تراویح میں ختم قرآن کا حکم
    تاریخ: 5 جنوری، 2026
    مشاہدات: 160
    حوالہ: 523

    سوال

    ایک دیہات ہےوہاں کےلوگ کہتےہیں کہ حافظ صاحب آپ تراویح میں آخری دس سورتیں(سورةالفیل تا سورةالناس) پڑھاکریں۔ اور اگر یہ سورتیں نہ پڑھی جائیں تووہ تراویح نہیں پڑھتے۔تو مفتی صاحب رہنمائی فرمائیں کہ کیاامام صاحب گناہ گارہونگے؟اورایساکرنادرست ہےیانہیں؟

    سائل:نعیم شاہ :کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مسئلہ کے جواب سے پہلے چند باتیں بطورِ تمہید ذکر کی جارہی ہیں :

    1:نماز تراویح کا حکم۔

    2:تراویح کی جماعت کا حکم۔

    3: تراویح میں ختمِ قرآن کا حکم :

    1:نماز تراویح کا حکم:

    تراویح مرد و عورت سب کے لئے بالاجماع سنتِ مؤکدہ ہے ، اسکا ترک جائز نہیں ہے۔خلفائے راشدین و دیگر صحابہ کرام نے اس پر مداومت فرمائی ہے۔ اور عامہ کتب فقہ میں یہی مذکور ہے۔

    مسبوط سرخسی میں ہے: التَّرَاوِيحَ سُنَّةٌ لَا يَجُوزُ تَرْكُهَا؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقَامَهَا ثُمَّ بَيَّنَ الْعُذْرَ فِي تَرْكِ الْمُوَاظَبَةِ عَلَى أَدَائِهَا بِالْجَمَاعَةِ فِي الْمَسْجِدِ وَهُوَ خَشْيَةُ أَنْ تُكْتَبَ عَلَيْنَا ثُمَّ وَاظَبَ عَلَيْهَا الْخُلَفَاءُ الرَّاشِدُونَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ مِنْ بَعْدِي» وَأَنَّ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - صَلَّاهَا بِالْجَمَاعَةِ مَعَ أَجِلَّاءِ الصَّحَابَةِ فَرَضِيَ بِهِ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حَتَّى دَعَا لَهُ بِالْخَيْرِ بَعْدَ مَوْتِهِ كَمَا وَرَدَ وَأَمَرَ بِهِ فِي عَهْدِهِ.ترجمہ:تراویح سنت(مؤکدہ)ہے جسکا ترک جائز نہیں ہےکیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح ادا فرمائی ہے پھرمسجد میں باجماعت ادائیگی کی مواظبت کے ترک کا عذر بیان فرمایا کہ اس بات کا خوف تھا کہ کہیں آپ ﷺ کے مواظبت فرمانے سے ہم پر فرض نہ ہوجائے۔ پھر خلفاء راشدین نے اس پر مواظبت فرمائی اور نبی کریمﷺ نے ارشادفرمایا کہ تم پر میری اور میرے بعد خلفاء راشدین کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجلاء صحابہ کی موجودگی میں تراویح باجماعت پڑھوائی ،پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اس سے راضی ہوئے حتٰی کہ انکی وفات کے بعد انکے لئے دعائے خیر فرمائی جیساکہ احادیث میں وارد ہوا، اورانہوں نے اپنے دور میں اسکا حکم ارشاد فرمایا۔(مبسوط سرخسی ، فصل فی کیفیۃ النیۃ فی صلاۃ التراویح ج 2ص 145)

    تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے:(التَّرَاوِيحُ سُنَّةٌ) مُؤَكَّدَةٌ لِمُوَاظَبَةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ (لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ) إجْمَاعًا۔ ترجمہ: تراویح مرد وعورت سب ے لئے سنت مؤکدہ ہے کیونکہ خلفاء راشدین نے اس پر مواظبت فرمائی۔( تنویرالابصار مع الدر المختار، جلد 2 ص 43)

    البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:ذَكَرَ فِي الِاخْتِيَارِ أَنَّ أَبَا يُوسُفَ سَأَلَ أَبَا حَنِيفَةَ عَنْهَا وَمَا فَعَلَهُ عُمَرُ فَقَالَ التَّرَاوِيحُ سُنَّةٌ مُؤَكَّدَةٌ وَلَمْ، يَتَخَرَّجْهُ عُمَرُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِهِ وَلَمْ يَكُنْ فِيهِ مُبْتَدِعًا وَلَمْ يَأْمُرْ بِهِ إلَّا عَنْ أَصْلٍ لَدَيْهِ وَعَهْدٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وهي سنة عين مؤكدة۔ترجمہ:الاختیار میں ہے کہ امام ابو یوسف نے امام اعظم ابوحنیفہ سے تراویح اور حضرت عمر کے فعل(جماعت تراویح )سے کاسوال کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ تراویح سنت مؤکدہ ہے اور یہ(جماعت تراویح)حضرت عمر کی خود کی ایجاد کردہ نہیں اور نہ ہی وہ اس معاملہ میں وہ بدعتی تھے اور انہوں نے یہ حکم ایک دلیل کے سبب دیا تھا جو انکے پاس تھی اور وہ رسول اللہ ﷺ کے دورِ مبارک میں جماعت کا قیام ہے۔اور یہ سنت عین یعنی سنت مؤکدہ ہے۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق، جلد 2 ص 71)

    حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:"التراويح سنة مؤکدۃ "بإجماع الصحابة ومن بعدهم من الأمة منكرها مبتدع ضال مردود الشهادة كما في المضمرات۔ترجمہ:تراویح سنت مؤکدہ ہے صحابہ اور تابعین کا اس پر اجماع ہے اسکا منکر بدعتی ،گمراہ اور مردودالشہادۃ ہے جیساکہ مضمرات میں ہے۔( حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ج 1 ص 411)

    2:تراویح کی جماعت کا حکم:

    تراویح کی جماعت سنت علی الکفایہ ہے یعنی اگر ایک مسجد کے تمام لوگوں نے چھوڑ دی تو سب کے سب گنہ گار ہونگے اور اگر چند لوگوں نے مسجد میں باجماعت پڑھ لی تو باقیوں سب سے بھی گناہ کا حکم ختم ہوجائے گا۔

    بدائع میں ہے:إنها سنة على سبيل الكفاية إذا قام بها بعض أهل المسجد في المسجد بجماعة سقط عن الباقين.ولو ترك أهل المسجد كلهم إقامتها في المسجد بجماعة فقد أساءوا وأثموا، ترجمہ:تراویح کی جماعت سنت علی الکفایہ ہے جب بعض اہل مسجد، مسجد میں باجماعت ادا کرلیں تو باقی لوگوں سے ساقط ہوجائے گی۔اور اگر سب اہل مسجد نے مسجد میں باجماعت نماز تراویح ترک کردی تو انہوں نے برا کیا اور سب گناہ گار ہونگے۔(بدائع الصنائع ،فصل فی سنن التراویح ج 1 ص288)

    تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے: وَصَلَاتُهَا بِجَمَاعَةٍ فِي كُلِّ مَحَلَّةٍ سُنَّةُ كِفَايَةٍ۔ ترجمہ:تراویح کی نما ز ہر محلے میں جماعت کے ساتھ سنت علی الکفایہ ہے۔( تنویرالابصار مع الدر المختار، ج 1ص 538)

    اسی میں ایک اور مقام پر ہے: وَالْجَمَاعَةُ سُنَّةٌ مُؤَكَّدَةٌ لِلرِّجَالِ) وَفِي التَّرَاوِيحِ سُنَّةُ كِفَايَةٍ،ترجمہ:جماعت مردوں کے لئے سنت مؤکدہ ہے جبکہ تراویح میں سنت علی الکفایہ ہے۔(ایضا ج 1 ص 552)

    مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے:والجماعة سنة فيها أيضا لكن على الكفاية ۔ترجمہ:اور اس تراویح میں جماعت بھی سنت ہے لیکن سنت علی الکفایہ ہے۔(مراقی الفلاح شرح نورالایضاح، فصل فی التراویح ج 1 ص 412)

    تراویح میں ختمِ قرآن کا حکم :

    تراویح سنت مؤکدہ ہے( جیساکہ گزرا )جبکہ تراویح میں ایک بار ختمِ قرآن سنت علی الکفایہ ہے۔اکثر کتب فقہ مثل تبیین، فتح، تنویر،ہدایہ، در مختار، ھندیہ و طحطاوی وغیرہ میں ختمِ قرآن کا حکم بلفظِ سنت بلاتاکید آیا ہے ،اورعباراتِ فقہاء سے یہی مستفاد،وفتاوٰی رضویہ سے یہی مصرح ہے۔

    مذکورہ بالا تمہیدات کے بعد جواب ملاحظہ ہو:

    اگر ختم قرآن کی وجہ سے لوگ تراویح ہی ترک کررہے ہیں تو بہتر ہے کہ ختم قرآن کے بجائے مختصر سورتیں پڑھی جائیں اور تراویح قائم کی جائے۔ایسا کرنا نہ صرف جائز بلکہ اولٰی ہے اور امام پر اسکا کوئی گناہ نہ ہوگا۔

    یہ اس لئے بھی جائزہےکہ اگر ختم قرآن کیا جائے تو لوگ تراویح ہی نہ پڑھیں گے(جیساکہ سوال میں ذکر ہوا) اس صورت میں اس حکم کی وجہ سے کہ جو سنت علی الکفایہ ہے ایک دوسرے حکم کا ترک لازم آئے گا ،جو کہ سنت مؤکدہ ہے اور سنت علی الکفایہ کی وجہ سے سنت مؤکدہ کا ترک ہر گز جائز نہیں۔

    بعض علماء نے تو تراویح میں ختم قرآن کے مسئلے میں لوگوں کے احوال کی رعایت کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص اپنے زمانے کے احوال سے واقف نہیں وہ جاہل ہے۔

    بلکہ اگر ختم قرآن،ترکِ تراویح تو کجا ،محض قلتِ جماعت کا سبب بن رہا ہو تو بھی ختم قرآن کو ترک کردینے کی اجازت موجود ہے ،کئی ایک کتب فقہ میں تصریح ہے کہ اگر تطویلِ قرات کے سبب جماعت میں قلت ہورہی ہو تو محض اتنا قرآن پڑھا جائے جس سے قوم متنفر نہ ہو کیونکہ تکثیرِ جماعت تطویل قرات سے افضل و اولٰی ہے۔

    تنویر الابصار مع الدر میں ہے:(وَالْخَتْمُ)مَرَّةً سُنَّةٌ وَمَرَّتَيْنِ فَضِيلَةٌ وَثَلَاثًا أَفْضَلُ.(وَلَا يُتْرَكُ)الْخَتْمُ (لِكَسَلِ الْقَوْمِ)لَكِنْ فِي الِاخْتِيَارِ،الْأَفْضَلُ فِي زَمَانِنَا قَدْرُ مَا لَا يَثْقُلُ عَلَيْهِمْ، وَأَقَرَّهُ الْمُصَنِّفُ وَغَيْرُهُ. وَفِي الْمُجْتَبَى عَنْ الْإِمَامِ: لَوْ قَرَأَ ثَلَاثًا قِصَارًا أَوْ آيَةً طَوِيلَةً فِي الْفَرْضِ فَقَدْ أَحْسَنَ وَلَمْ يُسِئْ، فَمَا ظَنُّك بِالتَّرَاوِيحِ؟ وَفِي فَضَائِلِ رَمَضَانَ لِلزَّاهِدِيِّ: أَفْتَى أَبُو الْفَضْلِ الْكَرْمَانِيُّ وَالْوَبَرِيُّ أَنَّهُ إذَا قَرَأَ فِي التَّرَاوِيحِ الْفَاتِحَةَ وَآيَةً أَوْ آيَتَيْنِ لَا يُكْرَهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عَالِمًا بِأَهْلِ زَمَانِهِ فَهُوَ جَاهِلٌ.ترجمہ:اور ایک بار ختم قرآن سنت ، دو بار فضیلت جبکہ تین بار افضل ہے۔ اور قوم کی سستی کہ وجہ سے ختم قرآن ترک نہیں کیا جائے گا۔ لیکن الاختیار میں ہے کہ ہمارے زمانے میں افضل یہ ہے کہ اتنا پڑھا جائے جو قوم پر ثقل کا باعث نہ بنے اور مصنف وغیرہ نے اسی کو برقرار رکھا۔ اور مجتبٰی میں امام سے منقول ہے کہ اگر کسی نے فرض میں تین چھوٹی یا ایک بڑی آیت پڑھی تو اس نے اچھا کیا نہ کہ برا ۔تو تراویح میں تیرا کیا خیال ہے ؟ اور زاہدی کی فضائل رمضان میں ہے کہ ابو الفضل کرمانی نے اور وبری نے فتوٰی دیا کہ اگر کسی نے تراویح میں سورۃ الفاتحہ اور ایک یا دو آیات پڑھیں تو مکروہ نہیں ہے اور جو شخص اپنے زمانے سے واقف نہ ہو تو وہ جاہل ہے۔

    اسکے تحت شامی میں ہے:(قَوْلُهُ وَالْخَتْمُ مَرَّةً سُنَّةٌ) أَيْ قِرَاءَةُ الْخَتْمِ فِي صَلَاةِ التَّرَاوِيحِ سُنَّةٌ وَصَحَّحَهُ فِي الْخَانِيَّةِ وَغَيْرِهَا، وَعَزَاهُ فِي الْهِدَايَةِ إلَى أَكْثَرِ الْمَشَايِخِ. وَفِي الْكَافِي إلَى الْجُمْهُورِ، وَفِي الْبُرْهَانِ: وَهُوَ الْمَرْوِيُّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْمَنْقُولُ فِي الْآثَارِ.ترجمہ: تراویح میں ختمِ قرآن سنت ہے اور اسی کو خانیہ وغیرھا میں صحیح قرار دیا اور ہدایہ میں اسکو اکثر مشائخ کی طرف اور کافی میں جمہور ی طرف منسوب کیا ۔ اور برہان

    میں ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ سے یہی منقول ہے اور آثار میں یہی منقول ہے۔

    شامی میں در کے قول والافضل فی زماننا کے تحت مذکور ہے: (قَوْلُهُ الْأَفْضَلُ فِي زَمَانِنَا إلَخْ) لِأَنَّ تَكْثِيرَ الْجَمْعِ أَفْضَلُ مِنْ تَطْوِيلِ الْقِرَاءَةِ حِلْيَةٌ عَنْ الْمُحِيطِ. وَفِيهِ إشْعَارٌ بِأَنَّ هَذَا مَبْنِيٌّ عَلَى اخْتِلَافِ الزَّمَانِ، فَقَدْ تَتَغَيَّرُ الْأَحْكَامُ لِاخْتِلَافِ الزَّمَانِ فِي كَثِيرٍ مِنْ الْمَسَائِلِ عَلَى حَسَبِ الْمَصَالِحِ، وَلِهَذَا قَالَ فِي الْبَحْرِ: فَالْحَاصِلُ أَنَّ الْمُصَحَّحَ فِي الْمَذْهَبِ أَنَّ الْخَتْمَ سُنَّةٌ لَكِنْ لَا يَلْزَمُ مِنْهُ عَدَمُ تَرْكِهِ إذَا لَزِمَ مِنْهُ تَنْفِيرُ الْقَوْمِ وَتَعْطِيلُ كَثِيرٍ مِنْ الْمَسَاجِدِ خُصُوصًا فِي زَمَانِنَا فَالظَّاهِرُ اخْتِيَارُ الْأَخَفِّ عَلَى الْقَوْمِ.ترجمہ:کیونکہ جماعت کی کثرت طولِ قرات سے افضل ہے ۔حلیہ نے محیط سے ذکر کیا ہے۔اور اس میں اس بات کی طرف آگاہی ہے کہ یہ (ختم قرآن فی التراویح)اختلاف زمان پر مبنی ہے ، کیونکہ زمانے کے اختلاف سے مصلحت کے پیشِ نظر بہت سے مسائل میں تبدیلی واقع ہوجاتی ہے اسی لئے بحر میں فرمایا :حاصل یہ ہے کہ صحیح مذہب یہ ہے کہ ختم قرآن سنت سے لیکن جب ختم قرآن سے قوم کا متنفر ہونا اور بہت سی مساجدکا ویران ہونا لازم آئے تواس صورت میں ختم قرآن کا اہتمام لازم نہیں آتابالخصوص ہمارے زمانے میں(جبکہ لوگ دینی امور میں غفلت اور سستی کا شکار ہیں۔)تو ظاہر یہ ہے کہ قوم پر تخفیفی معاملہ اختیار کیا جائے۔(رد المحتار علی الدر المختار شرح تنویرالابصار جلد 2 ص 47،46)

    حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے:"وسن ختم القرآن فيها" أي التراويح "مرة في الشهر على الصحيح" وهو قول الأكثر رواه الحسن عن أبي حنيفة رحمه الله۔ يقرأ في كل ركعة عشر آيات أو نحوها "وإن مل به" أي بختم القرآن في الشهر "القوم قرأ بقدر ما لا يؤدي إلى تنفيرهم في المختار" لأن الأفضل في زماننا ما لا يؤدي إلى تنفير الجماعة كذا في الاختيار وفي المحيط الأفضل في زماننا أن يقرأ بما لا يؤدي إلى تنفير القوم عن الجماعة لأن تكثير القوم أفضل من تطويل القراءة وبه يفتى. وقال الزاهد يقرأ كما في المغرب أي بقصار المفصل بعد الفاتحة۔ ترجمہ:اور تراویح میں پورے ماہ میں ایک بار ختم قرآن سنت ہے اور یہی اکثر کا قول ہے امام حسن نے امام اعظم ابوحنیفہ سے یہی روایت کیا ۔ ہر رکعت میں دس آیات یا دس آیات کی مقدار پڑھے ، لیکن اگر قوم رمضان میں ختم قرآن سے بے رغبتی کا اظہار کرے تو امام اتنافقط پڑھے کہ جس سے قوم متنفر نہ ہو۔کیونکہ ہمارے زمانے میں افضل یہ ہے کہ اتنا پڑھے جس سے جماعت متنفر نہ ہو اسی طرح الاختیار میں ہے اور محیط میں ہے کہ ہمارے زمانے میں افضل یہ ہے کہ اتنا پڑھے جس سے قوم جماعت سے متنفر نہ ہوکیونکہ قوم کی کثرت طولِ قرات سے افضل ہے ،اور اسی پر فتوٰی ہے۔اور زاہد نے فرمایا کہ تراویح میں اتنی قرات کرے جتنی مغرب میں ہوتی ہے یعنی فاتحہ کے بعد قصار مفصل (سورۃ البینہ سے الناس تک )پڑھے۔(حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح ، ص 414، 415)

    سیدی اعلٰی حضرت سے سوال کیا گیا کہ ایک حافظ صاحب تراویح پڑھانے کی وجہ سے روزے چھوڑتے ہیں ، آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں :سبحان اﷲ!نزد علماء قیام نماز کہ خود فرض است بغرض مراعات روزہ ساقط گردد اینجاروزہ رمضان بہرادائے سنّتے حاشا بلکہ بہر تفاخرے بہ حصول امامتے بلکہ بہر فعلے ناجائزے گناہے حرامے عفو مے شود ان ھذا الاجھل صریح او عناد قبیح ایں عزیز راگویند کہ حق سبحانہ، وتعالٰی صومِ رمضان بر تو وہمگناں فرض عین فرمودہ است و قرآن در تراویح ختم کردن نہ فرض ست ونہ سنتِ عین۔ترجمہ:سبحان اﷲ! علماء کے نزدیک روزہ کی خاطر نماز میں قیام ساقط ہوجاتا ہے حالانکہ یہ قیام فرض ہے صورتِ مذکورہ میں تو سنت کی خاطر نہیں بلکہ حصول امامت پر تفاخر کے لیے روزہ رمضان ترک کیا جارہا ہے بلکہ ناجائز، حرام اور گناہ فعل کے لیے ترک ہے، اللہ تعالٰی معاف فرمائے ۔یہ تو جہالت صریح اور عناد قبیح ہے اس عزیز سے کہا جائے کہ ا ﷲ سبحانہ وتعالٰی نے تجھ پر روزہ رمضان فرضِ عین فرمایاہے اور تراویح میں قرآن ختم کرنا نہ فرض نہ سنّتِ عین۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الصوم جلد 10 ص 335)

    کچھ آگے لکھتے ہیں:اے برادر! روزہ فرضِ عین ست و فرض عین بر فرضِ کفایہ مقدم وختمِ قرآن در تراویح سنّتِ کفایہ است وسنت کفایہ از سنت عین مؤخرایں چہ ستم بے خردی باشک کہ سنتِ کتایہ بر فرضِ عین مقدم دارند، من العلماء من وسع فی ترک الختم لکسل القوم قائلاان من لم یکن عالما باھل زمانہ فھو جاھل کما فی الدرمختار عن الزاھدی عن الو بری والکرمانی وفیہ عن الاختیار الافضل فی زماننا قدر مالا یثقل علیہم قال اقرہ الصنف وغیرہ وعن المجتبیٰ عن الامام لوقرأ ثلاثا قصارا او اٰیۃ طویلۃ فی الفرض فقد احسن ولم یسیئ قال الزاھدی فما ظنک بالتراویح۔ترجمہ:اے میرے بھائی! روزہ فرض عین ہے اور فرضِ عین فرضِ کفایہ پر مقدم ہوتا ہے، اور ختمِ قرآن تراویح میں سنتِ کفایہ ہے اور سنت کفایہ سنتِ عین سے مؤخر ہوتی ہے ، یہ کیا ظلم ہے کہ سنتِ کفایہ کو فرض عین پر مقدم کردیا گیا ہے، بعض علماء نے قوم میں سُستی و کاہلی پیدا ہوجانے کی وجہ سے ختمِ قرآن کو ترک کردینے کی بھی گنجائش یہ کہتے ہوئے روا رکھی ہے کہ جو شخص اپنے زمانے کے حالات سے آگاہ نہیں وُہ جاہل ہے جیسا کہ درمختار میں زاہدی سے اور وہاں وبری اور کرمانی کے حوالے سے ہے اور اسی میں الاختیارسے ہے کہ ہمارے زمانے میں اتنی مقدار افضل ہے جو بوجھ نہ نبے، اور کہا کہ اسے ہی مصنّف وغیرہ نے ثابت رکھا ہے، المجتبےٰ میں امام صاحب سے منقول ہے کہ اگر کسی نے فرائض میں تین آیات چھوٹی یا بڑی پڑھیں تو اس نے بہت اچھا کیا اور وہ گنہگار نہیں۔ زاہدی کہتے ہیں کہ پھر تراویح کے معاملہ میں آپ کی کیا رائے ہے؟۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الصوم جلد 10 ص 336)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:13 رمضان المبارک 1442 ھ/26 اپریل 2021 ء