غیر مدخول بہا کی طلاق
    تاریخ: 30 جنوری، 2026
    مشاہدات: 23
    حوالہ: 704

    سوال

    میری بیٹی وجیہہ ہاشمی کا نکاح رضوان احمد سے ہوا رخصتی نہیں ہوئی ، کچھ مسائل کی وجہ سے ہم نے رضوان احمد سے طلاق نامہ بنواکر رضوان سے تین طلاق لے لی۔ پیپر پر طلاق یوں تحریر تھی

    میں رضوان احمد اپنی منکوحہ وجیہہ ہاشمی کو طلاق دیتا ہوں ۔

    میں رضوان احمد اپنی منکوحہ وجیہہ ہاشمی کو طلاق دیتا ہوں ۔

    میں رضوان احمد اپنی منکوحہ وجیہہ ہاشمی کو طلاق دیتا ہوں ۔

    اسکے بعد اس نے فون پو بھی تین طلاقیں دی جسکی ریکارڈنگ ہمارے پاس محفوظ ہے (جو ہم نے مفتی صاحب کو بھی سنائی ہے)جس میں رضوان نے میری بیٹی کے لیے یہی الفاظ دہرائے کہ

    میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ۔

    میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ۔

    میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ۔

    اب اس صورت حال میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟ ان دونوں کا دوبارہ نکاح ہوسکتاہے یا نہیں؟ برائے کرم رہنمائی فرمادیں۔

    سائل: شیخ ذولفقار علی ہاشمی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    نوٹ:جناب شیخ ذولفقار علی ہاشمی دارالافتاء تشریف لائے اور ہمیں مذکورہ طلاق نامہ دکھایا اور جناب محمد رضوان کی آڈیو ریکارڈنگ سنائی ، طلاق نامہ اور ریکارڈنگ اوپر دیئے گئے بیان کے مطابق ہیں ۔

    ذکرکردہ صورت کا حکم شرع یہ ہے کہ محمد رضوان اور وجیہہ ہاشمی باہم نکاح کرسکتے ہیں ۔نکاح کے بعد محمد رضوان صرف دو طلاق دینے مجاز ہونگے ۔اگر خدا نخواستہ یہ دو طلاقیں بھی دے دیں تو اب انکی بیوی ان پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائیں گی ، اسکے بعد رجوع کرنا چاہیں تو بغیر حلالہ کے رجوع ممکن نہ ہوگا۔

    کیونکہ غیرمدخول بہا یعنی وہ عورت جسکا صرف نکاح ہوا رخصتی نہ ہوئی کو یک بارگی تین طلاقیں دی جائیں یعنی یوں کہا کہ تجھے تین طلاق تو تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اب عورت بغیر حلالہ شرعی کے شوہر کے ساتھ نہیں رہ سکتی ۔ اور اگر تین طلاقیں متفرق طور پر دی جائیں یعنی یوں کہے تجھے طلاق،تجھے طلاق،تجھے طلاق ،اس صورت میں ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور باقی دو لغو و بیکار ہوجائیں گی ،کیونکہ غیر مدخول بہا عورت ایک طلاق سے ہی بائن ہوجاتی ہے اور باقی کا محل نہیں رہتی ۔اور یہاں بعینہ یہی صورت ہے لہذا یہاں بھی یہی حکم ہوگا۔تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے:قَالَ لِزَوْجَتِهِ غَيْرِ الْمَدْخُولِ بِهَا أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا وَقَعْنَ وَإِنْ فَرَّقَ بَانَتْ بِالْأُولَى وَلَمْ تَقَعْ الثَّانِيَةُ :ترجمہ: اپنی غیر مدخول بہا بیوی سے کہا تجھے تین طلاقیں تو تین ہی واقع ہونگی اور اگر تینوں جدا جدا کہی تو پہلی سے بائن ہوجائے گی اور دوسری واقع نہ ہوگی ۔

    اسکے تحت علامہ شامی رقمطراز ہیں :(قَوْلُهُ لَمْ تَقَعْ الثَّانِيَةُ) الْمُرَادُ بِهَا مَا بَعْدَ الْأُولَى، فَيَشْمَلُ الثَّالِثَةَ:ترجمہ: دوسری واقع نہ وہگی سے مراد یہ ہے کہ پہلی کے بعد والی واقع نہ ہوگی پس اس میں تیسری بھی شامل ہے۔(رد المحتار علی الدر المختارشرح تنویرالابصار کتاب الطلاق جلد 3ص 286 الشاملہ)

    سیدی اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں: عورت غیر مدخولہ ہے اور اس نے تین طلاقیں بتفریق ذکر کی ہیں کہ طلاق ہے وطلاق ہے وطلاق ہے ایک ہی واقع ہوگی،اب بعد نکاح کے عورت پر صرف دو طلاقوں کا مالک رہے گا کہ ایک تو نکاح پیش میں پڑچکی اب اگر کبھی دو طلاقیں دے گا مغلظہ ہوجائے گی۔ملخصا(فتاویٰ رضویہ کتاب الطلاق جلد 13 ص 114 )

    خلاصہ یہ ہے کہ محمد رضوان اور وجیہہ ہاشمی آپس میں نکاح کرسکتے ہیں ۔لیکن نکاح کے بعد محمد رضوان صرف دو طلاق دینے کے اہل ہونگے ۔ اگر خدا نخواستہ یہ دو طلاقیں بھی دے دیں تو اب انکی بیوی ان پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائیں گی۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصوا ب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:27 ربیع الاول 1440 ھ/06 دسمبر 2018 ء