سوال
میں نے شدید غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی۔ لیکن اس وقت میری کوئی نیت یا ارادہ نہیں تھا ۔ میں نے کافی مفتیان سے معلوم کیا ہے کہ ایسا غصہ ہو تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔
سائل:محمد ابراہیم:ضلع سرگودھا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر طلاق دیتے وقت آپکی عقل سلامت تھی تو آپ کی بیوی کو تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ،جس کے بعد آپ کی والدہ ان پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہیں :ردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے :إنَّهُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ: أَحَدُهَا أَنْ يَحْصُلَ لَهُ مَبَادِئُ الْغَضَبِ بِحَيْثُ لَا يَتَغَيَّرُ عَقْلُهُ وَيَعْلَمُ مَا يَقُولُ وَيَقْصِدُهُ، وَهَذَا لَا إشْكَالَ فِيهِ. وَالثَّانِي أَنْ يَبْلُغَ النِّهَايَةَ فَلَا يَعْلَمُ مَا يَقُولُ وَلَا يُرِيدُهُ، فَهَذَا لَا رَيْبَ أَنَّهُ لَا يَنْفُذُ شَيْءٌ مِنْ أَقْوَالِهِ.الثَّالِثُ مَنْ تَوَسَّطَ بَيْنَ الْمَرْتَبَتَيْنِ بِحَيْثُ لَمْ يَصِرْ كَالْمَجْنُونِ فَهَذَا مَحَلُّ النَّظَرِ۔۔۔۔۔ حَيْثُ قَالَ: وَيَقَعُ الطَّلَاقُ مِنْ غَضَبٍ خِلَافًا لِابْنِ الْقَيِّمِ اهـ وَهَذَا الْمُوَافِقُ عِنْدَنَا۔ ۔۔ وَاَلَّذِي يَظْهَرُ لِي أَنَّ كُلًّا مِنْ الْمَدْهُوشِ وَالْغَضْبَانِ لَا يَلْزَمُ فِيهِ أَنْ يَكُونَ بِحَيْثُ لَا يَعْلَمُ مَا يَقُولُ بَلْ يُكْتَفَى فِيهِ بِغَلَبَةِ الْهَذَيَانِ وَاخْتِلَاطِ الْجَدِّ بِالْهَزْلِ كَمَا هُوَ الْمُفْتَى بِهِ فِي السَّكْرَانِ۔ ترجمہ:غصے کی تین درجات ہیں ،ایک یہ کہ ابھی ابتدائی صورت ہو اور اس کی عقل سلامت ہو کہ جو بول رہا ہو وہ جانتا بھی ہواور اس کا قصد بھی ہو ؛تو اس صورت کے سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں ہے (کہ طلاق واقع ہو جائے گی )دوسرا یہ کہ غصے کی انتہائی کیفیت ہوکہ جو بول رہا ہے اس سے نا واقف ہو اور اس کا قصد بھی نہ ہو تو اس صورت میں بلا شبہ اس کے الفاظ نافذ نہیں ہونگے ۔اور تیسرا یہ کہ غصے کی ان دو حالتوں کے درمیانی کیفیت ہو کہ وہ جنون کی حالت میں نہ ہو تو اس صورت میں اختلاف ہے۔ (علامہ شامی علیہ الرحمہ غایہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:)اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی ،اور یہی قول ہمارے موافق ہے ،بر خلاف ابن قیم کے (اور آگے خلاصۃ ً لکھتے ہیں کہ :)میرے لیئے جو ظاہر ہے وہ یہ کہ مدہوش اور غصے میں مبہوت شخص کے لیئے یہ لازم نہیں ہے کہ اس کو پتہ نہ چلے کہ وہ کیا بول رہا ہے بلکہ اتنی بات کا فی ہے کہ وہ اول فول بول رہا ہو اور الٹی و سیدھی باتوں کو ملا رہا ہو ،جیساکہ یہی صورت مفتی بہ ہے نشہ والے شخص کے حق میں ۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار،مطلب فی تعریف السکران ،ج:3ص:244،طبع:دارالفکر ،بیروت)
واﷲ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:22 جمادی الاول 1441 ھ/18 جنوری 2020ء