سوال
آج کل سوشل میڈیا پر بحث کی جارہی ہے اور ایسی ویڈیوز بھی شیئر کی جارہی ہیں کہ لوگ تراویح قران ہاتھ میں لے کر سن اور پڑھ رہے ہیں ،ایسا کرنے والے اکثر لوگ غیر مقلدین ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنا کیسا ہے؟وہ بطورِ دلیل ایک حدیث پیش کرتے ہیں جوکہ بخاری شریف اور دیگر کتب میں ہے کہ حضرت ذکوان نے حضرت عائشہ امامت کی اور ذکوان دیکھ کر قرآن کی تلاوت کررہے تھے۔ اس حدیث کا معقول جواب دیجیے۔
سائل: محمد حنیف: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
دورانِ نماز قرآن پاک ہاتھ میں اٹھانااور اس میں دیکھ کر پڑھنا ضرور مفسدِ نماز ہے خواہ بعینہ مصحف شریف میں دیکھ کر پڑھے یا موبائل میں دیکھ کر پڑھے۔ اور اس فسادکی دو وجہیں ہیں، ایک یہ کہ عمل کثیر ہے کہ قرآن اٹھانے میں دونوں ہاتھ مشغول رہیں گے، قرآن کھولنے، بند کرنے اور اوراق پلٹنے میں بھی دونوں ہاتھ مشغول ہوں گے۔نیز جب کوئی غیر نمازی اسے دیکھے گا تو اسے نمازی نہ سمجھے گا ۔ سو اسکا عملِ کثیر ہونا واضح ہے اور بلاشبہ عملِ کثیر مفسدِ نماز ہے۔
دوسری یہ کہ یہ تعلیم و تعلّم کی قبیل سے ہے کہ نمازی جب قرآن پاک میں دیکھ کر تلاوت کرے گا تو گویا کہ قرآن پاک سے سیکھ کر تلاوت کرے گا اور نماز میں کسی سے سیکھنے کا عمل یعنی تعلم نماز کو توڑ دیتا ہے۔اور فقہاء نے اسے خارجِ نماز سے لقمہ لینے پر محمول کیا ہے کہ جیسے کوئی شخص نماز سے خارج شخص سے قرآن سیکھ سیکھ کر نماز میں اسکا تکرار کرے تو ضرور یہ مفسدِ صلوۃ ہے اسی طرح یہ بھی۔
عینِ مصحف میں تو یہ دونوں علتیں موجود ہیں کہ عملِ کثیر بھی ہے اور تَعَلُّم بھی ۔ ہاں۔۔۔۔! اگر موبائل سے دیکھ کر پڑھتا ہے تو اس صورت میں اگر عملِ کثیر نہ بھی ہو پھر بھی دوسری وجہ کا وجود ظاہر ہے۔ سو اس صورت میں بھی فسادِ صلوۃ کا حکم ہوگا۔
درمختارمیں ہے :(وقراتہ من مصحف )ای :مافیہ قرآن (مطلقا)لانہ تعلم ۔ ترجمہ: مصحف یعنی جس میں قرآن لکھاہے اس سے دیکھ کر تلاوت کرنا مطلقا مفسدنمازہے ، کیونکہ یہ سیکھنا ہے ۔
لانہ تعلم کے تحت علامہ شامی علیہ الرحمہ ردالمحتارمیں فرماتے ہیں : ذکروا لابی حنیفۃ فی علۃ الفساد وجھین ، احدھما ان حمل المصحف والنظر فیہ وتقلیب الاوراق عمل کثیر ، والثانی انہ تلقن من المصحف فصار کما اذا تلقن من غیرہ، وعلی الثانی لا فرق بین الموضوع والمحمول عندہ وعلی الاول یفترقان، وصحح الثانی فی الکافی تبعا للسرخسی۔ ترجمہ: علمائے کرام نے نماز فاسد ہونے کے متعلق امام اعظم علیہ الرحمہ کے مؤقف میں دو علتوں کو ذکر فرمایا ہے ، ان میں سے ایک یہ کہ قرآن پاک اٹھانا ، اس میں دیکھنا ، اس کے ورق پلٹنا عمل کثیر ہے ، اور دوسری علت یہ ہے کہ یہ قرآن پاک سے سیکھنا ہے لہذا یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی اور سے سیکھے ، دوسری علت کی بنا پر سامنے رکھے ہوئے اور اٹھائے ہوئے قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہو گا اور پہلی علت میں فرق واقع ہو گا ، دوسری علت کو کافی میں امام سرخسی کی اتباع کرتے ہوئے صحیح قرار دیا ہے ۔ (درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاۃ ، ، جلد02، صفحہ463-464، مطبوعہ کوئٹہ)
ہدایہ میں ہے: وإذا قرأ الإمام من المصحف فسدت صلاته عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى وقالا هي تامة " لأنها عبادة انضافت إلى عبادة أخرى " إلا أنه يكره " لأنه تشبه بصنيع أهل الكتاب ولأبي حنيفة رحمه الله تعالى أن حمل المصحف والنظر فيه وتقليب الأوراق عمل كثير ولأنه تلقن من المصحف فصار كما إذا تلقن من غيره وعلى هذا لا فرق بين المحمول والموضوع وعلى الأول يفترقان۔ترجمہ: اور جب امام مصحف سے قرات کرے تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی امام اعظم ابو حنیفہ کے نزدیک اور صاحبین صاحب نے فرمایا نماز تام ہے کیونکہ یہ ایک عبادت ہے جو دوسری عبادت سے مل گئی ہے مگر مکروہ ہے کیونکہ یہ اہل ِ کتاب کے فعل سے مشابہت ہے، امام اعظم کی دلیل یہ ہے کہ قرآن کو اٹھانا اور اس میں دیکھنا اور اوراق پلٹنا عمل کثیر ہیں اور اس لئے بھی اس نے مصحف سے لقمہ لیا ہے ایسا ہے جیسا کہ کسی غیر سے لقمہ لیا۔ اور اسی پر کہتے ہیں کہ اٹھائے ہوئے اور ارکھے ہوئے قرآن سے پڑھنے میں کوئی فرق نہیں لیکن پہلی صورت میں دونوں کا حکم الگ ہوگا۔(ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی، باب ما یفسد الصلوۃ جلد 1 ص 63 بیروت)
صاحب ہدایہ کےاس قول کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر قرآن اٹھا کر پڑھے تو اس میں عمل کثیر و تعلم دونوں کا وجود ہے اور اگر رکھے ہوئے قرآن سے دیکھ کر پڑھے تو اب عمل کثیر تو نہیں مگر فساد کی دوسری وجہ تعلم و تلقن ضرور موجود ہے، اس اعتبار سےان کا یہ قول وعلى هذا لا فرق بين المحمول والموضوع وعلى الأول يفترقان '' موبائل کے مسئلے پربھی منطبق ہوسکتا ہے کہ موبائل میں قرآن مجید سے دیکھ کر پڑھنا ایک ہاتھ کے استعمال سے ہوجاتا ہے سو یہ اس رکھے ہوئے مصحف کے مشابہ ہوا جس سے دیکھ کر پڑھا جائے برخلا ف اٹھائے ہوئے مصحف کے کہ اس میں عمل کثیر بھی ہے۔
فتاوٰی امجدیہ میں ہے: اگرچہ مصحف شریف کی طرف نظر کرنا عبادت ہے مگر اس میں دیکھ کر پڑھنا خارج سے تعلم ہے اور یہ منافی نمازجیسے زبان سے حالت نماز میں امر بالمعروف یا نہی عن المنکر کرنے سے نماز فاسد ہو جائے گی ، اگرچہ یہ دونوں عبادت ہیں مگر چونکہ منافی نماز ہیں لہذا نماز فاسد۔ (فتاوی امجدیہ ، جلد1، صفحہ185، مکتبہ رضویہ ، کراچی)
لہذا ثابت ہوا کہ مصحف سے دیکھ کر پڑھنا ضرور مفسدِ صلوۃہے خواہ عینِ مصحف شریف میں دیکھ کر پڑھے یا موبائل میں دیکھ کر پڑھے۔
حدیث ذکوان کا جواب:
اس حدیث کو امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے تعلیقاً ذکر کیاہے: وَکَانَتْ عَائِشَةُ یَؤُمُّھَا عَبْدُھَا ذَکوَانُ مِنَ الْمُصْحَفِ۔ترجمہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے غلام ذکوان قرآن دیکھ کر نماز پڑھاتے تھے۔ (صحیح البخاری، باب إمامة العبد والمولی، حدیث 692)
یہی روایت مصنف ابن ابی شیبہ میں اس طرح ہے: کَانَ یَؤُ مُّ عَائِشَةَ عَبْدٌ یَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ۔ ترجمہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے غلام ذکوان نماز پڑھاتے تھے اور وہ قرآن دیکھ کر قراء ت کرتے تھے۔(مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث:7293)
اس حدیث کے محدثین نے کئی جوابات دیئے ہیں: چناچہ علامہ عینی رحمہ اللہ تعالٰی رقمطراز ہیں: أثر ذکوان إن صح فھو محمول علی أنہ کان یقرأ من المصحف قبل شروعہ في الصلاة أي ینظر فیہ ویتلقن منہ ثم یقوم فیصلي، وقیل مادل فإنہ کان یفعل بین کل شفعین فیحفظ مقدار ما یقرأ من الرکعتین، فظن الراوی أنہ کان یقرأ من المصحف۔ ترجمہ: اس اثر کو اگر صحیح مان لیا جائے تو اس بات پرمحمول ہوگا کہ ذکوان نماز شروع کرنے سے پہلے قرآن دیکھتے تھے، پھر ذہن نشین کرکے نماز پڑھاتے تھے،کہا گیا ہے اس بات پر جو چیز دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ذکوان ہر دورکعت بعد یہ عمل کرتے اور اگلی دو رکعت میں جتنا پڑھنا ہوتا وہ یاد کرلیتے۔ اسی کو راوی نے یہ گمان کرلیا کہ وہ قرآن دیکھ کر قراء ت کرتے تھے۔(البنایہ شرح ہدایہ، جلد 2 ص 504)
ملک العلماء علامہ کاسانی رحمہ اللہ تعالٰی اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں: وأما حدیث ذکوان فیحتمل أن عائشة ومن کان من أھل الفتوی من الصحابة لم یعلموا بذلک وھذا ھو الظاھر بدلیل أن ھذا الصنیع مکروہ بلا خلاف ولو علموا بذلک لما مکنوہ من عمل المکروہ في جمیع شھر رمضان من غیرحاجة، ویَحْتَمِلُ أن یکون قول الراوي کان یوٴم الناس في شھر رمضان وکان یقرأ من المصحف إخبارا عن حالتین مختلفین أي کان یوٴم الناس في رمضان وکان یقرأ من المصحف في غیر حالة الصلاة۔ ترجمہ: سیدنا ذکوان والی حدیث میں احتمال ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر صحابہ کو معلوم نہ ہوا ہو کہ وہ دیکھ کرپڑھ رہے ہیں اوریہی مناسب بھی معلوم ہوتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ (نماز میں) قرآن دیکھ کر پڑھنا بالاتفاق مکروہ ہے۔ اگر انھیں اس حالت کاپتہ ہوتا تو ہرگز ایک مکروہ فعل کی بلاضرورت اجازت نہ دیتے وہ بھی پورے مہینے اور یہ بھی احتمال ہے کہ راوی کا یہ قول کہ ذکوان رمضان میں لوگوں کی امامت کرتے تھے اور قرآن دیکھ کر پڑھتے تھےدو الگ الگ حالتوں کی خبر دینا ہے، یعنی ذکوان رمضان میں لوگوں کی امامت کرتے تھے اور نماز سے باہر قرآن دیکھ کر پڑھتے تھے۔(بدائع الصنائع، جلد 2 ص 133، 134)
علامہ کاسانی اور علامہ عینی رحمة اللہ علیہما کی بات کی تائید اس اثر سے بھی ہوتی ہے جسے حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ نے ''التلخیص الحبیر'' میں اور شوکانی نے ''نیل الاوطار'' میں ذکر کیا ہے، اس اثر میں قرآن دیکھ کر پڑھنے کی بات ہی نہیں، روایت کے الفاظ یہ ہیں : عن ابن أبي ملیکة أنھم کانوا یأتون عائشة بأعلی الوادي ھو وعبید بن عمیر والمسور بن مخرمة وناس کثیر فیوٴمھم أبو عمر و مولی عائشة، وأبو عمر وغلامھا حینئذ لم یعتق۔ترجمہ: ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور عبید بن عمیر، مسور بن مخرمہ اور بہت سے لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آتے تھے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمرو سب کی امامت کرتے تھے اور وہ اس وقت تک آزاد نہیں ہوئے تھے۔(التلخیص الحبیر، جلد 2 ص 110، نیل الاوطار، باب إمامة العبد الأعمی والمولی:586)
انور شاہ کاشمیری نے یہ جواب دیا ہے کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ذکوان دن میں قرآن مصحف سے دیکھ کر یاد کرتے تھے اور رات کو سنایا کرتے تھے، روایت میں ’’من المصحف‘‘ کے الفاظ ہیں نہ کہ قرآن کو اٹھانے کے:فتأوَّله بعضُهم أنه كان يَحْفَظُ من المُصْحَف في النهار، ويقرؤه في الليل عن ظَهْرِ قلب،قلتُ: إن كان ذَكْوَان يقرأُ من المُصْحَفِ، ولنا ما رواه العَيْنِي رحمه الله: أن عمر رضي الله عنه كان ينهى عنه، ورأيتُ في الخارج: أنه كان من دَأْب أهل الكتاب، فإِنهم لايتمكَّنون أن يقرأوا كُتُبهم عن ظَهْر قلبٍ، على أنه مخالفٌ للتوارث قطعًا۔ترجمہ: بعض نے تاویل کی ہے کہ ذکوان دن میں قرآن مصحف سے دیکھ کر یاد کرتے تھے اور رات کوزبانی سنایا کرتے تھے، ہماری ایک دلیل یہ بھی ہے کہ حضرت عمر اس سے منع کیا کرتےتھے اور میں نے فی الواقع یہی دیکھا ہے کہ یہ اہل کتاب کا طریقہ ہے کیونکہ وہ اپنی کتب زبانی نہیں
پڑھ سکتے ، اسکے علاوہ یہ توارث کے قطعاً مخالف بھی ہے۔
اہل حدیث کے نامور محدث البانی نے اس حدیث سے عمومی حالات کی نفی کی ہے، چناچہ سعودی مفتی شیخ ابوانس محمد بن فتحی آل عبد العزیز اور شیخ عبدالرحمن محمود بن الملاح نے اپنی کتاب ”فتح الرحمٰن في بیان ہجر القرآن“ میں شیخ البانی کا یہ فتوی نقل کیاہے:لا نری ذلک، وما ذکر عن ذکوان حادثة عین لاعموم لھا، وبإباحة ذلک لأئمة المساجد یوٴدي بھم إلی ترک تعاھد القرآن والعنایة بحفظہ غیبا وھذا خلاف قولہ صلی اللہ علیہ وسلم: تعاھدوا القرآن فوالذي نفسي بیدہ لھو أشد تفصیا من الإبل في عقلھا، ومعلوم أن للوسائل حکم الغایات کقولھم مالا یقوم الواجب إلا بہ فھو واجب وما یوٴدي إلی معصیة فھو معصیة۔ترجمہ: ہم اسے درست نہیں سمجھتے اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے لیے سیدنا ذکوان کی امامت کا جو واقعہ ذکر کیا جاتا ہے وہ ایک جزوی اور خصوصی واقعہ ہے، عمومی نہیں ہے اور اگر ائمہ مساجد کو اس کی اجازت دے دی جائے تو قرآن کریم کا حفظ ومراجعہ اور حفاظتِ قرآن کی کوشش وغیرہ تمام امور رفتہ رفتہ رخصت ہوجائیں گے؛ جب کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے خلاف ہے: ”قرآن پاک کی نگہ داشت کرو، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، یقینا قرآن کریم رخصت ہونے اور سینوں سے نکل جانے میں اونٹ کے اپنے بندھن سے بھاگنے اور رخصت ہوجانے سے زیادہ تیز ہے اوریہ بھی معلوم ہے کہ وسائل کا حکم بھی غایات کے مثل ہے، مثلاً علماء کا قول ہے کہ جس چیز کے ذریعہ کسی واجب کی بقاء اور قیام ہو وہ بھی واجب ہوجاتی ہے اور جو شے کسی معصیت کاذریعہ ہو وہ شے بھی معصیت اور گناہ ہوتی ہے۔ (فتح الرحمن:ص 124، 125)
ان ہی کے ایک اور امام ابن حزم ظاہری لکھتے ہیں: ولا یحل لأحد أن یوٴم وھو ینظر ما یقرأ بہ في المصحف لا في فریضة ولا نافلة، فإن فعل عالما بأن ذلک لایجوز بطلت صلاتہ وصلاة من ائتم بہ عالما بحالہ عالما بأن ذلک لا یجوز۔ ترجمہ: کسی ایسے شخص کے لیے امامت کرنا جائز نہیں ہے جو قرآن میں دیکھ کر قراء ت کررہاہو، نہ فرض نماز میں اورنہ نفل نماز میں،اگر کسی شخص نے ایسا کیا یہ جانتے ہوئے کہ یہ جائز نہیں اس کی نماز باطل ہوجائے گی اور اس کی اقتداء میں جو نماز پڑھ رہا ہے اس کی نماز بھی باطل ہوجائے گی؛ جب کہ اسے امام کی حالت کا علم ہو کہ وہ نماز کے منافی کام کررہا ہے۔ (المحلی: جلد 3 ص 140)
اسکے علاوہ دورانِ نماز قرآن مجید دیکھ کر پڑھنے میں کئی اور مفاسد ہیں ، جن میں سے چند ایک بیان کئے جاتے ہیں:
1:حفظِ قرآن میں خلل:
تراویح کا یہ طریقہ حفاظتِ قرآن کے لیے سمِ قاتل سے کچھ کم نہیں، اس سے حفاظتِ قرآن کا ایک اہم ذریعہ متاثر ہوجائے گا، کیوں کہ حفاظت قرآن کے لیے دو طریقے اختیار کیے گئے ہیں، ایک سینہ، دوسرے صحیفہ۔ پہلا ذریعہ تو اسلام کے امتیازات میں سے ہے، حفاظتِ قرآن کا یہ بے نظیر اور عظیم الشان طریقہ پہلی قوموں میں نہیں پایا جاتا، آج امت تک اگر قرآن من وعن پہنچا ہے تو اس میں صحیفہ سے زیادہ سینہ کا دخل ہے۔
شیخ صابونی نے التبیان میں فضیل بن عیاض کا یہ قول نقل فرمایا:'' حَامِلُ الْقُرْآنِ حَامِلُ رَأْیَةِ الْاِسْلَامِ '' ترجمہ: حافظِ قرآن درحقیقت اسلام کا علمبردار ہے۔(التبیان فی علوم القرآن :ص 55)
یونہی حدیث پاک میں حفظِ قرآن کی تاکید کی گئی ہے جبکہ دیکھ کر پڑھنا حفظ کے منافی ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تَعَاھَدُوا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ لَھُوَ أَشَدُّ تَفَصِّیًا مِنَ الإِبِلِ فِي عُقُلِھَا۔ترجمہ: قرآن کی نگہہ داشت کرو، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، یقینا قرآن کریم رخصت ہونے اور سینوں سے نکل جانے میں اونٹ کے اپنے بندھن سے بھاگنے سے زیادہ تیز ہے۔(صحیح البخاری، حدیث:5033)
2:قیام کی حالت میں نگاہ کاموضع سجدہ سے انحراف:
قیام کی حالت میں مصلی کے لیے مستحب ہے کہ نگاہ سجدہ کی جگہ پر ہو،تاکہ خشوع و خضوع اور دلجمعی پیدا ہوتی ہے ، جبکہ دیکھ کر قرآن پڑھنے کی صورت میں نگاہ یقینا ًقرآن مجید کے صفحات و حروف پر ہوگی، جس سے نماز کا ایک اہم ادب فوت ہوجائے گا۔
محررِ مذہبِ حنفی امام محمد موطا میں لکھتے ہیں: ینبغی للمصلي اذا قام في صلاتہ أن یرمي ببصرہ الی موضع سجودہ، وھو قول أبی حنیفة رحمہ اللہ۔ ترجمہ: مصلی جب قیام کی حالت میں ہو چاہیے کہ وہ اپنی نگاہ سجدہ کی جگہ پر رکھے اور یہی امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کاقول ہے۔(الموطا، باب وضع الیمین علی الیسار، حدیث:291)
3: سنت و توارث کی مخالفت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِي أُصَلِّيْ۔ ترجمہ:اس طرح نماز پڑھو جیسے تم لوگ مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔(صحیح البخاری، حدیث:631)
دورِ نبوی کی تیئس سالہ زندگی میں کہیں یہ ثابت نہیں کہ آپ علیہ السلام نے یاآپ علیہ السلام کی موجودگی میں صحابہ نے نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھا ہو،حتی کہ ابتدائی دور میں تو نماز میں بات چیت کرنے کی اجازت بھی تھی، لیکن اس دور میں بھی دیکھ کر پڑھنا ثابت نہیں۔
یونہی دوسر ی حدیث میں فرمایا : عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِيْ وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَھْدِیِّیْنَ الرَّاشِدِیْنَ۔ترجمہ: میری سنت (میرے طریقے) کو اور خلفاء راشدین کی سنت (کے طریقے) کو لازم پکڑو۔(سنن ابو داود، حدیث:4607)
عہد خلفاء راشدین میں بھی کوئی ایسی نظیر نہیں ملتی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ اُن حضرات نے نماز میں قرآن دیکھ کر قراء ت کرنے کی اجازت دی ہے، بلکہ سیدنا عمرسے ممانعت ضرور ثابت ہے۔ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نَھَانَا أمیرُ المُوٴمِنِیْنَ عُمَرُ رضی اللہ عنہ أَن یَؤمَّ النَّاسَ فِي الْمُصْحَفِ، وَنَھَانَا أَن یَّؤ مَّنَا اِلَّا الْمُحْتَلِمُ۔ترجمہ: ہمیں امیرالمومنین عمر بن خطاب نے اس بات سے منع کیا کہ امام قرآن دیکھ کر امامت کرے اور اس بات سے منع کیا کہ نابالغ امامت کرے۔(ابو داؤد، کتاب المصاحف، ہل یوٴم القرآن فی المصحف:حدیث :189)
اسکے علاوہ اور دیگر کئی اور وجوہات ہیں ، ڈاکٹر صالح بن محمد الرشید نے اپنی کتاب ”المتحف في أحکام المصحف“ میں قرآن دیکھ کر قراء ت کرنے میں جو خرابیاں ہیں ان کو اختصار کے ساتھ ذکر کیاہے، فرماتے ہیں:ویشغل عن بعض سننھا وھیئاتھا فیفوت سنة النظر في موضع السجود ووضع الیمنی علی الشمال ویفضي إلی التشبہ بأھل الکتاب فضلا عن کونہ إحداثا في الدین لم یرد الشرع بإباحتہ۔ترجمہ: قرآن میں دیکھ کر قرأت کرنا نماز کی بعض سنتوں اور نماز پڑھنے کی بعض مخصوص کیفیات کے خلاف ہے؛ چنانچہ سجدہ کی جگہ نظر رکھنے کی سنت فوت ہوجاتی ہے، ہاتھ باندھنے کی سنت فوت ہوجاتی ہے، دیکھ کر قرأت کرنے سے اہلِ کتاب سے تشبہ پیدا ہوتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ دین میں ایسی چیز کا ایجاد کرنا ہے جس کی شریعت نے اجازت نہیں دی ہے۔ (المتحف في أحکام المصحف:ص 25)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:8 رمضان المبارک 1444 ھ/30 مارچ 2023 ء