سوال
میری شادی کو تین سال کا عرصہ بیت گیا ہےمیرے خاوند بالکل نا مرد ہیں، اسکو بانجھ پن کا مسئلہ ہے ڈاکٹرز نے کہا ہے اسکا کوئی علاج نہیں ہے یہ باپ نہیں بن سکتا اور وہ میرے ساتھ کوئی جسمانی تعلق رکھنے کے بھی قابل نہیں ہے۔اسی وجہ سے میری امی ابو بہت پریشان ہیں اور بیمار ہوگئے میرے دو بھائی ہیں کوئی بھی مجھے گھر رکھنے پر راضی نہیں ۔ اسی طرح میرا خاوند بھی مجھے رکھنا نہیں چاہتا میں کہاں جاؤں ۔ میں طلاق لے کر اپنا روزگار کرنا چاہتی ہوں کیونکہ میرا خاوند نہ رکھتا ہے نہ چھوڑتا ہے نہ خرچہ دیتا ہے ۔ اس وجہ سے میں اپنی زندگی سے تنگ ہوں میں خودکشی کرکے مرنا چاہتی ہوں لیکن اللہ سے ڈرتی ہوں۔مجھے کوئی حل بتائیں ابھی میری عمر صرف 20 سال ہے۔
سائل:حفصہ شہزاد: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سوال میں ابہام ہے کہ نامردی سے کیا مراد ہے؟ اگر صرف یہ کہ مرد ازدواجی تعلق قائم کرنے کے قابل ہے لیکن اسے اولاد نہیں ہوسکتی تو یہ نامردی نہیں ہے اورنہ اس کے اس کے سبب طلاق کا تقاضا کرنا درست ہے۔ اور اگر یہ مراد ہے کہ مرد ازدواجی تعلق قائم کرنے کا اہل ہی نہیں تو اس صورت میں حکم شرعی کی تفصیل درج ذیل ہے:
اگر مردجماع(صحبت ،ازدواجی تعلقات) پر قادر ہی نہیں ، یعنی اس میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ بیوی سے ایک بار ہی جماع کر سکے ،تو حکم شرع یہ ہے کہ عورت قاضی (عدالت، کورٹ)کے پاس جا کر دعویٰ کرے پھر قاضی شوہر سے دریافت کرے گا اگر وہ اپنے نامرد ہونے کا اقرار کرلے تو قاضی ایک سال کی مہلت دے گا کہ وہ اپنا علاج کروالے ، ایک سال علاج کرانے کے بعد اس قابل ہوگیا کہ وہ حق زوجیت ادا کرسکے تو عورت کا دعوی ساقط ہوجائے گا اور وہ اسکے نکاح میں ہی رہے گی لیکن اگر علاج کے باوجود حق زوجیت ادا نہ کرسکا اور عورت اس سے جدائی اور علیحدگی چاہتی ہے تو قاضی شوہر کو حکم دے گا کہ وہ بیوی کو طلاق دے اگر قاضی کے بولنے سے طلاق دے دے تو ٹھیک ورنہ قاضی ان دونوں کے درمیان تفریق کردے گا، اور یہ تفریق طلاق بائن ہوگی۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:(وَلَوْ وَجَدَتْهُ عِنِّينًا أُجِّلَ سَنَةً فَإِنْ وَطِئَ) مَرَّةً فَبِهَا (وَإِلَّا بَانَتْ بِالتَّفْرِيقِ) مِنْ الْقَاضِي إنْ أَبَى طَلَاقَهَا (بِطَلَبِهَا) ترجمہ:اور اگر عورت شوہر کو نامرد پائے تو اسکو ایک سال کی مہلت دی جائے گی پھر اگر ایک سال کی مدت میں جماع پر قادر ہوگیا تو ٹھیک ورنہ (عورت کے تقاضائے طلاق کی وجہ سے طلاق دلوائی جائے گی) اگروہ طلاق دینے سے انکار کردے تو قاضی تفریق کردے گا۔
اسی میں ہے :أَمَّا الطَّلَاقُ فَجَبٌّ عُنَّةٌ وَكَذَا۔ترجمہ: بہرحال مجبوب اور عنین (یعنی نامرد ہونے کی وجہ سے قاضی کی تفریق سے ) طلاق (بائن)واقع ہوتی ہے۔
خاوند خرچہ نہ دے تو حکم:
ہمارے ہاں بعض اوقات خاوند بیوی کو نان و نفقہ اور دیگر حقوقِ زوجیت سے محروم کردیتا ہے، نہ طلاق دیتا ہے اور نہ ہی ساتھ رکھتا (جیساکہ صورت مسئولہ میں ہے ) ہمارے معاشرے میں ایسی عورتیں اولاً تو عدالتوں میں خلع کے لئے رجوع کرتی ہیں مگر جب انہیں معلوم ہوتا کہ کہ وہاں خلع کے شرعی تقاضے پورے نہیں کئے جارہے تو مجبوراً دارالافتاء کا سہارا لیتی ہیں کہ اسے اس مصیبت سے رہائی کی کوئی تدبیر بتائی جائے۔
ایسے شوہر یقیناً بے رحم ، سفاک اور ظالم ہوتے ہیں جو ایک عورت کی زندگی سے گھناؤنا کھلواڑ کرتے ہیں ، ایسی عورتوں کے بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ تو عدالت اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے اس نکاح کو فسخ کردے اگر عدالت نکاح ختم نہ کرے تو حرجِ عظیم اور ضررِ شدید کے ازالہ کے لئے شہر کا سب سے بڑا مفتی (اعلم علماء بلد) اس نکاح کو فسخ کردے۔ اور عدت کے بعد عورت کہیں اور جہاں چاہے نکاح کرلے۔
چناچہ مجلس شرعی کے فیصلوں میں ہے: شوہر غربت و افلاس کا شکار نہیں مگر پھر بھی عورت کو نفقہ سے محروم رکھتا ہے ، اسکی چار صورتیں ہیں:
3: شوہر غائب کو مگر غیبتِ منقطعہ نہ ہو یعنی معلوم ہے کہ شوہر فلاں جگہ رہتا ہے مگر آتا نہیں ، اور نہ ہی کسی طرح اس سے نفقہ حاصل ہوپارہا ہے۔
4: شوہر موجود ہے مگر اس نے بیوی کو معلقہ بنایا ہوا ہے نہ طلاق دے کر اسے آزاد کرتا ہے اور نہ ہی اس کے حقوق (نان و نفقہ وغیرہ) ادا کرتا ہے۔
ظاہر ہے ان صورتوں میں عورت جہاں نان و نفقہ سے محروم ہے وہیں حقوقِ زوجیت سے بھی محروم ہے جس کے باعث اس زمانہ میں اکثر یا کثیرعورتوں کے مبتلائے گناہ ہونے کا عظیم خطرہ درپیش ہے یہ خود ایک سخت ضرر اور حرج ہے۔ اسکے حل کی بتدریج تین صورتیں ہیں :
1: شوہر کا معاشرتی بائیکاٹ کیا جائے اور اس میں کچھ بھی ڈھیل نہ رکھی جائے ۔ اس تعزیر کے ذریعے سوائے سرکش و بے توفیق شوہر کے ہر وہ انسان اصلاح پذیر ہوسکتا ہے جس کا ضمیر کچھ بھی زندہ ہواور اس میں تھوڑی بہت بھی دینی و اسلامی حمیت وغیرت ہو۔
2: لیکن اگر وہ سخت دل اور مردہ ضمیر و نے توفیق ہی نکلا اور سرکشی سے باز نہ آیا تو عورت کو صبر و شکر اور راضی برضائے الٰہی رہنے نیز روزے رکھنے اور اس پر مضبوطی سے قائم رہنے کی ہدایت کی جائے۔
3: لیکن اگر عورت اس کے باوجود عدمِ صبر کی شکایت کرے اور اسکی عمر ، حالت اور عادت اس کی شاہد ہو تو اب ضرورتِ شرعی متحقق ہو چکی ، اس مرحلے پر قاضی کو فسخِ نکاح کی اجازت ہے۔ (مجلس شرعی کے فیصلے ص 234 تا 236)
اسی میں ایک مقام پر ہے:مذہب حنفی میں نفقہ سے محرومی کی وجہ سے اسکا نکاح ختم کرنے کی اجازت نہیں ہے ، لہذا بغیر شوہر کی موت یا طلاق کےمیاں بیوی کے درمیان تفریق نہیں ہو سکتی۔ فقیہ بے مثال اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ والرضوان کا فتوٰی بھی یہی ہے چناچہ آپ ایک فتوٰی میں رقمطراز ہیں:
بے افتراق بموت یا طلاق دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی، ہمارے نزدیک، غیبت (شوہر کے غائب ہونے) خواہ عسرت (شوہر کے مفلس و تنگ دست ہونے )کے سبب ادائے نفقہ سے شوہر کا عجز یا تحصیل نفقہ سے عورت کی محرومی باعثِ تفریق نہیں۔
مگر اس کے بر خلاف ہمارے بعد کے اکابر علماء اہلِ سنت رحمھم اللہ تعالٰی نے یہ موقف اختیار فرمایا کہ نفقہ سے عجز کی دونوں صورتوں میں فسخِ نکاح و تفریق کی اجازت ہے۔
لیکن ان صورتوں میں خودکشی کا ارادہ کرنا ناجائز ہے بلکہ صبر تحمل سے کام لےیا جواب میں دی گئی صورتوں پر عمل کرے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 25 محرم الحرام 1446ھ/ 01 اگست 2024 ء