سوال
میرے داماد نے بیٹی کو بذریعہ اسٹامپ پیپر طلاق دی ہے جس پر تین طلاق موجود ہیں ۔ اسٹامپ پیپر سوالنامے کے ساتھ لف ہے۔ اسی تناظر میں چند سوالات ہیں۔
1: اس اسٹامپ پیپر کے مطابق طلاق ہوئی یا نہیں؟اگر ہوگئی تو عدت کی کیا تفصیل ہے عدت کب سے کب تک ہوگی؟
2: عدت کے دوران لڑکی کے اخراجات کس کے ذمے ہیں، شوہر کے یا لڑکی کے گھر والوں کے؟
3: نکاح کے وقت اور نکاح کے بعد لڑکے اور لڑکیوں والوں کے درمیان ہونے والے باہمی لین دین کا کیا حکم ہے؟کونسی چیز ہم واپس لے سکتے ہیں اور کون سی نہیں؟ اسی طرح لڑکے والے کونسی چیز واپس لینے کا تقاضا کرسکتے ہیں اور کون سی نہیں؟ تفصیلاً آگاہ فرمائیں۔
نوٹ: طلاق نامے پر تین بار یہ الفاظ درج ہیں : میں ارقم شیخ ولد محمد نعیم مسماۃ مریم علی بنت محمد علی کو طلاق دیتا ہوں ۔
سائل:محمد علی اجمیری : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: بلاشبہ مذکورہ اسٹامپ پیپر کے مطابق لڑکی کو تین طلاقیں واقع ہوگئیں ہیں، جسکے بعد لڑکی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے اب دونوں کا بغیر حلالہ شرعی ساتھ رہنا حرام ہے۔ طلاقیں واقع ہوتے ہی ان پر عدت لازم ہوچکی۔عدت کی تفصیل یہ ہے:طلاق یافتہ کی عدت تین حیض، اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینے عدت ہے اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی،ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرۃ:228)
دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالٰی ہے: والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق: 04)
جس طرح زبان سے دی جانے والی طلاق مؤثر ہوتی ہیں یونہی تحریری طلاق بھی مؤثر ہوتی ہے، کیونکہ تحریر عند الشرع خطاب کے درجے میں ہوتی ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے:القلم احد اللسانین ۔ترجمہ:قلم دوزبانوں میں سے ایک ہے۔(ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ،جلد9ص 675)
حاشیہ شامی وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے واللفظ لہ:الْکِتَابَۃُ عَلَی نَوْعَیْنِ: مَرْسُومَۃٍ وَغَیْرِ مَرْسُومَۃٍ، وَنَعْنِی بِالْمَرْسُومَۃِ أَنْ یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا مِثْلُ مَا یُکْتَبُ إلَی الْغَائِبِ. وَغَیْرُ الْمَرْسُومَۃِ أَنْ لَا یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا، وَہُوَ عَلَی وَجْہَیْنِ: مُسْتَبِینَۃٍ وَغَیْرِ مُسْتَبِینَۃٍ، فَالْمُسْتَبِینَۃُ مَا یُکْتَبُ عَلَی الصَّحِیفَۃِ وَالْحَائِطِ وَالْأَرْضِ عَلَی وَجْہٍ یُمْکِنُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. وَغَیْرُ الْمُسْتَبِینَۃِ مَا یُکْتَبُ عَلَی الْہَوَاء ِ وَالْمَاء ِ وَشَیْء ٌ لَا یُمْکِنُہُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. فَفِی غَیْرِ الْمُسْتَبِینَۃِ لَا یَقَعُ الطَّلَاقُ وَإِنْ نَوَی، وَإِنْ کَانَتْ مُسْتَبِینَۃً لَکِنَّہَا غَیْرَ مَرْسُومَۃٍ إنْ نَوَی الطَّلَاقَ وَإِلَّا لَا، وَإِنْ کَانَتْ مَرْسُومَۃً یَقَعُ الطَّلَاقُ نَوَی أَوْ لَمْ یَنْوِ ثُمَّ الْمَرْسُومَۃُ۔ ترجمہ: کتابتِ (طلاق ) کی دو قسمیں ہیں ،(1) مرسومہ (2) غیر مرسومہ اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس پر طلاق کاعنوان ہو جیسے کسی شخص کوخط لکھتے ہیں تو اس پر عنوان دیتے ہیں،اور غیر مرسومہ سے مراد جس پر طلاق کا عنوان نہ ہو،پھر اس (غیرمرسومہ) کی دو قسمیں ہیں۔مستبینہ اور غیر مستبینہ (یعنی واضح اور غیر واضح) مستبینہ وہ ہے جو دیوار،زمین یا کسی کاغذپر لکھ کر دی جائے کہ جسکو پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہو، اورغیر مستبینہ وہ ہے جو پانی ،ہوا یا ایسی چیز پر لکھ کر دی جائے جس کو سمجھنا اور پڑھنا ممکن نہ ہو،پس غیر مستبینہ (یعنی اس آخری والی صورت میں) طلاق واقع نہیں ہوگی ،اگر چہ طلاق دینے کی نیت کی ہو، اور اگر مستبینہ ہو لیکن غیر مرسومہ ہو تو اگر نیت کی تو طلاق واقع ہوجائے گی اور نیت نہیں کی تو نہیں ہوگی،اور اگر طلاق مرسومہ ہو(یعنی اس پر طلاق کا عنوان ہو جیسے آج کل کا طلاق نامہ) تو نیت کرے یا نہ کرے طلاق واقع ہوجائے گی۔(حاشیہ شامی کتاب الطلاق مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ج3ص246،عالمگیریہ کتاب الطلاق الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ ج1 ص414)
طلاق نامہ بھی مرسومہ طلاق کی ایک صورت ہے لہذا مریم علی بنت محمد علی کو طلاق نامہ کے مطابق تین طلاقیں واقع ہو گئیں۔
2: عدت کے دوران اخراجات:
دورانِ عدت طلاق یافتہ عورت کا خرچہ شوہر کے ذمہ لازم ہے خواہ کوئی سی بھی طلاق ہو ایک طلاق ہو یا تین، رجعی ہو یابائن، عورت حاملہ ہو یا نا ہو ہر صورت میں شوہر پر خرچہ لازم ہے جبکہ عورت شوہر کے گھر میں عدت گزارے ۔ اگر بلاجازت شوہر میکے چلی گئی اور وہاں عدت گزاری تو اب لازم نہیں ، یونہی شوہر نے عورت کے والدین سے کہا کہ میں نے طلاق دے دی ہے لے جاؤ تب بھی دورانِ عدت عورت کے اخراجات شوہر کے ذمے لازم ہونگے، خواہ عدت کتنی ہی طویل کیوں نہ ہوجائے۔
اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗ اُخْرٰى۔ترجمہ: عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو اپنی طاقت بھر اور انہیں ضرر نہ دو کہ ان پر تنگی کرو اور اگر حمل والیاں ہوں تو انہیں نان نفقہ دو یہاں تک کہ ان کے بچہ پیدا ہو پھر اگر وہ تمہارے لیے بچہ کو دودھ پلائیں تو انہیں اس کی اجرت دو اور آپس میں معقول طور پر مشورہ کرو پھر اگر باہم مضائقہ کرو(دشوار سمجھو) تو قریب ہے کہ اسے اور دودھ پلانے والی مل جائے گی۔ (الطلاق: 06)
اسکے تحت صدر الافاضل سید نعیم الدین مراد آبادی فرماتے ہیں: مسئلہ : نفقہ جیسا حاملہ کو دینا واجب ہے ایسا ہی غیرِ حاملہ کو بھی خواہ اس کو طلاقِ رجعی دی ہو یا بائن ۔(کنزالایمان سورۃ الطلا ق آیت: 6)
ہندیہ میں ہے: المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن۔ترجمہ:طلاق کی عدت گزارنے والا نفقہ اور رہائش کا مستحق ہوگا خواہ طلاق رجعی ہو یا بائن ، تین ہو یا عورت حاملہ ہو یا نہ ہو۔ (الفتاوى الهندية ، كتاب الطلاق ، الباب السابع عشر في النفقات ، الفصل الثالث في نفقة المعتدة ، ج: 1 ص: 557)
3:لڑکے اور لڑکی والوں کے مابین لین دین کا شرعی حکم:
لین دین کی درج ذیل چار صورتیں متحقق ہیں ۔یکے بعد دیگر ہر صورت کا تفصیلی جواب دیا جائے گا۔
1:جہیز کی صورت میں لڑکی کو ملنے والا سامان:جو سامان لڑکی کو اس کے گھر والوں کی طرف سے جہیز کی صورت میں ملا ہے ۔وہ تمام سامان لڑکی کی ملکیت ہے۔اس میں کسی اور کا حق نہیں۔
ردالمحتارمیں ہے: كل أحد يعلم أن الجهاز ملك المرأة وأنه إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها۔ترجمہ: ہرایک جانتاہےکہ جہیزعورت کی ملکیت ہےلہذا جب شوہراسے طلاق دیدے تووہ تمام جہیزلے لے گی اورجب عورت مرجائے توجہیزمیں وراثت جاری ہوگی۔(رد المحتار علی الدر المختار،جلد:3،ص:158،دارالفکر بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:جہیز ہمارے بلاد کے عرف عام شائع سے خاص مِلک زوجہ ہوتا ہے جس میں شوہر کا کچھ حق نہیں، طلاق ہُوئی تو کُل لے گئی، اور مرگئی تو اسی کے ورثاء پر تقسیم ہوگا۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:12،ص:203،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فتاوی رضویہ میں ایک اورمقام پرہے: زیور، برتن، کپڑے وغیرہ جوکچھ ماں باپ نے دختر کودیاتھا وہ سب ملک دخترہے۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:26،ص:211،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
2: شوہر یا اس کے گھر والوں کی طرف سے جو سامان اور زیورات وغیرہ لڑکی کو دیئے گئے:اس کی درج ذیل تین صورتیں ہے:
(1):شوہر یا اس کے گھر والوں نے صراحتاً (واضح طور پر)لڑکی کو سامان اور زیورات دیتے وقت مالک بناتے ہوئے قبضہ دیا تھا۔
(2):شوہر یا اس کے گھر والوں نے صراحتاً لڑکی کو سامان اور زیورات عاریتاً (یعنی عارضی استعمال کیلئے) دئیے تھے۔
(3):شوہر یا اس کے گھر والوں نے دیتے وقت کچھ بھی نہیں کہا۔
پہلی صورت میں لڑکی سامان اور زیورات کے ہِبہ کیے جانے کی وجہ سے مالکہ ہے، اسی کو یہ سب دیا جائے گا۔ دوسری صورت میں جس نے دیا وہی مالک ہے۔ وہ واپس لے سکتا ہے اور تیسری صورت میں شوہر کے خاندان کا رواج دیکھا جائے گا۔ اگر وہ لڑکی کو ان اشیاء کا مالک بناتے ہیں تو لڑکی کو دیا جائے گا ورنہ وہ حقدارنہیں اس سے واپس لیا جا سکتا ہے۔
امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: چڑھاوے کا اگر عورت کو مالک کردیا گیا تھا خواہ صراحۃً کہہ دیا تھا کہ ہم نے اس کا تجھے مالک کیا یا وہاں کے رسم و عرف سے ثابت ہوکہ تملیک ہی کے طور پر دیتے ہیں جب تو وہ بھی عورت ہی کی ملک ہے ورنہ جس نے چڑھایا اس کی ملک ہے۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:12،ص:260،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
3:لڑکی والوں کی طرف سے لڑکے کو ملنے والا سامان:لڑکے کو جو سامان لڑکی والوں کی طرف سے ملتا ہے ۔مثلاً گاڑی ،بائیک ،سونا وغیرہ ، عرف عام یہی ہے کہ لڑکے کو ہبہ کی جاتی ہیں۔یعنی لڑکے کی طرف سے قبضہ ہونے کے بعد وہ چیز لڑکے کی ملک ہوجاتی ہے۔اور ہبہ کی واپسی سے کوئی مانع نہ پایا جائےتو قاضی کی قضا یا لڑکے کی رضا مندی سے واپس لینے کا اختیار ہے۔ لیکن واپس لینا مکروہ تحریمی یعنی ناجائز وگناہ اورشرعاًنہایت قبیح فعل ہے ، جسےحدیث پاک میں کُتّے کےقےیعنی اُلٹی کرکےاُسے چاٹ لینے سے تعبیرکیاگیا ہے۔اگر کسی نے گفٹ کی ہوئی چیز زبردستی چھین لی ، تو یہ شخص اُس گفٹ کی ہوئی چیز کا مالک نہیں بنے گا، بلکہ جس کو گفٹ دیا تھاوہ چیز اسی کی ملکیت میں باقی رہے گی ۔اور اس کے تمام تصرفات ،ملکِ غیر میں تصرف کرنا کہلائے گا۔
بخاری شریف میں ہے:نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: العائد في هبته كالکلب یقی ءثم یعود في قيئه: ترجمہ: اپنے ہبہ سے رجوع کرنے والااس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے پھر چاٹ جاتا ہے ۔(صحیح البخاری،رقم:2589)
فتاوی رضویہ میں ہے:اگر موانع رجوع نہ ہوں جب بھی رجوع کا خود بخود اختیارنہیں ہوتا بلکہ یا تو موہوب لہ (جس شخص کو گفٹ دیا گیا ہو اس ) کی مرضی سے ہبہ واپس کر لے یا نالش کر کے بحکم حاکم رجوع کرے ،اس کے بعد دوسرے کو ہبہ کر سکتا ہے بغیر اس کے وہی ملک غیر کا ہبہ ہے۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:19،ص:332،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
شادی کےوقت سُسرال سےملنے والےجوڑے کےمتعلق امام اہلسنت الشاہ امام احمدرضاخان فرماتے ہیں: شوہر کا جوڑا ادھر سےآتا ہےبعد قبضہ قطعاً مِلک شوہر ہو جاتا ہے کہ لوگ اُس سےتملیک ہی کا قصد کرتے ہیں وذٰلک واضح لاخفاء بہ۔(فتاوٰی رضویہ، جلد:12،ص:260،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فتاوی رضویہ میں سُسرال کی جانب سےملنے والےجوڑے کی واپسی کے بارے میں لکھاہے: اگرجوڑا مِلکِ شوہر میں موجود اور باقی موانع رجوع بھی مفقود ہوں مثلاً والدینِ زن نے بنایا تو اُن سے قرابت محرمہ نسبیہ نہ ہو، یا مالِ زوجہ سے بنا تو پیش ازنکاح بھیجا گیا ہوتو شوہر کی رضا یاقاضی کی قضا سے رجوع کا اختیار ہوگا کہ طرفین سے جوڑیں کا جانابحکمِ عرف دونوں جانب کی مستقل رسم ہے،نہ ایک دوسرے کے عوض میں، ولہذا اگر ایک جا نب سے مثلاً بوجہ افلاس جوڑا نہ آئے تو بھی دوسری طرف والے بھیجتے ہیں تو عوض صریح کہ موانع رجوع سے ہے متحقق نہیں، پھر دُولہاکی جانب سےبری میں ہرگز اُس جوڑے کا خیال نہیں جودُولہا کو ملتا ہے بلکہ محض ناموری یا وہی کثرتِ جہیز کی طمع پروری، بہر حال یہ ہبہ معاوضہ سے خالی ہے تو بشرائط مذکورہ دُلہن والوں کو رجوع کا اختیار،مگر گنہگار ہوں گےاس صورت میں شوہر نے اگر یہ جوڑا واپس کردیا تو رجوع صحیح ہوگئی اور اس کی مِلک سے خارج ہوگیا لتحقق الرجوع بالتراضی۔(ملتقطاً ازفتاوٰی رضویہ،جلد:12،ص:204،205،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ہاں اگر کوئی چیزدیتے وقت صراحتاً کہہ دیا تھا کہ بطور عاریت دے رہے ہیں یا اپنی بیٹی کی ملک کر رہے ہیں ۔تو اس صورت میں لڑکا مالک نہیں ہوتا۔
4:لڑکی و الوں کی طرف سے لڑکے کی ماں کو ملنے والا سامان:جب لڑکی والوں نے لڑکے کی ماں کو زیور دے دیااور انھوں نے اس پر قبضہ کرلیا تو اب یہ زیور ان کی ملک ہوگیا۔اور ہبہ کی واپسی سے کوئی مانع نہ پایا جائےتو قاضی کی قضا یا لڑکے کی ماں کی رضا مندی سے واپس لینے کا اختیار ہے۔ لیکن واپس لینا مکروہ تحریمی یعنی ناجائز وگناہ اورشرعاًنہایت قبیح فعل ہےجیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔
فتاوی رضویہ میں ہے: اگر وہ شخص اس کا ذی رحم محرم نہیں یعنی نسب کے رو سے ان میں باہم وہ رشتہ نہیں جو ہمیشہ ہمیشہ حرمت نکاح کا موجب ہوتاہے جیسے ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی، بیٹا ، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، بھائی، بہن، بھتیجا، بھتیجی، بھانجا، بھانجی، نہ یہ واھب وموہوب لہ وقت ھبہ باہم زوج وزوجہ تھے، نہ موہوب لہ وقت ہبہ فقیر تھا، نہ اب تک موہوب لہ اس ھبہ کے عوض میں کوئی چیز یہ جتا کرواہب کود ے چکا ہے کہ یہ تیرے ہبہ کا معاوضہ ہے، نہ اس عین شیئ موہوب میں کوئی ایسی زیادت موہوب لہ کے پاس حاصل ہوئی اور اب تک باقی ہے جس سے قیمت بڑھ جائے جیسے زمین میں عمارت یا پیڑ یاکپڑے میں رنگ یا جاندار میں فربہی یاکنیز میں حُسن یا اسے کوئی صنعت یا علم آجانا تو ان سب شرائط کے ساتھ جب تک وہ شے موہوب اس موھب لہ کی ملک میں باقی وقائم اور واہب وموہوب لہ دونوں زندہ ہیں اگرچہ ھبہ کو سو برس گزر چکے ہوں واپس لینے کا اختیار ہےبایں معنی کہ یا تو موہوب لہ خود واپسی پر راضی ہوجائے یا یہ بحکم حاکم شرع واپس کرالے ورنہ آپ جبرا لے لینے کا کسی غیر حاکم شرعی کے حکم سے واپس کرانے کا اصلا اختیار نہیں یونہی اگر ان آٹھ شرطوں میں سے کوئی بھی کم ہے توواپسی کا مطلقا اختیار نہ ہوگا، پھر یہاں اختیار کا صرف اتنا حاصل کہ واپسی صحیح ہوجائے گی لیکن گناہ ہرطرح ہوگا کہ دے کر پھیرناشرعا منع ہے، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کی مثال ایسی فرمائی جیسے کتا قے کرکے چاٹ لیتاہے۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:19،ص:198،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:04 رجب المرجب 1445ھ/ 16 جنوری 2024 ء