شادی شدہ عورت سے زنا کرنے کا حکم اور اس سے پیدا ہونے والے بچے کا حکم
    تاریخ: 13 نومبر، 2025
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 105

    سوال

    ایک شادی شدہ شخص نےایک شادی شدہ عورت سے زنا کیا اور اس زنا کے سببعورت کے یہاں بچے کی ولادت بھی ہوگئی ۔شوہر نے اگرچہ عورت کے ساتھ صحبت کی تھی لیکن عورت کے بیان کے مطابق صحبت کے بعداسے ایک حیض آیا تھااور اسکے بعد اس شخص کے ساتھ اس نے زنا کیا اوراس زناکے سبب حمل ٹھرا۔ حیض آنے کا علم شوہر کو نہیں تھا جس کی وجہ سے شوہر یہ بچہ اپنا سمجھ رہا ہے ۔ ایسے شخص اور عورت کے لیے شرعاً کیا حکم ہوگا ۔نیز کیا اس بچے کا نسب شوہر کےساتھ قائم کر سکتے ہیں؟ سائل:عبداللہ:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    شادی شدہ مرد و عورت اگر زنا کریں اور وہ ثابت ہو جائے تو اس کی سزا شریعت کی طرف سے رجم ہے یعنی دونوں کو سنگسار کیا جائے لیکن یہ حکومت اسلامیہ کا کام ہے عوام کو اس کی اجازت نہیں ، اور آج کل حکومت کی طرف سے بھی ان حدود پر عمل نہیں ،پس صورت مستفسرہ میں زانی و زانیہ پر توبہ فرض ہے تو وہ توبہ واستغفار کریں ، گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور صدقہ وخیرات کرتے رہیں کہ یہ توبہ میں معاون ومددگار ہوگا۔ نیز بچے کا نسب شوہر سےہی ثابت ہوگا۔

    مسلم شریف میں ہے: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ قَدْ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، فَكَانَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ، قَرَأْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا وَعَقَلْنَاهَا، فَرَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ، فَأَخْشَى إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ: مَا نَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللهُ، وَإِنَّ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللهِ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أَحْصَنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ، أَوْ كَانَ الْحَبَلُ، أَوِ الِاعْتِرَافُ. ترجمہ: حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اور آپ حضورﷺ کے منبر پر تشریف فرما تھے: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ ﷺپر کتاب نازل فرمائی، اللہ نے آپ پر جو نازل کیا اس میں رجم کی آیت بھی تھی، ہم نے اسے پڑھا، یاد کیا اور سمجھا، اس لیےآقائے دوجہاںﷺ نے بھی رجم کی سزا دی اور آپﷺ کے بعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی، مجھے ڈر ہے کہ لوگوں پر ایک لمبا زمانہ گزر جائے گا تو کوئی کہنے والا کہے گا: ہم اللہ کی کتاب میں رجم (کا حکم) نہیں پاتے، تو وہ لوگ ایسے فرض کو چھوڑنے سے گمراہ ہو جائیں گے جسے اللہ نے نازل کیا ہے اور بلاشبہ اللہ کی کتاب میں زنا کرنے والے شادی شدہ مرد اور عورت کے لیےرجم (کا حکم) برحق ہے۔ (یہ سزا اس وقت دی جائے گی،) جب شہادت قائم ہو جائے یا حمل ٹھہر جائے یا (زانی کی طرف سے) اعتراف ہو۔(صحیح مسلم،رقم:4418)

    اور جب بندۂ مومن سے کوئی گناہ سر زدہوجائے تو اسے رحمٰن عزّوجل کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ وہ ربّ بڑا کریم ہے وہ گناہوں کو بخش دیتا ہے،چناچہ ارشاد باری تعالٰی ہے:قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ترجمہ: تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ،اللہ کی رحمت سے نااُمید نہ ہو بےشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے ۔بےشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔(الزمر:53)

    اسی طرح توبہ کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آ گے کو نصیحت ہوجائے ،قریب ہے کہ تمہارا رب تمہاری برائیاں تم سے اُتار دے(التحریم:8)

    اسی طرح گناہ سے توبہ کرنے کی بابت حدیثِ مبارک میں ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَبْلُغَ خَطَايَاكُمْ السَّمَاءَ ثُمَّ تُبْتُمْ لَتَابَ عَلَيْكُمْ ترجمہ:سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے نبی کریمﷺنے فرمایا:اگر تم اتنے گناہ کرو کہ تمہارے گناہ آسمانوں تک پہنچ جائیں ، پھر تم توبہ کرو تو اللہ تَعَالٰی تمہاری توبہ قبول فرمالے گا۔(سنن ابن ماجہ،رقم:4248)

    ایک اور حدیث ِمبارک میں ہے: عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ، كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ»ترجمہ:سیدنا عبیدہ بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہسےمروی ہے ،وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ،آپ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ،نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا:گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو(سنن ابن ماجہ،رقم:4250)

    اعلٰحضرت امام اہلسنت مجد د دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے پوچھا گیا: زید نے اپنی بیوی کو یہ کہہ کر نکال دیا کہ عورت خراب اور بدکار ہے، پس وہ عورت مذکورہ ایک مدت آوارہ طور پر پھر اکی، اب زید نے اس عورت کو اپنے مکان میں لاکر رکھ لیا، مکان میں داخل ہونے کے تین ماہ بعد دختر پیداہوئی، اس صورت میں اول تو یہ کہ زید کا نکاح نکاح رہا یا نہیں؟دوسرے یہ کہ وہ لڑکی زید کی قرار دی جائے گی یاحرام کی؟اس کے جواب میں آپ ارشاد فرماتے ہیں: صرف نکال دینے سے زید کے نکاح میں کچھ فرق نہ آیا، لڑکی زید ہی کی قرار پائے گی اگرچہ ایام آوارگی میں یہ عورت کبھی زید کے پا س نہ آتی اور مکان میں واپس آتے ہی اسی دن لڑکی پیدا ہوجاتی۔ قال رسول اﷲﷺالولدللفراش وللعاھرالحجر۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کا نسب نکاح والے سے ہوگا اور زانی کو محرومی ہے۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:13،ص:360،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــه:محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب الصحیح:مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29شوال المکرم1442 ھ/10جون 2021 ء