mayyat par qarz ka dawa
سوال
16نومبر 2020 کومیرے والد صاحب کا انتقال ہوا،انکی طارق روڈ پر ایک کپڑے کی دوکان تھی جو کہ کرائے کہ تھی ، اس دوکان میں 6 لاکھ تک کا مال ہے اور تین لاکھ ایڈوانس دیا گیا ہے۔ والد کے انتقال کے بعد کچھ پارٹیاں آرہی ہیں جوکہ قرض کا تقاضا کررہی تھی ان کا مجموعی قرض تقریبا 79 لاکھ بن رہا ہے۔لیکن کسی کے پاس کوئی قانونی دستاویز نہیں ہے،اور نہ ہی میرے والد کے حساب کتاب میں کہیں واضح ہےکہ کس پارٹی کو کتنا اماؤنٹ دیناہے۔اور والد صاحب نے گھر کے کسی فرد سے کبھی اسکا ذکر کیا۔اب اس معاملہ میں ہمیں کیا کرنا چاہیے شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائل:محمد حسان :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جو لوگ قرض کا تقاضا کررہے ہیں وہ مدعی ہیں ، اور مرحوم کے ورثاء مدعٰی علیہ ہیں۔ شریعتِ مطہرہ میں مدعی اور مدعی علیہ کے مابین فیصلہ کرنے کے حوالے سے اصول و ضوابط طے شدہ ہیں،جس کے مطابق مدعی کا وظیفہ شہادتِ شرعیہ(یعنی دو لوگوں کی گواہی )پیش کرنا ہوتا ہے۔لیکن جب مدعی گواہ نہ پیش کر سکے تو پھر مدعی علیہ پرقسم کھانا واجب ہوتی ہے ۔
لہذاجولوگ میت پرقرض کادعویٰ کررہے ہیں ان پر لازم ہے کہ اپنے دعوٰی پر گواہ پیش کریں اگر یہ لوگ اپنے دعوٰی پر کوئی گواہ نہ پیش کر سکے ،اور نہ ہی میت کے ورثاء میں سے کوئی شخص ان کے دعویٰ کااقرارکرتاہو،اور نہ ہی کوئی ایسا وثیقہ (قانونی یا معروف دستاویز)موجود ہوجس پر مرحوم کےدستخط ہوں جو وہ اپنی زندگی میں کرتا تھا۔ تو اس صورت میں محض اس دعویٰ کے بنیاد پر قرض وصول نہیں کیاجاسکتا،بلکہ شرعی طور پر یہ دعویٰ کرنے والے افراد میت کے ورثاء سے حلف لیں گے کہ انہیں اس قرض کا علم نہیں اور نہ میت نے انہیں بتایاہے،اگر ورثاء اس بات پر حلف اٹھالیتے ہیں تو دعویٰ کرنے والوں کا دعویٰ ساقط ہوجائے گا۔ اور اگرمیت کے ورثاء حلف اٹھانے سے انکار کرتے ہیں تو دعویٰ ثابت ہوجائے گا اور مرحوم کے ترکہ سےادائیگی لازم ہوگی۔
مدعی اور مدعٰی علیہ کا کیا وظیفہ ہے اس سلسلے میں حدیث پاک میں ارشا ہوا:قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم البینۃ علی المدعي والیمین علی من أنکر۔ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : گواہی مدعی پر اور قسم منکر پر لازم ہے۔(سنن الترمذي،رقم: 1356، السنن الکبریٰ للبیہقي، الدعویٰ / باب البینۃ علی المدعي رقم: 21807)
المحیط البرھانی پھر فتاوٰی عالمگیریہ میں اس حوالے سے مذکور ہے :واللفظ للآخر:وإن لم تكن للمدعي بينة وأراد استحلاف هذا الوارث يستحلف على العلم عند علمائنا - رحمهم الله تعالى - بالله ما تعلم أن لهذا على أبيك هذا المال الذي ادعى وهو ألف درهم ولا شيء منه.فإن حلف انتهى الأمر وإن نكل يستوفى الدين من نصيبه۔ترجمہ:اور اگر مدعی کےپاس گواہ نہ ہوں اور وہ یہ چاہے کہ وارث قسم اٹھائے تو ہمارے علماء کے نزدیک وارث سے اسکے علم پر اللہ تعالٰی کی قسم لی جائے کہ تمہیں اس بات کا علم نہیں کہ اس شخص کا تیرے والدپر اتنا مال ہے جسکا اس نے دعوٰی کیا یعنی نہ ایک ہزار درہم ، اور نہ اس سے کم۔ پھر اگر وہ قسم اٹھالے تو معاملہ ختم ہوجائے گا ۔(یعنی قرض دار کو کچھ نہ ملے گا)اور اگر قسم سے انکار کردے تو اس وارث کے حصے سے قرض کی ادائیگی کی جائے گی۔(فتاوٰی ہندیہ، الباب الخامس والعشرون، جلد 3ص 407دار الفکر،المحيط البرهاني في الفقه النعماني، الفصل السادس والعشرون جلد 8 ص 218)
فتاوٰی خیریہ میں ہے: القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار اوالنکول کما فی اقرار الخانیۃ وقد نقلہ الشیخ زین فی اشباھہ ونظائرہ فی اول کتاب القضاء۔ترجمہ: قاضی صرف حجت پر فیصلہ دے گا اور وہ صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار ہے جیساکہ خانیہ کے باب الاقرار میں ہے اور اس کو شیخ زین الدین نے اپنی اشباہ ونظائر میں کتاب القضاء کے شروع میں ذکر کیا ہے۔(فتاوٰی خیریہ ،کتاب القضاء،جلد 2 ص 19 دارالفکر بیروت)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:17ربیع الثانی 1442 ھ/02 دسمبر 2020 ء