miyat ke warasa na milain to kya hukum
سوال
ہم جس فلیٹ میں رہتے تھے اس فلیٹ کے مالک مکان اور انکی بیوی کا انتقال ہوچکا ہے انکے بچے اور کوئی رشتہ دارنہیں ہیں ، اب ہم یہ مکان چھوڑ چکے ہیں لیکن اسکا قبضہ و چابی ہمارے پاس ہے اور اس میں ہمارا سامان بھی رکھا ہوا ہے، تو اب لوگ کرایہ دار آرہے ہیں کہ ہمیں کرایہ پر دے دو ، ا ب سوال یہ ہے کہ ہم اس فلیٹ پر قبضہ کرستے ہیں یا نہیں؟
سائل:رومان : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے اور کوششِ بسیار کے باوجود اسکے ورثاء کا علم نہ ہوسکےیا اصلاً اسکا کوئی وارث ہی نہ ہو اور اس نے کسی شخص کے لئے کل مال کی وصیت بھی نہ کررکھی ہو تو ایسے شخص کے کل ترکہ کا مصرف بیت المال ہوگا، یعنی اسکا سارا مال بیت المال میں رکھا جائے گا البتہ فی زمانہ ریاستی محکموں میں رشوت، کرپشن، بدعنوانی، لوٹ کھسوٹ کے سبب بیت المال کے انتظام میں واضح فساد پایا جاتا ہے لہذا اب میت کا ترکہ جسکے قبضے میں ہے اسکی ذمہ داری ہے کہ کل ترکہ بیت المال میں نہ دے بلکہ یہ خود بیت المال کے مصارف یعنی صرف ان فقراء پرخرچ کرےجو کمانے سے عاجز ہوں اور انکا کوئی کفیل بھی نہ ہو، اس شخص کے لئے اپنے تصرف میں لانا جائز نہیں البتہ اگر یہ خود اس صفت کا حامل ہے تو یہ بھی لے سکتا ہے۔
تنویر الابصار مع الدر میں ہے: ورابعها الضوائع مثل ما لا ... يكون له أناس وارثونا، ورابعها فمصرفه جهات ... تساوى النفع فيها المسلمونا۔ ترجمہ:بیت المال کا چوتھا مصرف ضوائع ہے، یعنی وہ لوگ جن کا کوئی وارث نہ ہو، تو اسکا مصرف کئی جہات ہیں، جس میں مسلمانوں کا نفع ہو۔
اسکے تحت علامہ شامی لکھتے ہیں: (قوله: ورابعها فمصرفه جهات إلخ) موافق لما نقله ابن الضياء في شرح الغزنوية عن البزدوي من أنه يصرف إلى المرضى والزمنى واللقيط وعمارة القناطر والرباطات والثغور والمساجد وما أشبه ذلك، ولكنه مخالف لما في الهداية والزيلعي أفاده الشرنبلالي أي فإن الذي في الهداية وعامة الكتب أن الذي يصرف في مصالح المسلمين هو الثالث كما مر. وأما الرابع فمصرفه المشهور هو اللقيط الفقير والفقراء الذين لا أولياء لهم فيعطى منه نفقتهم وأدويتهم وكفنهم وعقل جنايتهم كما في الزيلعي وغيره. وحاصله أن مصرفه العاجزون الفقراء۔ ترجمہ:یہ اس کے موافق ہے جسے ابن ضیاء نے شرح غزنویہ میں بزدوی سے نقل کیا کہ اسے مریضوں ، بیماروں، لقیط اور پل ، اصطبل، سرحدوں،مساجد اور جو ان جیسی چیزیں ہیں انکی تعمیر پر صرف کیا جائے گا، لیکن یہ اس کے مخالف ہے جوکچھ ہدایہ اورزیلعی میں ہے، کیونکہ ہدایہ وعام کتابوں میں ہے کہ جوکچھ مسلمانوں کی مصلحتوں پرخرچ کیاجاتا ہے وہ تیسری قسم ہے۔ بہر حال چوتھا تواسکا مصرف مشہور لقیط فقیر اور وہ فقراء ہیں جن کے اولیاء موجود نہیں تو انہیں اس مال سے انکا نفقہ، دوائیاں کفن،اور انکی جنایت کی چٹی دی جائے گی جیساکہ زیلعی میں ہے۔(ردالمحتار، مع الدر المختار شرح تنویر الابصارجلد 2 ص 338)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: جبکہ میت کاکوئی وارث شرعی موصی لہ بجمیع المال تک نہ ہو توجوکچھ اس کی تجہیزوتکفین وادائے دیون سے بچے فقرائے بیکس وبے قدرت عاجزین مسلمین کودیاجائے۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب لافرائض جلد، 26 ص 172)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: صورت مستفسرہ میں متوفیہ کاکل متروکہ خواہ اس کاذاتی مال ہو خواہ شوہرکادیاہوابعد ادائے دیون وانفاذ وصایا تمام وکمال فقرائے مسلمین کاحق ہے جوکسب سے عاجز ہوں اور ان کاکوئی کفالت کرنے والانہ ہو۔شوہرکا بیٹا اگرفقیر عاجزہے تووہ بھی اورفقرائے عاجزین کے مثل مستحق ہے ورنہ اس کا اصلاً استحقاق نہیں، نہ متوفیہ کے ذاتی مال میں نہ شوہر کے دئیے ہوئے ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب لافرائض جلد، 26 ص 208)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:04 ذوالعقدہ 1445ھ/ 13 مئی 2024 ء