وراثت کا مسئلہ دو بیٹے تین بیٹیاں

    wirasat ka masla do bete teen betiyan

    تاریخ: 16 مئی، 2026
    مشاہدات: 36
    حوالہ: 1359

    سوال

    میت کے وارثوں میں 2 بیٹے (عبداللہ ،عبدالرحمان)اور 3 بیٹیاں (فاطمہ، زینب، کلثوم)تھیں، پہلے ان میں سے ایک بیٹے(عبداللہ) کا انتقال ہوگیا بیوی کو طلاق دے چکا تھا صرف اسکا ایک بیٹا (ارشاد)ہے۔ اسکے بعد دوسرے بیٹے(عبدالرحمان) کا بھی انتقال ہوا گیا ہے اور اس کی بیوی (نادیہ)موجود ہےجبکہ اولاد نہیں ہے۔میت کی باقی 3 بیٹیاں حیات ہیں اب تقسیم کیسے ہوگی۔کل رقم 5500000 ہے۔

    سائل: بمعرفت مولانا ذیشان تاجی : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت یعنی مکان کو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،ہر وارث کی حصے کی تفصیل درج ذیل ہے:

    کل حصے: 126

    ہر وارث کا حصہ: فاطمہ:26، زینب:26، کلثوم:26 ، ارشاد:39 ، نادیہ:9

    رقم کی صورت میں حصہ:

    فاطمہ: 1134920/= زینب: 1134920/= کلثوم: 1134920/=

    ارشاد: 1702381/= نادیہ: 392857/=

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: بیویوں کےحصے بارے میں ارشاد ہے ۔قال اللہ تعالٰی :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ :ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:13 شعبان المعظم 1445ھ/ 24 فروری 2024 ء