وراثت کا مسئلہ دوبھائی چار بہنیں

    wirasat ka masla do bhai char behnein

    تاریخ: 4 جولائی، 2026
    مشاہدات: 15
    حوالہ: 1572

    سوال

    میری والدہ (2005)اور والد کا(2018) کا انتقال ہوگیا ہے والد کے نام پر ایک مکان تھا جبکہ والدہ کے نام دو مکان تھے،سارے مکان اصلاً والد کے تھے اور وہ ان میں تصرف کرتے تھے ان کے ہی قبضے میں تھے۔ انکے ورثاء میں دو بھائی (شعیب، شجاعت )اور چار بہنیں(عرفانہ، فرزانہ، ارم، عنبر) ہیں جبکہ میرے ایک بھائی(شعیب) کا بھی انتقال (2024)ہوچکا ہے وہ لاولد تھے صرف انکی بیوہ (نرگس)ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ ان مکانات کی تقسیم کیسے ہوگی؟ ہر ایک کا کیا شرعی حصہ بنے گا؟ رہنمائی فرمائیں۔

    سائل:شجاعت علی :ملیر کھوکھرا پار کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مستفسرہ میں امور متقدمہ علی الارث (تجہیز و تکفین، ادائے قرض، ایک تہائی سے وصیت) کے بعد جائیدا دکے کل 192 حصص ہونگے، ہر وارث کا حصہ درج ذیل ہے:

    کل حصص: 96

    شجاعت:30, عرفانہ:15, فرزانہ:15, ارم:15 عنبر:15, نرگس:6

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کےمطابق ہے ،لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے :قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(النساء : آیت نمبر 11)

    فائدہ : رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے تمام مکانات کی مارکیٹ ویلیو لگوا کررقم کو مبلغ یعنی192پرتقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:21 ربیع الاول 1446ھ/ 26 ستمبر 2024 ء