وراثت کے ایک مسئلے کا حکم شرعی

    wirasat ke ek masle ka hukam sharai

    تاریخ: 16 مئی، 2026
    مشاہدات: 32
    حوالہ: 1354

    سوال

    میرا سوال یہ ہے کہ میرے شوہر کا انتقال ہوا ہے اولاد نہیں ہے، انکے والدین بھی پہلے ہی فوت ہوگئے ، اور انکا بھائی بھی کوئی نہیں ایک بھائی تھا لیکن وہ 3 سال کی عمر میں ہی فوت ہوگیا تھا ، اسکے علاوہ انکی چھ بہنیں ہیں ۔ان کے دومکان تھے ایک انکا اپنا جو انکے والد نے ہی انکے نام کیا تھا، اور وہ اس میں رہتے تھے ، والد والے مکان میں انکی بہنیں رہتیں ہیں اور کچھ حصہ کرائے پر دیا ہوا ہے اسکا کرایہ بھی وہی لیتی ہیں، اسکے علاوہ جو دوسرا مکان ہے ، اور ایک دوکان بھی ہے جس میں تقریبا 2 لاکھ کاسامان موجود ہے ،اور اسکے علاوہ جنریٹر،فرج،ڈیپ فریزر،واشنگ مشین،وگیرہ بھی انکی ملکیت میں ہے۔انتقال سے پہلے انہوں نے وصیت کی تھی کہ میری دو بہنوں کو 3،3 لاکھ اور چار بہنوں کو 1،1 لاکھ روپے دے دینا ،باقی رقم جو ملے اس پر تمہارا حق ہے۔

    میرے سوالات یہ ہیں کہ مجھے بتائیں کہ

    1:۔ شوہر کا مکان میرے نام ہوسکتا ہے یا پھر اس میں میرا کیا حق ہے،میرا کتنا حصہ ہے ؟

    2:۔ جو مکان سسر کا ہے جس میں اسکی بہنیں رہتی ہیں اس میں میرا کتنا حصہ ہے ؟ اور چھ بہنوں کا کتنا حصہ ہے؟

    3:۔ صرف مکان میں حصہ ہے یا پھر دوکان اور جو سامان ہے جنریٹر وغیرہ اس میں بھی سب کا حصہ ہے؟

    4:۔ اور میرے شوہر نے جو وصیت کی تھی کیا اس پر عمل کیا جائے گا یا نہیں؟

    5:۔ میرا حق مہر بھی ادا نہیں کیا گیا ، کیا حق مہر بھی اسی رقم سے دیا جائے گا یا پھر معاف ہوجائے گا؟

    سائلہ: منزہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1،2:۔والد کے مکان اور دوکان اور جو سامان ہے اسکی تقسیم اس طرح ہوگی کہ اس کل وراثت کے 32 حصے کیے جائیں گے جس میں سے آپکو دو حصے ملیں گے اور ہر بہن کو پانچ پانچ حصے دیئے جائیں گے۔

    اور جو آپکے شوہر مکان اور جو سامان چھوڑ کر مرے ہیں اس کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ اس میں سے 8 حصے کیے جائیں گے جس میں سے آپکو 2 حصے اور ہر بہن کو ایک ایک حصہ ملے گا ۔

    مذکورتقسیم اللہ کے بیان کردہ حصوں کے مطابق ہے ،

    بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ:ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    لڑکیوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ:ترجمہ: پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگردو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی۔

    3:۔ جو کچھ سامان ان کی ملکیت میں تھااس سب میں سے تمام ورثاء کو انکے حصوں کے مطابق حصہ ملے گا۔

    مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ.:ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔

    ( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )

    4:۔ آپکے شوہر نے جو وصیت کی اس وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا ، کیونکہ آپکے شوہر کی بہنیں انکی وارث بن رہی ہیں اور

    شریعت میں وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں ہے ،

    بدائع الصنائع میں ہے(وَمِنْهَا) أَنْ لَا يَكُونَ وَارِثُ الْمُوصِي وَقْتَ مَوْتِ الْمُوصِي، فَإِنْ كَانَ لَا تَصِحُّ الْوَصِيَّةُ لِمَا رُوِيَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ «إنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ»:ترجمہ:ور موصیٰ لہ ( جس کے لیے وصیت کی جارہی ہے ) کی شرط یہ بھی ہے کہ وہ موصی(وصیت کرنے والے) کی موت کے وقت اسکا وارث نہ ہو، اگر وارث ہوگا تو اسکے حق میں وصیت صحیح نہیں ہے، کیونکہ حضرت ابو قلابہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد رمایا کہ اللہ تعالی نے ہر وارث کو اس کا مکمل حق دے دیا ہے لہذا وارث کے حق میں وصیت نہیں ہے۔( بدائع الصنائع کتاب الوصایا فصل فی شرائط رکن الوصیۃ جلد 7 ص 337 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)

    5:۔ جی ہاں اگر آپ کا حق مہر ادا نہیں کیا گیا تو حق مہر کی رقم کل وراثت سے نکال کر جو بچے وہ بشمول آپکے تمام ورثاء میں انکے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔حق مہر ایک طرح کا قرض ہے اور میت کے ترکہ یعنی جو مال اس نے چھوڑا اس سے اس میت کے کفن دفن کا خرچہ نکالنے کے بعد سب سے پہلے اسکے ذمہ واجب الاداء قرض کی ادائیگی کی جاتی ہے ۔

    السراجی فی المیراث ص 5پر ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ:ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی،پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:27ذوالحجہ 1439 ھ/07ستمبر 2018 ء