سوال
1:عورت کو اپنے باپ اور بھائی کے سامنے بھی اتنے ہی پردے میں رہنا چاہیے جتنا کہ نا محرم کے سامنے ؟
2:اسلام میں داماد سے پردے کے لئے کیا حکم ہے؟جب داماد گھر آئے تو اسے درائنگ روم میں بٹھا کر وہیں سے واپس بھیج دیا جائے یاوہ باقی گھر والوں کے ساتھ اٹھ بیٹھ سکتا ہے کھانا پینا کرسکتا ہے یا نہیں ؟
سائل:آغا فیضان:کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1:غیر محارم کےحق میں ان پانچ اعضاءچہرہ،دونوں ہاتھ پہنچوں سمیت ،اور دوونوں پاؤوں کا ظاہری حصہ کےعلاوہ عورت کا تمام بدن ستر (پردہ )ہے ۔ جیسا کہ علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : وللحرة جمیعُ بدنہا خلا الوجہ والکفین والقدمین علی المعتمد ترجمہ: معتمد قول کے مطابق آزاد عورت کےلیے سارے بدن کا چھپانا فرض ہے ،سوائےچہرے ،ہتھیلیوں اور دونوں پاؤں کے۔(الدر المختار جلد1 صفحہ 405 مطبوعہ : دار الفكر-بيروت)
جبکہ محارم کے حق میں عورت کا تمام بدن کاستر نہیں ،بلکہ محارم کے لئے عورت کے ستر میں ناف سے لے کر گھنٹے تک ،پیٹ اور پیٹھ شامل ہے۔ یعنی محارم کے سامنے ان پانچ اعضاء کے علاوہ بال، دونوں کان،گردن،گلا، سینہ کا بالائی حصہ ، دونوں ہاتھوں بازووں سمیت اور پنڈلی کھل جائے تو گناہ نہیں ہے۔ کیونکہ محرم کے حق میں ان اعضاء کا پردہ نہیں ہے۔جبکہ محرم ، محرمِ امین ہو یعنی ایسا بے غیرت نہ ہو جسے اپنی محرمات پر شہوت آجائے وگرنہ یہ( کہ جو محرمِ امین نہیں )بھی اجنبی کے حکم میں ہے اور اس سے بھی اتنا ہی پردہ لازم ہے جتناکہ اجنبی سے لازم ہے۔چناچہ الدرالمختار میں ہے: (ومن محرمه) هي من لا يحل له نكاحها أبدا بنسب أو سبب ولو بزنا (إلى الرأس والوجه والصدر والساق والعضد إن أمن شهوته)۔ ترجمہ:اور محرم یعنی جس سے عورت کو نکاح ہمیشہ کے لئے حرام ہے خواہ نسب کی وجہ سے ہو یا کسی اور سبب سے جیسے زنا ، عورت کے سر، چہرے، سینے کے بالائی حصے، پنڈلی اور بازو کی جانب نظر کرسکتا ہے جبکہ شہوت کا خوف نہ ہو۔(تنویرالابصار مع الدرالمختار و حاشیہ ابن عابدین شامی، کتاب الحظر والاباحۃ، جلد 6 ص 367)
اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر محرم کے حق میں بھی ستر وہی ہو جو اجنبی کے حق میں ہے تو اس صورت میں شدید حرج لازم آئے گا کیونکہ محرم ہمہ وقت یا اکثر وقت گھر میں موجود رہتے ہیں اور عورتیں انکی موجودگی میں گھر کے کام کاج، صفائی ستھرائی، کھانا پکانا جیسے امورِ خانہ داری انجام دیتی ہیں ، ایسے میں مکمل پردہ کرنے میں جو حرج لازم آئے گا اور پھر کام کرنے میں جو دشواریاں پیش آئیں گی وہ کسی صاحبِ عقل پر مخفی نہیں ہے، یہ بات عقل کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ شریعت محمدی کے مزاج کے بھی خلاف ہے جیساکہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ۔ ترجمہ کنز الایمان : اور اس نے تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔ ( الحج: 78)
رد المحتار علی الدرالمختار میں ہے:الْحَرَجَ مَدْفُوعٌ بِالنَّصِّ،ترجمہ: نص قرآن کی وجہ سے حرج کو دور کیا گیا ہے۔( رد المحتار علی الدرالمختار، باب التیمم جلد 1 ص234)
پھر فقہ کا قاعدہ ہے:أَنَّ الْأَمْرَ إذَا ضَاقَ اتَّسِعَ۔ ترجمہ: جب کسی معاملے میں تنگی پیدا ہوجائے تو اس میں وسعت کر دی جاتی ہے۔( الاشباہ والنظائز لابن نجیم ص 72)
2:اصولا تو داماد اپنی ساس کے لئے محرم ہے لہذا اسکا اپنی ساس سے پردہ نہیں ہے، البتہ ساس جوان ہو تو داماد سے پردہ کرنا مناسب ہے اور اگر فتنہ میں پڑنے کا خوف ہو تو اب پردہ کرنا واجب ہے۔ اسکے علاوہ ساس کی بیٹیاں ، بہنیں اور گھر کی دیگر خواتین کے لئے محرم نہیں ہے لہذا ان سب سے پردہ کا وہی حکم ہے جو ایک اجنبی سے پردے کا حکم ہے۔نہ ان کے ساتھ بیٹھے نہ کھائے پیئے۔چناچہ الدرالمختار میں ہے: والخلوة بالمحرم مباحة، إلا الأخت رضاعا، والصهرة الشابة۔ترجمہ: اور محرم کے ساتھ خلوت اختیار کرنا جائز ہے ، مگر محرمات میں سے ہی رضاعی بہن اور جوان ساس کے ساس خلوت منع ہے(جبکہ فتنہ کا اندیشہ ہو)۔ (تنویرالابصار مع الدرالمختار و حاشیہ ابن عابدین شامی، کتاب الحظر والاباحۃ، جلد 6 ص 369)
امام اہلسنت، اعلٰی حضرت، الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی فرماتے ہیں: محارم غیر نسبی مثل علاقہ مصاہرت ورضاعت ان سے پردہ کرنا اور نہ کرنادونوں جائز۔ مصلحت وحالت پر لحاظ ہوگا۔ اسی واسطے علماء نے لکھا ہے کہ جوان ساس کو داماد سے پردہ مناسب ہے۔ یہی حکم خسر اور بہو کا ہے۔ اورجہاں معاذاللہ فتنہ ہو پردہ واجب ہوجائے گا۔واﷲ یعلم المفسد من المصلح (اللہ تعالٰی فسا د کرنے والے کو اصلاح کرنے والے سے جانتاہے۔ ) واﷲ تعالٰی اعلم۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الحظر والاباحۃ، جلد 22 ص 240،رضا فاؤنڈیشن، لاہور)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح: ابو الحسنین مففتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:16 ذیقعدہ 1441 ھ/07 جولائی 2020 ء