سوال
میری ایک بہن بیوہ ہے ، اور وہ شوہر کے دوبیٹوں کے ساتھ رہ رہی ہے جو کہ دوسری بیوی سے ہیں ، کیا میری بہن کے لئے وہ محرم ہیں یا نامحرم ؟ کیا بہن کا انکے ساتھررہنا جائز ہے یا نہیں ؟ میں اسکو اپنے پاس بلاکر رکھ سکتی ہوں یا نہیں ؟اسکے نام پر اس کے شوہر کی پنشن آتی ہے 75 ہزار ۔ جس میں سے وہ بیٹے اسکو 3 سے 4 ہزار دیتے ہیں بس ، اسکے سائن سے باقی پیسے نکال لیتے ہیں۔
سائلہ: ناہید شاہین: کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شوہر کی دوسری بیوی کے بیٹے آپکی بہن کے محارم سے ہیں ان سے پردہ واجب نہیں ہے نہ ہی بعد وفاتِ والد آپکی بہن سےانکا نکاح جائز کہ وہ ان کے باپ کی منکوحہ ہے اورہم احناف کے نزدیک منکوحۃ الاب مطلقاً حرام ہے خواہ باپ کی مدخولہ ہو یا نہ ہو۔تو جب نکاح حرام ہوا تو محارم سے ہوئی۔ لہذا آپکی بہن کا ان کے ساتھ رہنا بالکل جائز و درست ہے، جبکہ ان بیٹوں کی طرف سے کسی طرح کی اذیت کا سامنا نہ ہو۔
مبسوط سرخسی میں ہے: وكذلك منكوحة الأب حرام على الابن دخل بها الأب أو لم يدخل لقوله تعالى {، ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم} ۔ترجمہ: اور یونہی باپ کی منکوحہ بیٹے پر حرام ہے دخول کیا ہو یا نہ ہو کیونکہ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے اور تم نکاح نہ کرو ان سے جن سے تمہارے آباء نے نکاح کیا۔(مبسوط سرخسی جلد 4 ص 201)
بدائع میں ہے: حرمت منكوحة الأب على الابن كذا هذا سواء كان دخل بها الابن أو لم يدخل بها؛ لأن النص مطلق عن شرط الدخول ولأن العقد سبب إلى الدخول والسبب يقام مقام المسبب في موضع الاحتياط على ما مر۔ترجمہ:باپ کی منکوحہ بیٹے پر حرام ہے ، یونہی بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہے خواہ بیٹے نے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہوکیونکہ نص قرآنی دخول کی شرط سے مطلق ہے اور اس لئے بھی کیونکہ عقد دخول کا سبب ہے اور سبب موضعِ احتیاط میں مسبب کے قائم مقام ہوجاتا ہے جیساکہ گزرا۔ (بدائع الصنائع جلد 2 ص 260)
اسی میں ہے: ولهذا تثبت الحرمة بنفس العقد في منكوحة الأب۔ترجمہ:اور اسی لئے منکوحۃ الاب میں نفسِ عقد سے حرمت ثابت ہوجائے گی۔ (بدائع الصنائع جلد 2 ص 259)
یاد رہے حکومت یاادارہ جو پنشن دے رہا ہے،وہ خود ورثاء میں سےکسی فردکونامزد(Nominate)کردےتو وہ صرف وہی فرد اس رقم کامالک ہوگا دیگر ورثاء کا اس میں کوئی حق نہ ہوگا نہ ہی تقاضا کرنا روا ہوگا البتہ اگرحکومت یاادارہ سب وارثوں کےلیےدےتوسب وارث اس میں شریک ہوں گےلیکن یہ تقسیم،میراث کی وجہ سےنہیں ہوگی،بلکہ یہ حکومت یاادارہ کی طرف سےانکوانعام دیناشمارہوگا۔
اب اگر پنشن جو کہ آپکی بہن کا حق ہے انکے سوتیلے بیٹے انکی رضامندی کے بغیر استعمال کررہے ہیں تو یہ ناجائز و حرام ہےکہ یہ باطل طریقے سے مال کھانا شمار ہوگا اور اگر رضامندی شامل ہے تو جائزاور اسکا طریقہ یہ ہے کہ والدہ خود اپنی مرضی سے جتنی رقم دیں وہ استعمال کرسکتے ہیں نہ دینے کی صورت میں دینے پر اصرار یا دیئے گئے سے زیادہ پر اصرار بھی ناجائز ہے ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:7 شعبان المعظم 1444 ھ/28 فروری 2023 ء