wirasat aur wasiyat ka sharai hukum
سوال
جناب مفتی صاحب السلام علیکم
میں وراثت کے سلسلے میں ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں ،میری ساس کا انتقال ہوچکا ہےاور ورثہ میں انہوں نے ایک عدد گھر چھوڑا ہے جس کی قیمت تقریبا 12 لاکھ ہے جو اسٹیٹ ایجنسی والے سے معلوم کروئی ہے، ان کے ورثاء میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے،جس میں سے ایک بیٹی میری ساس سے پہلے ہی انتقال کرچکی ہے، لیکن میری ساس نے مرنے سے قبل کہا تھا کہ اس بیٹی کی بیٹیوں کو بھی کچھ نہ کچھ دینا ہے تاکہ ان کی شادی وغیرہ میں کام آجائے ۔ اب آپ بتائیے کہ اس کی تقسیم کیسے ہوگی ۔ جواب دیکر رہنمائی کریں ۔
سائل: عبد الرزاق
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
میت کے انتقال کے بعد اسکی تجہیز و تکفین اور اگر اس پر کسی کا قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ضروری ہے پھر اسکے بعد جو مال بچے اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہو تواس بقیہ مال کے تین حصے کیے جاتے ہیں ،ایک حصہ سے وصیت پوری کی جاتی ہے اور بقیہ دو حصہ اسکے ورثاء میں شریعت کے مطابق تقسیم کر دئیے جاتے ہیں۔
السراجی فی المیراث ص 5پر ہےقال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ :ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔
مذکورہ صورت میں آپکی ساس نے اپنی نواسیوں کے لیے وصیت کی کہ انکو بھی وراثت میں سے کچھ دیا جائے چونکہ حقیقی بیٹیوں کی موجودگی میں نواسیاں وارث نہیں ہوتی اس لیے یہ وصیت ان کے حق میں جائز ہے اور نافذ ہوگی ،۔
بدائع الصنائع کتاب الوصایا فصل فی شرائط رکن الوصیۃ جلد 7 ص 337 میں ہے(وَمِنْهَا) أَنْ لَا يَكُونَ وَارِثُ الْمُوصِي وَقْتَ مَوْتِ الْمُوصِي، فَإِنْ كَانَ لَا تَصِحُّ الْوَصِيَّةُ لِمَا رُوِيَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ «إنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ»ترجمہ:ور موصیٰ لہ ( جس کے لیے وصیت کی جارہی ہے ) کی شرط یہ بھی ہے کہ وہ موصی(وصیت کرنے والے) کی موت کے وقت اسکا وارث نہ ہو، اگر وارث ہوگا تو اسکے حق میں وصیت صحیح نہیں ہے، کیونکہ حضرت ابو قلابہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد رمایا کہ اللہ تعالی نے ہر وارث کو اس کا مکمل حق دے دیا ہے لہذا وارث کے حق میں وصیت نہیں ہے۔
لیکن چونکہ وصیت میں سے انکو کتنا دیا جائے اس کی تعیین نہیں کی گئی لہذا اس صورت میں آپ تمام ورثاء کو حق ہے کہ اپنی خوشی اور رضا سے جتنا چاہے دے دیں۔
بدائع الصنائع کتاب الوصایا باب وجود الموصی عند موت الموصی جلد 7ص 356میں ہےإذَا أَوْصَى لِرَجُلٍ بِجُزْءٍ مِنْ مَالِهِ أَوْ بِنَصِيبٍ مِنْ مَالِهِ أَوْ بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ أَوْ بِبَعْضٍ أَوْ بِشِقْصٍ مِنْ مَالِهِ، فَإِنْ بَيَّنَ فِي حَيَاتِهِ شَيْئًا، وَإِلَّا أَعْطَاهُ الْوَرَثَةُ بَعْدَ مَوْتِهِ مَا شَاءُوا؛ لِأَنَّ هَذِهِ الْأَلْفَاظَ تَحْتَمِلُ الْقَلِيلَ، وَالْكَثِيرَ، فَيَصِحُّ الْبَيَانُ فِيهِ مَادَامَ حَيًّا، وَمِنْ وَرَثَتِهِ إذَا مَاتَ؛ترجمہ:جب کسی نے کسی کے لیے وصیت کی کہ اسکو کچھ مال دے دیا جائے تو اگر اس نے اپنی زندگی میں بیان کر دیا کہ اتنا دے دیا جائے تو ٹھیک ہے ورنہ اس کے ورثاء اسکی موت کے بعد جتنا چاہیں دے دیں جس پر وہ راضی ہوں، کیونکہ یہ الفاظ (کہ کچھ دے دیا جائے) قلیل و کثیر دونوں کا احتمال رکھتے ہیں لہذا جب تک وہ زندہ تھا اسکا بیان صحیح تھا اور جب مر گیا تو اسکے ورثاء کے طرف سے صحیح تھا۔
لہذا آپ تمام ورثاء کو حق ہے کہ اپنی خوشی اور رضا سے جتنا چاہے دے دیں۔
ورثاء میں اب دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے لہذا وصیت دینے کے بعد جو مال بچے گا اسکو 4 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے دو حصے بیٹے کو اور ایک،ایک حصہ بیٹیوں کو مل جائے گا۔ قال اللہ تعالیٰیُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ:ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہےومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین :ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی