سوال
چار سو آدمی ہیں ،ہر آدمی ایک ایک ہزار جمع کر ائے گا جو کل چار لاکھ روپیہ بنتا ہے پھر اس کی قرعہ اندازی کریں گے اس میں پہلا انعام عمرہ شریف کی ٹکٹ 150000 دیا جائے گا اور دوسری ٹکٹ زواری کی ہے جس میں اسکو 120000 دیا جائے گا تیسرا 50000 ہزار نقدکیش ہے اور چوتھاانعام دو عدد قرآن پاک بمع ترجمہ، 2 عدد جائے نماز 2 عدد گولڑہ شریف کی ٹکٹ بمع خرچہ 2عدد ٹکٹ بی بی پاک دا من لاہور بمع خرچہ ۔ شرعی اعتبار سے اس کا کیا حکم ہے رہنمائی فرمائیں۔
سائل: محمد اصغر: ضلع لیہ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سوال میں بیان کردہ طریقہ کارکے مطابق پیسے جمع کرنا،پھر ان پیسوں سے قرعہ اندازی کرکے انعامات لینا یا دینا،جُوئے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائزوحرام ہے کیونکہ جُوا قرآن و حدیث کی نصِ قطعی سے حرام اورجہنم میں لے جانے والاکام ہے۔ مقامِ افسوس تو یہ ہے کہ علم ِدین نہ ہونے کی وجہ سے کس طرح عمرہ اور اس جیسی دیگر عبادات میں بھی لوگ حرام و گناہ میں مبتلا ہوگئےہیں۔
تفصیل اس امر کی یہ ہے کہ پہلے 400 لوگوں ہزار ہزار روپے جمع کریں گے ،پھر قرعہ ڈالیں گے جس میں چند لوگوں کا نام نکلے گا پھر جس جس کا نام نکلے گا صرف وہ ہی انعام کا مستحق ہوگا ، اور باقی سب اپنی جمع کروائی گئی رقم سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے سو اس میں ہر ایک کے لیے یہ احتمال ہے کہ یا تو اپنے پیسوں سے بھی جائے گا یا اسکا انعام نکل آئے گا جو اسکی جمع کردہ رقم سے کہیں زیادہ ہوگا۔ اوریہ صراحتاً جوا ہے کیونکہ جُوا کہتے ہیں اپنے مال کو خطرۂ عدم پر پیش کرنااور یہاں بعینہ یہ موجود کہ نام نہ نکلنے کی صورت میں اسکا مال معدوم ہوجائے گا۔
جوئے کے بارے میں اللہ عزوجل ارشادفرماتاہے : ﴿ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ﴾ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو!شراب اور جُوا اور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں ، شیطانی کام، تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔(سورۃ المائدۃ:90)
امام ابوبکر رازی علیہ الرحمۃ ارشادفرماتے ہیں :و لاخلاف بین اھل العلم فی تحریم القمار ۔ترجمہ:قمار(یعنی جوئے )کے حرام ہونے میں اہل علم کاکوئی اختلاف نہیں ہے ۔(احکام القرآن للجصاص،جلد2،صفحہ11،داراحیاء التراث العربی ،بیروت)
یونہی احادیث مبارکہ میں جوئے کی سخت مذمت فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ المعجم الکبیر میں ہے: من لعب بالمیسر، ثم قام یصلی فمثلہ کمثل الذی یتوضأ بالقیح ودم الخنزیر ، فتقول اللہ یقبل لہ صلاۃ ۔ترجمہ: جو جُوا کھیلے ، پھر نماز کے لئے کھڑا ہو ، تو اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے ، جو پیپ اور خنزیر کے خون سے وضو کرتا ہے ، تو تُو یہ کہے گا کہ اللہ عزجل اس بندے کی نماز قبول فرمائے گا ۔ (المعجم الکبیرللطبرانی،مسند من یعرف بالکنی،جلد 22،صفحہ292، مطبوعہ القاهرہ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : إن اللہ حرم علیکم الخمر والمیسر والکوبۃ وقال کل مسکر حرام ۔ترجمہ:اﷲتعالیٰ نے شراب اور جوا اور کوبہ (ڈھول)حرام کیا ہے اور فرمایا:ہر نشے والی چیز حرام ہے۔ (السنن الکبری للبیهقی،جلد 10،صفحہ 360،دار الکتب العلمیہ، بیروت)
المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی میں ہے: القمارمشتق من القمر الذی یزداد وینقص سمی القمار قماراً لا ن کل واحد من المقامرین ممن یجوز ان یذهب مالہ الی صاحبہ ویستفیدمال صاحبہ فیزداد مال کل واحد منهما مرۃ وینتقص اخری فاذا کان المال مشروطاً من الجانبین کان قماراً والقمار حرام ولان فیہ تعلیق تملیک المال بالخطر وانہ لا یجوز۔ترجمہ:قمارقمر سےمشتقہے ۔ قمروہ ہوتاہے، جوبڑھتااورگھٹتارہتاہے۔ اسے قمار اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ مقامرین (جواکھیلنےوالوں)میں سےہرایک کوشش کرتاہےکہ اپنے صاحب کامال لے جائے اوردوسرے کے مال سے فائدہ حاصل کرے ، پس ان میں سے ہرایک کاکبھی مال بڑھ جاتاہے اورکبھی کم ہوجاتاہے ،پس جب مال جانبین سے مشروط ہو، تواسے قمارکہاجاتاہے اورقمارحرام ہے اوراس لئے کہ اس میں مال کوحاصل کرنے میں خطرے پرمعلق کرناپایاجاتاہے اوریہ ناجائزہے۔(المحیط البرهانی فی الفقہ النعمانی ،جلد5،صفحہ323،دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
جوئے کا شرعی حکم اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلِ سنّت،امام اَحمد رضا خان پر فرماتے ہیں: جُوا بھی بَنَصِّ قَطْعِی قرآن حرام ہے، جبکہ جوئے سے حاصل ہونے والی رقم بھی حرام ہے ۔( فتاویٰ رضویہ ج 21 ، ص 156)
صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجدعلی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں:”اگر دونوں جانب سے مال کی شرط ہو مثلاً تم آگے ہوگئے ، تو میں اتنا دوں گا اور میں آگے ہوگیا ، تومیں اتنا لوں گا ، یہ صورت جوا اور حرام ہے۔(بهارشریعت،جلد3،حصہ16،صفحہ 607-08،مکتبۃ المدینہ،کراچی)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاريخ اجراء:19 صفر المظفر 1445ھ/ 06 ستمبر 2023 ء