بھائی کی منکوحہ کی بیٹیوں سے نکاح کرنا
    تاریخ: 13 نومبر، 2025
    مشاہدات: 32
    حوالہ: 110

    سوال

    زیدنے ایک عورت سے شادی کی ہے ۔اور اس عورت کی سابقہ شوہر سے دو بیٹیاں ہیں ۔نکاح کے وقت ان میں سے ایک کی عمر 7 سات تھی اور ایک کی 9 سال تھی ۔کیا زیدکا بھائی ان بیٹیوں میں سے کسی سے نکاح کرسکتا ہے۔برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں؟

    سائل :محمد فاروق بخاری:کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں زیدکا بھائی اپنی بھابھی کے سابقہ شوہرسے ہونے والی بیٹیوں میں سے جس سے چاہے نکاح کر سکتا ہے۔مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ یہاں حرمت تین صورتوں میں متوقع ہے: نسب ،رضاعت ،مصاہرت (سسرالی رشتہ) ۔اوریہاں تینوں ہی مفقود ہیں ۔نسب سے اس لئےکہ یہ لڑکیاںزید کے نطفے سے پیدا نہیں ہوئیں۔اوررضاعت سے اسلئےکہ جب زید سے انکی والدہ کی شادی ہوئی توانکی عمر رضاعت گزر چکی تھی اور مصاہرت سے اسلئے کہ مصاہرت کے سبب حرام ہونے والی عورتوں کی چار قسمیں ہیں۔اور چار قسموں میں کوئی بھی قسم یہاں نہیں پائی جارہی ۔لہذا زید کا بھائی ان لڑکیوں میں سے جس سے چاہے نکاح کرسکتا ہے۔

    محرمات کی ان چار صورتوں کی بابت فتاوی عالمگیری میں ہے: الْمُحَرَّمَاتُ بِالصِّهْرِيَّةِ. وَهِيَ أَرْبَعُ فِرَقٍ: (الْأُولَى) أُمَّهَاتُ الزَّوْجَاتِ وَجَدَّاتُهُنَّ(وَالثَّانِيَةُ) بَنَاتُ الزَّوْجَةِ وَبَنَاتُ أَوْلَادِهَا وَإِنْ سَفَلْنَ بِشَرْطِ الدُّخُولِ بِالْأُمِّ،(وَالثَّالِثَةُ) حَلِيلَةُ الِابْنِ وَابْنِ الِابْنِ وَابْنِ الْبِنْتِ وَإِنْ سَفَلُوا دَخَلَ بِهَا الِابْنُ أَمْ لَا. (وَالرَّابِعَةُ) نِسَاءُ الْآبَاءِ وَالْأَجْدَادِ مِنْ جِهَةِ الْأَبِ أَوْ الْأُمِّ وَإِنْ عَلَوْا .ترجمہ:وہ محرمات جو سسرالی رشتے کے سبب ہیں ان کی چار قسمیں ہیں:پہلی: بیویوں کی ماں دادی اور نانی وغیرہ اور دوسری :بیوی اور بیوی کی اولاد کی بیٹیاں اورنیچے تک ۔ماں(اصل)سے دخول کی شرط کے ساتھ۔ اور تیسری :بیٹے ،پوتے اور نواسے کی بیٹیاں اور اسی طرح نیچے تک۔اگرچہ بیٹے (فرع)نے ان سے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو۔چوتھی: باپ دادااور نانا وغیرہ کی منکوحہ اور اسی طرح اوپر تک۔(فتاوٰی عالمگیری،جلد:1،ص:274،دارالفکر بیروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب الصحیح :مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 16ذوالحجۃ1442 ھ/26جولائی 2021 ء