مناسخہ کا مسئلہ دو بطن

    manasikha ka masla do baton

    تاریخ: 30 اپریل، 2026
    مشاہدات: 12
    حوالہ: 1251

    سوال

    مجھے وراثت کے بارے میں شرعی فتوٰی چاہیے ، تاکہ ہم اپنے دادی جان سے اپنے حق کا مطالبہ کرسکیں ۔ میرے دادا جان (محبوب احمد شیخ) کا انتقال ہوا۔انکی ایک بیوی (شمیم)اور تین بیٹے(سہیل، فیصل اور عادل) اور ایک بیٹی(حمیرا)تھی جس میں سے ایک بیٹے سہیل کا انتقال انکی زندگی میں ہوگیا۔انکی وفات کے وقت انکی زوجہ ، دو بیٹے اور ایک بیٹی حیات تھی۔ اسکے بعد ایک اور بیٹے (فیصل)یعنی میرے والد کا انتقال ہوگیا۔انکے ورثاء میں ایک بیوی (عائشہ)اور تین بیٹیاں (ثناء، خدیجہ، آمنہ)ہیں ۔

    دادا کی وراثت کی تفصیل:1: ایک 600 گز کا مکان، جس کے دو پورشن ہیں نیچے کے پورشن میں دادی، چاچو اور ہم لوگ رہائش پذیر ہیں اور اوپر والا پورشن میں میری تائی جان کرائے دار کے طور پر رہائش پذیر ہیں۔اس کرائے سے وہ اپنااور چاچو کا خرچہ اٹھاتی تھیں۔جو بھی کرایا آتا دادی وہ اپنے پاس رکھتی کبھی ہمیں اس میں شریک نہیں کیا حالانکہ ابو نے کافی بار مطالبہ بھی کیا۔

    2: دادا جان کا آفس جو کہ پگڑی پر ہے، دادا کے بعد میرے والد صاحب نے سنبھالا ۔

    میرے والد کی وراثت کی تفصیل: 1:میرے والد صاحب کی دوکان جوکہ پگڑی پر ہے۔

    2: موجودہ گھر میں سے حصہ۔

    3: دادا کے آفس کا حصہ ۔

    4: اوپر کے مکان سے آنے والے کرایہ سے حصہ ، جو کہ ہمیشہ 21 سال سے دادی نے لیا کبھی ہمیں نہیں دیا۔

    اب اس تمام صورت حال میں اس بات پر فتویٰ دیجیے کہ وراثت میں کس کس کا حصہ بنتا ہے اور کس کس کا نہیں ؟ نیز یہ کہ جن جن کا حصہ بنتا ہے تو کتنا بنتا ہے مکمل تقسیم لکھ کر دے دیں ۔ جزاک اللہ تعالٰی

    سائلہ:ثناء فیصل: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے فبہا۔ اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر قرض کی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس)مال کے تین حصے کیے جائیں گے ،اس میں سے ایک حصہ سے وصیت پوری کی جائیگی اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جائیں گے۔السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(سراجی فی المیراث ص 5)

    وہ مال اسکی وفات کے بعد اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوتا ہے جو اسکی وفات کے وقت زندہ تھے ، اور اسکو ہی مال وراثت کہتے ہیں ،اسی کو ترکہ بھی کہا جاتا ہے۔علامہ سید میر شریف جرجانی ترکہ کی تعریف ان الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں:ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينهترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہ ہو۔(التعریفات ص 42)

    آپکے سوال کے ضمن میں درج ذیل جوابات بھی آتے ہیں جن کی تفصیل یہ ہے :

    1: جس بیٹے(سہیل) کا انتقال والد (محبوب حسین) کی زندگی میں ہوا اسکے ورثاء کو مرحوم کے والد کی وراثت سے کچھ حصہ نہیں ملے گا۔کیونکہ مال وراثت ان لوگوں میں تقسیم ہوتا ہے جو مورث کی وفات کے وقت موجود ہوں۔الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے (لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)

    یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت) : أي وقت الحكم بالموت۔ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث) کی موت کے وقت موجود ہوں۔ (البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367)

    لیکن اگر دیگر ورثاء چاہیں تو اس مرحوم بیٹے کے ورثاء کو وراثت میں سے کچھ دے سکتے ہیں ، کہ یہ ان کی طرف سے انکے لیے احسان ہوگا ، ایسے لوگوں کو اللہ کریم پسند فرماتا ہے۔قال اللہ تعالیٰ ان اللہ یحب المحسنین۔ترجمہ: اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

    2:آپکی داد ی مکان کا کرایہ استعمال کرتی رہیں ان پر اس کرایہ کا حکم یہ ہے کہ جب سے مکان کرایہ پر گیا اس وقت سے تقسیم وراثت تک جتنا کرایہ لیا سب رقم وراثت میں شامل ہوکر تمام ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے بمطابق تقسیم ہوگی۔کیونکہ جتنا کرایہ انکے اپنے حصے کے بدلے میں آتا ہے ، وہ ان کے لیے جائز ہے اور دوسروں کے حصے کا کرایہ ان کے حق میں ملک خبیث یعنی ناپاک و حرام ہے ، جس کا حکم یہ ہے کہ یا تو فقیرِ شرعی پر بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کر دیں یا ورثاء کو دے دیں اور ورثاء کو دینا افضل ہے۔

    اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں جبکہ نہ ان لڑکیوں نے اپناحصہ مانگا نہ لڑکوں نے دیا اوربطور خود اس میں تجارت کرتے رہے تو وہ چاروں لڑکیاں اصل متروکہ میں اپناحصہ طلب کرسکتی ہیں ، تجارت سے جونفع ہوا ، وہ لڑکیاں اس کی مالک نہیں، ہاں ان کے حصہ پرجونفع ہوا لڑکوں کے لئے ملک خبیث ہے لڑکوں کوجائزنہیں کہ اسے اپنے تصرف میں لائیں، ان پرواجب ہے کہ یاتووہ نفع فقراء مسلمین پرتصدق کریں یاچاروں لڑکیوں کو دے دیں اوریہی بوجوہ افضل واولیٰ ہے اوران لڑکیوں کے لئے حلال طیب ہے کہ انہیں کی ملک کانفع ہے جبکہ لڑکوں پرشرعاً حرام ہے کہ ان لڑکیوں کے حصہ کانفع اپنے صرف میں لائیں تولڑکیوں ہی کوکیوں نہ دیں کہ ان کی دلجوئی ہو ، صلہ رحم ہو ، صاحب حق کی ملک کانفع اسی کوپہنچے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم ۔ ( فتاویٰ رضویہ ، جلد 26 ، صفحہ 373 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور )

    3:جو دکان یا مکان پگڑی پر ہے اسکا حکم یہ ہے کہ اسکی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے اس میں وراثت جاری ہوگی۔ یعنی جو اسکی اس وقت قیمت ہے وہ مالِ وراثت قرار پائے گی۔

    وراثت کی تفصیل اور تقسیم :

    دونوں کی جائیداد میں جو کچھ ہے،اسکی موجودہ ویلیو نکلوائی جائے پھر دیکھا جائے کہ ان پر کوئی قرض ہے تو وہ ادا کیا جائےگا، قرضہ جات ادا کرنے کے بعددیکھا جائے گا کہ اگر انہوں نے کوئی وصیت کی ہے تو باقی ماندہ کے ایک تہائی مال سے وصیت پوری کی جائے گی اسکے بعد جو کچھ بچے،وہ ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا ۔ تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کے1440حصے کئے جائیں گے جس میں سے شمیم کو264 حصے ،عادل کو 518 حصے،حمیرا کو 259 حصے،عائشہ کو 63 حصے، ثناء،خدیجہ،آمنہ میں سے ہر ایک کو الگ الگ 112 حصے ملیں گے۔

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: بیویوں کےحصے بارے میں ارشاد ہے ۔قال اللہ تعالیٰوَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ :ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    فائدہ :جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال وراثت کی قیمت لگواکر اس کو مبلغ یعنی 1440 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے، اسے اپنے پاس محفوظ کرلیں پھر جو محفوظ اعداد ہیں اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 26 محرم 1442 ھ/15 دسمبر 2020 ء