شوہر نشہ کرتا ہو،خرچہ نہ دیتا ہو تو طلاق كا حكم
    تاریخ: 9 فروری، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 758

    سوال

    میں چار سال سے پریشان ہوں ،میرا شوہر ذرا ذرا سی بات پہ لڑتا تھا ،مار پیٹ کرتا تھا ،مجھے پتہ چلا کہ وہ آئس کا نشہ کرتا ہے۔میرے ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ہیں۔اس نے گھر بیچ دیا ہے،تنگ آ کر میں امی کے گھر چلی گئی،اور خلع کا کیس دائر کر دیا اور کورٹ سے خلع بھی مل گئی مگر بچوں کی خاطر ایک ہفتے میں ہی اس کے پاس چلی گئی۔مگر اس کے ظلم و ستم دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں ،اب میں تین ماہ سے حاملہ ہوں ۔میں نے شادی سے پہلے اس سے کورٹ میرج کی مگر گھر والوں کو نہیں بتایا۔اور پھر گھر والوں نے اس سے نکاح کروایا ۔اب مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں مالی طور پر بہت پریشان ہوں ،میری جاب بھی نہیں ۔کیا میں اس کو واپس چھوڑ دوں کیوں کہ وہ کام بھی نہیں کرتا اور نشہ بھی نہیں چھوڑتا ۔

    سائلہ: ۔نازیہ احمد نوید

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر شوہر نے زبانی ،کلامی یا تحریر ی خلع نہیں دی ،اور نہ جج میں عدالت کے سامنے خلع پر رضامندی کا اظہار کیاتو ایسی صورت حال میں خلع یا طلاق واقع نہیں۔ اگر واقعی شوہر نشہ کرتا ہے اور نان و نفقہ بھی نہیں دیتا تو اولاً کسی فلاحی ادارے کی وساطت سے اس کا علاج و معالجہ کروائیں ،اگر ٹھیک ہو جائے ،نان و نفقہ پہلے کی طرح دینا شروع کر دے تو اس رشتہ کو برقرار رکھیں ۔اور اگر علاج معالجہ کے لیے راضی نہ ہو،نہ ہی نان و نفقہ دے ۔اور آپ کے پاس گزر بسر کے لیے کوئی اور ذریعہ معاش نہ ہو تو ایسی صورت میں طلاق کے مطالبہ کی گنجائش ہے ۔

    جس کا طریقہ کار یہ ہے:

    اگر شوہر طلاق دے دے تو ٹھیک ،ورنہ شوہر کے خلاف عدالت میں کیس دائر کریں۔شوہر زبانی کلامی ،یا تحریری طور پر خلع دے۔یا عدالت میں جج کے سامنے خلع پر رضامندی کا اظہار کر دے ،تو خلع واقع ہو جائے گی۔اور اگر ایسا کچھ نہ ہو تو پھر شہر کے کسی بڑے مفتی صاحب (جیسے کراچی میں مفتی منیب الرحمن صاحب )کے پاس چلے جائیں وہ کیس سماعت کرنے کے بعد تنسیخِ نکاح کر دیں تو نکاح ختم ہو جائے گا ۔

    فقہ حنفی میں شوہر کے نان و نفقہ نہ دینے ،یا نشہ کرنے کے سبب فسخ نکاح کی اجازت نہیں تاہم دیگر مذاہب میں اس کی اجازت ملتی ہے ،جسے عہد حاضر کے مفتیان ِکرام نے اختیار فرمایا ہے۔

    شریعت نے شوہر پر بیوی کا نفقہ لازم کیا ہے۔قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:لینفق ذو سعۃ من سعتہ و من قدر علیہ رزقہ فلینفق مما ء اتاہ اللہ لا یکلف اللہ نفسا الا مآ ء ا تاھا سیجعل اللہ بعد عسر یسرا۔ ترجمہ : مالدار شخص اپنی وسعت کے لائق خرچ کرے اورجس کی روزی تنگ ہے، وہ اُس میں سے خرچ کرے جو اُسے خدا نے دیا، اﷲ (عزوجل) کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اُتنی ہی جتنی اُسے طاقت دی ہے، قریب ہے کہ اﷲ(عزوجل)سختی کے بعد آسانی پیدا کر دے۔(سورۃ الطلاق آیت7)

    ابو داؤد شریف میں ہے:عن جدہ معاویۃ القشیری قال أتیت رسول اللہ ﷺ قال فقلت ما تقول فی نسائنا ؟ قال أطعموھن مما تأکلون و اکسوھن مما تکتسون و لا تضربوھن و لا تقبحوھن :ترجمہ: حضرت معاویہ قشیری کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کےپاس آیا اور عرض کی کہ آپ ہمیں ہماری بیویوں کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو تم کھاتے ہوانہیں بھی کھلاؤ کماتے ہو انہیں اس مال سے کپڑے پہناؤ ،انکو مارپیٹ مت کرو اور برا بھلا مت کہو۔( ابو داود شریف ، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا ،ج 1ص309)

    تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے : (وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا بِعَجْزِهِ عَنْهَا) بِأَنْوَاعِهَا الثَّلَاثَةِ (وَلَا بِعَدَمِ إيفَائِهِ) لَوْ غَائِبًا (حَقَّهَا وَلَوْ مُوسِرًا)ترجمہ:اور نفقہ سے عاجز آنے یا (غائب ہونے کی صورت میں )عورت کا حق ادا نہ کرنے کی صورت میں میاں بیوی کے مابین جدائی نہیں کی جائیگی ، اگر چہ شوہر صاحب حیثیت ہو۔( تنویر الابصار مع الدر المختار،کتاب النکاح ،مَطْلَبٌ فِي فَسْخِ النِّكَاحِ بِالْعَجْزِ عَنْ النَّفَقَةِ وَبِالْغَيْبَةِ،،جلد 3 صفحہ 590 دار الفکر بیروت)

    امام اہلسنت سیدی اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:بے افتراق بموت یا طلاق دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی، ہمارے نزدیک، غیبت خواہ عسرت کے سبب ،ادائے نفقہ سے شوہر کا عجز یا تحصیل نفقہ سے عورت کی محرومی باعثِ تفریق نہیں۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب النکاح ،جلد 12 ص 511،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان لکھتے ہیں:وہ وجوہ جن کی بناء پر مختلف ائمہ کرام کے مسالک میں قاضئِ مجاز یا جج کے لئے '' فسخِ نکاح'' کی گنجائش نکل سکتی ہے یا ایسی مصیبت زدہ بیوی کے لئے ایسی رخصت ورعایت موجود ہے کہ انتہائی اذیت ناک صورتِ حال سے اسکو نجات مل جائے بشرطیکہ ان شرائط و قرائن کی بنیاد پرقاضی کو ظن غالب یا یقین ہوجائے ، یہ ہیں:(1)شوہر بیوی کو نان و نفقہ نہ دیتا ہو ،ظالمانہ انداز میں بے انتہا مار پیٹ کرتا ہو ،حقوق زوجیت ادا نہ کرتا ہو اور اسے معلق حالت میں روکے رکھنا چاہتا ہوتو(ایسی صورت میں عدالت فسخ نکاح کرسکتی ہے)۔(تفہیم المسائل جلد 3صفحہ 269)

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:14صفر المظفر 1443 ھ/22ستمبر 2021ء