عورت شوہر کے ساتھ رہنے پر رضامند نہیں
    تاریخ: 30 جنوری، 2026
    مشاہدات: 23
    حوالہ: 702

    سوال

    میں محمد شاداب انور مغل کا اپنی بیوی شائستہ سے جھگڑا ہوگیا اور اس دوران میں نے اسکو ایک طلاق دے دی اور پھر تین ماہ کے اندر میں نے رجوع بھی کرلیا ، میرا ایک بیٹا بھی ہے ،محمد سعد مغل لیکن اس رجوع کے باوجود میری بیوی نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں رکھا زیادہ تر اپنے والد کے گھر رہتی ہے ، جب لڑائی ہوتی ہے ،گھر چلی جاتی ہے پھر بڑے صلح کرواتے ہیں تو 4 یا 6 مہینے رہتی ہے پھر لڑائی کرکے چلی جاتی ہے 8 سال سے ایسا ہی کررہی ہے اب مجھے بتائیے کہ اس حالت میں میں کیا کروں شریعت کا کیا حکم ہے۔

    سائل: محمد شاداب انور مغل


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مفتی کا کام پوچھے گئے سوال کا جواب دینا ہے واقعے کی تحقیق اس کے ذمے لازم نہیں ہے لہذا اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیاکہ آپ نے ایک طلاق دے کر رجوع کرلیا تھا تو وہ بدستور آپکی بیوی ہیں لیکن ایک طلاق دینے کے بعد اب آپ کو صرف دو طلاق کا حق باقی ہے۔بہرحال آپ ان کے ساتھ رہ سکتے ہیں اگر وہ ساتھ رہنے پر راضی نہیں جیسا کہ آپ نے سوال میں ذکر کیا یا آتی ہیں تو بار بار واپس چلی جاتی ہے تو یہ بات قابل غور ہے آپکی بیوی کس بناء پر آپ کے ساتھ رہنے پر تیار نہیں؟کیا اس کے لئے وہاں چار دیواری اور پردہ داری کا انتظام ہے؟ نیز اسکا شوہر اسکے حقوْق ادا کر رہا ہے؟ مثلاًنان نفقہ و دیگر حق زوجیت ،نیز بے جا سختی اور مار پیٹ کا سلسلہ تو نہیں ؟ چناچہ اگر مذکورہ باتو ں میں کوتاہی آپکی بیوی کے سسرال آنے سے یا مستقل نہ رہنے سے مانع ہے تو اُس کی یہ پریشانی دور کر کے گھر بسایا جائے۔

    اور اگر معاملہ اسکے برعکس ہے یعنی انانیت ،اضافی سہولیات اور خواہشات،یا پسند نا پسند کی بنیاد پر ناراضگی قائم ہے تو ایسی عورتس روز محشر سخت گرفت کا شکار ہوسکتی ہے۔

    مشکاۃالمصابیح میں یہ حدیث موجود ہے: وَعَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی أَضْحًی أَوْ فِطْرٍ إِلَی الْمُصَلَّی فَمَرَّ عَلَی النِّسَاء ِ فَقَالَ یَا مَعْشَرَ النِّسَاء ِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِی أُرِیتُکُنَّ أَکْثَرَأَہْلِ النَّارِ فَقُلْنَ وَبِمَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ تُکْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیرَ: ترجمہ:روایت ہے حضرت ابی سعید خدری سے کہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقرعید یاعِید الفطرمیں عید گاہ تشریف لے جاتے ہوئے عورتوں کی جماعت پر گزرے تو فرمایا کہ اے بیبیو!خوب خیرات کرو کیونکہ مجھے دکھایا گیا ہے کہ تم زیادہ دوزخ والی ہو انہوں نے عرض کیا حضور یہ کیوں؟ فرمایا تم لعن طعن زیادہ کرتی ہواور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔

    بہرحا ل اگر صورتحال اسی طرح ہے (یعنی بغیر کسی معقول وجہ کے بیوی واپس نہیں آرہی اور منانے کی کوئی ترکیب بھی کارگر نہیں ہورہی )تو اسے ابتداءََطلاق کی دھمکی دی جائے، پھر بھی کوئی فرق نہ پڑے تو شرعی طریقے سے طلاق دی جائے ،اور طلاق کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ جس طہر(پاکی کے ایام جو حیض کے علاوہ ہوتے ہیں اور اُن دنو ں میں تعلق زوجین حلال ہوتا ہے) میں تعلق قائم نہیں کیا اس میں ایک طلاق دے ، مثلاوہ اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے ایک طلاق دی، اس طرح وہ عورت اسکے نکاح سے من وجہ نکل جائےگی اور عدت میں چلی جائےگی ، اور جیسے ہی عدت ختم ہوگی ویسے ہی آپکے نکاح سے مکمل نکل جائے گی ۔ اب اگر بعد میں دوبارہ ملنا چاہیں تو صرف نیا نکاح اور نیا حق مہر طے کرنا ہوگا۔یہاں یہ مسئلہ بھی ذہن نشین رہے کہ طلاق ایک دی جائے یا دو یا تین، عورت سے رشتہ ہر صورت میں ختم ہوگا مگرایک یا دو طلاقوں کے بعد اسی عورت سے دوبارہ نکاح جائز ہوگا مگر تین کے بعد دوبارہ نکاح بغیر حلالے کے نہیں ہوسکتا ، اور چونکہ بکثرت یہ مسئلہ مفتیان کرام کے پاس لایا جاتا ہے کہ مرد نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دیدی پھر خیال آیا کے بچوں کی خاطر گھر بسایا جائے ، مگر اس وقت کیا کیا جائے ،جب اپنے ہی ہاتھوں سے آشیانہ جلادیاجائے،لہذا بہتر یہی ہے کہ مرد اگر بحالت مجبوری طلاق دینا چاہے تو فقط ایک طلاق دے، اسی میں زوجین کی بھلائی ہے، ہوسکتا ہے کوئی سمجھوتہ ہوجائے اور زوجین کے درمیان پھر سے میلان پیدا ہوجائے، اور دوبارہ نکاح کی ترکیب بن جائے، کیونکہ ایک یا دو طلاق کے بعد رجوع یا نکاح جدید کا سلسلہ ممکن ہے جبکہ تین طلاقوں کے بعد نکاح ممکن نہیں سوائے یہ کہ حلالہ شرعی کیا جائے۔ طلاق یافتہ کی عدت تین حیض (اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینے)اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء (البقرہ ٢٢٨)ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔

    والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ (الطلاق ٤) ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:3محرم الحرام 1440 ھ/14ستمبر 2018 ء