بیوی کا نام غلط لے کر طلاق دینے سے طلاق کا حکم
    تاریخ: 9 فروری، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 757

    سوال

    زید نے دوسری شاد ی کی تو پہلی بیوی نے اپنے گلے پر تیز چھری رکھ کر کہا کہ تم پہلی بیوی کو طلاق دو ورنہ میں چھری چلا دوں گی تو زید نے دوسری بیوی کو فون کیا اور اسے کہا کہ اے عائشہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں جبکہ اس کا نام عائشہ نہیں تھا سلمہ تھا۔

    نوٹ :شوہر نے فون اپنی بیوی ہی کو کیا ۔

    سائل:علامہ رمضان تونسوی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں طلاق واقع ہو چکی ہے ۔

    وقوع ِ طلاق کی وجہ : شوہر کا دوسری بیوی سے طلاق کا جو معاملہ ہوا اس کے اندر خطاب اور نام میں تضاد واقع ہوا ہے یوں کہ جس کو مخاطب کر کے طلاق دی تھی تو وہ اس کی بیوی مگر اس کا نام عائشہ نہیں بلکہ سلمی تھا ۔اس طرح کے مواقع کا ضابطہ فقہیہ یہ ہے کہ جب نام اور خطاب میں تضاد آ جائے تو اعتبار، خطاب کا ہوتا ہے نام کا نہیں جس طرح کہ نام اور اشارے میں جب فرق آ جائے تو اعتبار اشارےکا ہوتا ہے ۔ لہذا جب شوہر نے صریح لفظوں میں بیوی کو طلاق دی، اور مخاطب بھی وہی بیوی تھی ، تو محض نام کی غلطی سے طلاق کے وقوع میں فرق نہیں پڑے گا ۔

    رد المحتار میں ہے "ولو أشار إلى امرأة وقال يا زينب أنت طالق، فإذا هي عمرة، يقع الطلاق على عمرة، تعتبر الإشارة وتبطل التسمية."ترجمہ: "اگر کوئی کسی عورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہے: 'اے زینب! تجھے طلاق' اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ درحقیقت عمرہ تھی، تو طلاق عمرہ پر ہی واقع ہوگی، کیونکہ یہاں اشارہ معتبر ہوگا، نام نہیں۔"(رد المحتار علی الدر المختار، ج 3، ص 227، دار الفکر)

    فتاوی قاضی خان میں ہے :ولا تعتبر التسمية والصفة مع الإشارة رجل له امرأتأن عمرة وزينب فقال يا زينب فأجابته عمرة فقال أنت طالق ثلثاً وقع الطلاق على التي أجابت أن كانت امرأته وأن لم تكن امرأته بطل لأنه أخرج الطالق جواباً لكلام التي أجابت وأن قال بويت زينتا طلقت زينت ولو قال يا زينب أنت طالق فلم يجبه أحد طلقت زينت ولو قال لامرأة ينظر إليها ويشير إليها يا زينب أنت طالق فإذا هي امرأة له أخرى اسمها عمرة يقع الطالق على عمرة تعتبر الإشارة وتبطل التسمية ۔ترجمہ: اگر کوئی شخص اپنی دو بیویوں عمرہ اور زینب میں سے کسی کو طلاق دے، اور وہ کہے: "اے زینب!" تو جواب میں عمرہ بول اٹھے، پھر وہ کہے: "تمہیں تین طلاق"—تو طلاق اسی عورت پر واقع ہوگی جو جواب دے رہی ہے، بشرطیکہ وہ اس کی بیوی ہو۔ لیکن اگر وہ اس کی بیوی نہ ہو، تو طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ شوہر نے طلاق کے الفاظ اسی کے جواب کے ردِّعمل میں کہے جو بولی تھی۔اور اگر شوہر یہ کہے کہ "میری نیت زینب کی تھی" تو طلاق زینب پر واقع ہوگی۔اور اگر وہ کہے: "اے زینب! تم طلاق یافتہ ہو" لیکن کوئی بھی جواب نہ دے، تب بھی طلاق زینب پر واقع ہوگی۔لیکن اگر وہ کسی عورت کو دیکھتے ہوئے اور اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہے: "اے زینب! تم طلاق یافتہ ہو" اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ عورت درحقیقت اس کی دوسری بیوی عمرہ تھی، تو طلاق عمرہ پر واقع ہوگی، کیونکہ یہاں اشارہ معتبر ہوگا اور نام کا اعتبار نہیں ہوگا۔( فتاوى قاضيخان،کتاب الطلاق جلد 1،صفحہ 396،قدیمی کتب خانہ )

    شمس الائمہ السرخسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وإن قال لامرأته يشير إليها: يا زينب! أنت طالق، فإذا هي عمرة، طلقت عمرة، إن كانت امرأته، وإن لم تكن امرأته، لم تطلق زينب؛ لأن التعريف بالإشارة أبلغ من التعريف بالاسم، فإن التعريف بالإشارة يقطع الشركة من كل وجه، وبالاسم لا، فكان هذا أقوى، ولا يظهر الضعيف في مقابلة القوي؛ فكان هو مخاطبا بالإيقاع لمن أشار إليها خاصة"ترجمہ:اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہے: 'اے زینب! تم طلاق یافتہ ہو' اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ درحقیقت عمرہ تھی، تو طلاق عمرہ پر واقع ہوگی، بشرطیکہ وہ اس کی بیوی ہو۔ لیکن اگر عمرہ اس کی بیوی نہ ہو، تو زینب پر طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ اشارے کے ذریعے پہچان (تعیین) نام کے ذریعے پہچان سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔کیونکہ اشارے کے ذریعے شناخت مکمل اور قطعی ہوتی ہے، جو کسی بھی طرح کی اشتراک (مبہم صورت) کو ختم کر دیتی ہے، جبکہ نام کے ذریعے شناخت میں اشتراک کا امکان باقی رہتا ہے۔ لہٰذا اشارہ زیادہ قوی دلیل ہونے کی وجہ سے نام کے مقابلے میں اس کا اعتبار کیا جائے گا، اور قوی دلیل کے مقابلے میں کمزور دلیل کو رد کر دیا جاتا ہے۔ اسی لیے طلاق صرف اسی عورت پر واقع ہوگی جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہو۔(المبسوط للسرخسی جلد 6، صفحہ 121)۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:22شعبان المعظم1446 ھ/21فروری2025ھ