سوال
میرا نام شفیع محمد ہے تقریباً پچاس سال قبل میری دوبہنوں کی شادی "آدم اور حمزہ "سے ہوئی جس کے عوض انہوں نے میرے نام دو ایکڑ زمین کروائی تھی ،جو کہ میرے نام پر رجسٹرڈ ہے اور انکے ساتھ انکے دو بھائیوں نے بھی دستخط کیے تھے اور میںاس پر قبضہ بھی کرچکا ہوں ۔سوال طلب امر یہ ہے کہ اب بہنوئی اور ان کے دیگر بھائی جنھوں یہ دو ایکڑ زمین میرے نام کی وہ خود زندہ نہیں ہیں لیکن انکی اولاد موجود ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے والدین نے غلط فیصلہ کیا تھا ،لہذا ہم آپ کوزمین نہیں دیتے ۔ سائل:شفیع محمد: کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں آپ کا اپنی بہنوں کی شادی کے عوض زمین لینا رشوت کے حکم میں ہے اور رشوت کا لینا حرام اور ناجائز ہے اور اس صورت میں آپکےبہنوئی کی اولاد کا آپ سے اس زمین کا مطالبہ بالکل درست ہے لہذا آپ پر لازم ہے کہ اس زمین کو انکے سپرد کردیں کیونکہ یہ زمین آپ کے بہنوئی اور ان کے بھائیوں (جنھوں نے دستخط کیے تھے)کا ترکہ ہے جو انکے ورثاء میں انکے حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔
البحرائق شرح کنزالدقائق میں ہے :وَلَوْ أَخَذَ أَهْلُ الْمَرْأَةِ شَيْئًا عِنْدَ التَّسْلِيمِ فَلِلزَّوْجِ أَنْ يَسْتَرِدَّهُ؛ لِأَنَّهُ رِشْوَةٌ ترجمہ:اور اگر لڑکی والے سپردگی(نکاح یا رخصتی) کے وقت (شوہر سے )کچھ لیں تو شوہر کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اسے واپس لے لے کیونکہ یہ رشوت ہے(البحرالرائق شرح کنز الدقائق ،جلد3،ص:200،دارالکتب الاسلامی)
اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ الرحمۃ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں :رشوت وُہ ہے جو بعض قوموں میں رائج ہے کہ اپنی بیٹی یا بہن کا رشتہ کسی سے اس وقت تک نہیں کرتے جب تک خاطب سے اپنے لئے کوئی چیز حاصل نہ کرلیں، نیز رشوت وُہ ہے کہ کوئی شخص اپنے زیر ولایت لڑکی کا رشتہ تو کردے مگر اپنے لئے کچھ لئے بغیر وہ لڑکی شوہر کے حوالے نہ کرے۔ بزازیہ میں ہے کہ بھائی نے اپنی بہن کی شادی کرنے سے اس وقت تک انکارکیا جب تک کہ اس کو کُچھ دیا نہ جائے چنانچہ اس کو کُچھ دے دیا گیا تو دینے والے کو یہ حق حاصل ہے کہ وُہ اس بھائی سے واپس لے چاہے وُہ دی گئی شے اُس کے پاس موجود ہو یا ہلاک ہوچکی ہو کیونکہ وُہ رشوت ہے۔(فتاوی رضویہ، جلد: 12، ص: 257،258،رضافاؤنڈیشن لاہور)
صاحب بہارشریعت مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃفرماتے ہیں: لڑکی والوں نے نکاح یا رخصت کے وقت شوہر سے کچھ لیا ہو یعنی بغیر ليے نکاح یا رخصت سے انکار کرتے ہوں اور شوہر نے دے کر نکاح یا رخصت کرائی تو شوہر اس چیز کو واپس لے سکتا ہے اور وہ نہ رہی تو اس کی قیمت لے سکتا ہے کہ یہ رشوت ہے۔(بہارشریعت،جلد:2،حصہ ہفتم،ص:79،مکتبہ المدینہ )
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــه:محمد احمد امین قادری نوری
الجواب الصحیح:مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:25صفرالمظفر 1441 ھ/13اکتوبر 2020 ء