بتادیں ۔ میرا یک بیٹا20 سال سے میرے ساتھ رہتا ہے سارا کاروبار بھی وہی چلاتا ہےاور ہر وقت میرا اور اپنی والدہ کا خیال بھی رکھتا ہے باقی سب بچے علیحدہ ہیں، کیا اس بچے کو دوسروں سے زیادہ دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ مجھے تفصیل سے بتائیں۔

    سائل:عبدالغفار: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر کوئی زندگی میں جائیداد اپنی اولاد کے مابین تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً اسکی اجازت ہے۔لیکن یہ تقسیم از قبیل ھبہ و گفٹ ہوگی ،ازقبیل وراثت نہیں ہوگی۔کیونکہ وراثت کسی شخص کے مال کی وہ تقسیم کہلاتی ہے جواسکی وفات کے بعد تقسیم کیا جائے۔زندگی میں جو کچھ دیا جائے وہ ھبہ و گفٹ کہلاتا ہے۔

    زندگی میں اپنا مال اولاد کے مابین تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے جتنا مناسب سمجھے اتنا مال و متاع اپنے لیے رکھ لے،اور اسکے بعد جو بچے وہ تمام بیٹوں اور بیٹیوں کے مابین برابر برابر تقسیم کر دے ۔بلاوجہ ایک اولاد کو دوسرے سے زائد دینا منع بلکہ مفتی بہ قول کے مطابق مکروہ ہے۔

    البتہ اگر کسی خاص وجہ سے کسی کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دینا چاہے تو حرج نہیں جبکہ دوسروں کو ضرر پہنچانے کی نیت سے نہ ہو، مثلاً کوئی بچہ زیادہ خدمت گزار ہے ،یا دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دین دار یا حاجت مند ہے تو اسے زیادہ دینا بھی جائز ہے۔ بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دے ان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)

    امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ در مختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ:اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا) مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3 صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)

    البحر الرائق میں ہے:'' يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ كَذَا فِي الْمُحِيطِ''ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکروہ ہے۔مگر کسی دینی فضیلت کی وجہ سے زیادہ دے تو جائز ہے۔ اور اگر سارا مال کسی ایک کو دیدے تو جائز ہے لیکن گنہ گار ہوگا۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ ج 7 ، ص:288 الشاملہ)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:18 محرم الحرام ا1444 ھ/17 اگست 2022 ء