مورث کی حیات میں حصہ کا تقاضا

    moris ki hayat mein hissa ka taqaza

    تاریخ: 2 مئی، 2026
    مشاہدات: 24
    حوالہ: 1253

    سوال

    میرا سوال یہ ہے کہ ہم تین بھائی اور دوبہنیں ہیں ۔ ہمارہ والدہ حیات نہیں ہیں والد حیات ہیں ۔ ہم سب بھائی والد کے گھر میں انکے ساتھ رہتے ہیں ، ہماری دونوں بہنوں کی شادی ہوچکی ہے ۔ ان دونوں میں سے ایک بہن کا شوہر یعنی بہنوئی میری بہن سے والد کے گھر میں سے اپنا حصہ لینے کا بول رہا ہے جسکی وجہ سے گھر میں اختلافات پیدا ہورہے ہیں ۔برائے مہربانی اس معاملے میں شرعی رہنمائی فرمادیں کہ کیا والد کی موجودگی میں بہن کو حصہ ملے گا یا نہیں؟ نیز والد صاحب کے حصے میں ایک دوکان ہے جوکہ والد صاحب اپنی ضرورت کی وجہ سے بیچنا چاہ رہے ہیں تو اگر والد صاحب اپنی دوکان بیچیں تو اس میں اولاد کا حصہ ہوگا۔

    سائل:واثق الرحمان :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سب سے پہلے یہ بات یاد رکھیں کہ شرعی اصطلاح میں وراثت اس جائیداد کو کہا جاتا ہے جو انسان چھوڑکر مرتا ہے، اور وہ اس وقت اسکے موجود ہ ورثاء میں تقسیم ہوتی ہے۔اس کو ترکہ بھی کہا جاتا ہے۔

    التعریفات ص 42 میں ترکہ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے:ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه : ترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا

    لہذا اگر گھر آپ کے والد کی ذاتی ملکیت ہے تو وہ اسکے مکمل مالک ہیں اور جب تک بقید حیات ہیں ، کسی اولاد کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس جائیداد کی تقسیم کا مطالبہ کر سکتا ہے۔یہی حکم دوکان بیچ کر ملنے والی رقم کا بھی ہے کہ جب تک آپ کے والد حیات ہیں وہ رقم خاص انکی ملکیت ہے کسی کو اس میں تقاضا کا حق نہیں ہے۔

    البتہ اگر آپ کے والداپنی زندگی میں ہی اپنی اولادکے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں،اور یہ تقسیم ، وراثت کی تقسیم نہیں بلکہ آپ کی طرف سے اولاد کے لیے ھبہ و گفٹ ہوگا۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنے لیے اور اپنی زوجہ کے لیے جتنا مناسب سمجھیں رکھ سکتے ہیں ،اس کے بعد جو بچے وہ سارا مال سب اولاد خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں سب کوبرابر برابر دے دیا جائے۔ لیکن اگر کسی خاص وجہ سے مثلاًاولاد میں سے کوئی عالم دین یا خدمت گذار ہے اسے دوسروں سے زیادہ دیدے تو یہ بھی جائز ہے، بلا وجہ شرعی کسی ایک کو دوسری اولاد سے زیادہ دینا گناہ ہے۔

    البحر الرائق میں ہے:"يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ":ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکرہ ہے،لیکن اگر کسی دینی فضیلت کیوجہ سے دے تو جائز ہے اور اگر سارا مال اولاد میں سے کسی ایک کو دیا تو قضاء جائز ہے لیکن دینے والا گنہگار ہو گا ۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ،ج:7،ص:288)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:12 ذوالقعدہ 1440 ھ/16 جولائی 2019 ء