manasikha ka masla saat baton
سوال
ہم جس گھر میں رہتے ہیں وہ گھر ہمارے دادا (منے خان)نے ہمارے والد(ریاض الدین) کو دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ گھر میں نے تمہیں دیا اور یہ بات اس وقت کہی جس وقت والد اور انکے بہن بھائی اسی گھر میں رہتے تھے، پھر دادا کی زندگی میں ہی ہمارے تایا (نواب الدین)الگ گھر میں شفٹ ہوگئے تھے ۔اس وقت بھی دادا نے ایک بار اور کہا کہ یہ مکان میں تمہیں دیتا ہوں اور تایا سے کہا کہ تم تو الگ گھر میں ہی رہتے ہو اس لئے یہ مکان اسے دے دو اور تایا نے بھی کہا کہ اس میں میرا حصہ نہیں ہے ،پھر والد اور دادا اسی مکان میں رہتے رہے حتٰی کہ پہلے دادا کا پھر تایا کا پھر والد صاحب کا انتقال ہوگیا،ہمارے دادا کے یہ دو ہی بیٹے تھے بیٹی کوئی نہیں تھی۔ اسی طرح دادی کا انتقال دادا سے پہلے ہوچکا تھا۔ ہم 10 بہن بھائی ہیں سب شادی شدہ ہیں ۔ جس میں سے چھ بھائی(فیاض، محمد،اسلام،عادل،عابد،زاہد) اور چار بہنیں(نورجہاں، نور بانو، فرزانہ،سلمہ)ہیں۔ چار بھائی اور تین بہنیں اپنے اپنے گھروں میں رہتے ہیں اور ہم تین بھائی اسی والد والے گھر میں رہتے ہیں ، ہمارے والد کے ایک ہی بھائی جو ہمارے تایا تھے جن کا انتقال والد سے پہلے ہوا تھا۔
تایا کے ورثاء کی تفصیل: بیوی کا پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا، اولاد میں دو بیٹے(اقبال، افضال) اور تین بیٹیاں (منور،فریدہ،نرگس)ہیں۔پھر ایک بیٹی (منور)کا انتقال ہوا جوکہ شادی شدہ تھی انکے شوہر کا پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا۔ ورثاء میں ،شوہر (عبداللہ)پانچ بیٹیاں(عظمٰی،اسماء، علیشہ، شہلا، شہنیلا) اور چار بیٹے(زوہیب، شیراز، فراز، شارق)ہیں۔ پھر بیٹیوں میں سے ایک بیٹی (عظمٰی )کا انتقال ہوا جوکہ شادی شدہ تھی۔اسکے ورثاء میں شوہر(علی)،ایک بیٹا(رضوان)،ایک بیٹی(روبینہ) ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس مکان میں ہمارے تایا کے بچوں کا حصہ ہوگا یا نہیں؟اور ہمارا کتنا کتنا حصہ ہوگا۔ہماری والدہ کا انتقال بھی والد کے بعد ہوا انکے ورثاء میں ہم 10 بہن بھائی اور انکی ایک بہن تھی اسکے علاوہ تمام ورثاء کا انتقال ہوگیا تھا۔
نوٹ:سائلین کوتمام ورثاء کے نام درست طور پر معلوم نہ ہونے کے سبب سوال میں نواب الدین کی بیٹی مرحومہ منور کے شوہر کا نام فرضی ہے اسی طرح مرحومہ منور کی بیٹی عظمٰی مرحومہ کے ورثاء کے نام بھی فر ضی ہیں۔
سائلین:بنات ریاض الدین:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مسئولہ میں وہ مکان آپکے دادا یعنی منے خان کی ملک میں ہونے کی وجہ سے تمام ورثاء میں یعنی آپکے والد ،تایا میں تقسیم ہوگا ۔ پھر چونکہ انکی وفات ہوچکی ہے لہذا اب ان حضرات کاحصہ انکے ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔ تمام ورثاء کے حصوں کی تفصیل درج ذیل ہے :
کل حصے: 2912
اقبال:416 افضال:416 فریدہ:208 نرگس:208 فیاض:182 محمد:182 اسلام:182 عادل:182 عابد:182 زاہد:182 نورجہاں:91 نور بانو:91 ، فرزانہ:91 سلمہ:91
عبداللہ:52 اسماء:12 علیشہ:12 شہلا:12 شہنیلا:12 زوہیب:24 شیراز:24 فراز:24 شارق:24 علی:3 روبینہ:3 رضوان:6
اس بات کی تفصیل کہ یہ مکان خاص آپ کے والد کا نہیں ہے بلکہ اس میں تایا اور انکے بعد انکے بچوں کا حصہ بھی ہے،یہ ہے کہ زندگی میں مکان،پلاٹ یا فلیٹ،یا کوئی اور چیز نام کردینا گفٹ یا ھبہ کے طور پر ہوتا ہے لہذا اگر کوئی شخص کسی کوجگہ یا مکان یا پلاٹگفٹ کرے پھر جسے یہ گفٹ کیا گیا وہ شص اس موہوب لہ (یعنی جس کے لیے گفٹ کیا گیا ہے)کو اپنے قبضے میں لے لے، تو یہ ھبہ تام ہوجاتا ہے یعنی اس میں اس شخص کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے جس کے لیے وہ مکان ھبہ کیاگیاہے ۔اور اگر قبضہ نہ ہو تو ملکیت تام نہیں ہوتی بلکہ وہ چیز واہب کی ملک میں ہی باقی رہتی ہے یہاں آپکے دادا آپکے والد کو مکان دینے کے باوجود خود تادم آخر اسی مکان میں رہتے رہے جسکی وجہ سے یہ ھبہ تام نہ ہوا اور وہ مکان آپکے والد کی ملکیت میں ہی رہا۔ تنویرالابصار میںہے: وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اورممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)
اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
عالمگیریہ میں ہے :لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃالباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام۔ اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وراثت کی مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل جائیداد کی قیمت لگواکر اسکو مبلغ یعنی 2912پرتقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:12رمضان المبارک 1441 ھ/06 مئی 2020 ء