وصیت اور مکان و دوکان کا کرایہ
    تاریخ: 12 مارچ، 2026
    مشاہدات: 10
    حوالہ: 1013

    سوال

    میرے بھائی عبدالرزاق کا وصال ہوگیا ، وہ شادی شدہ نہ تھے، جس وقت انکا وصال ہوا اس وقت ورثاء میں دو بھائی (عبدالقادر، عبدالرؤف) اور ایک بہن(خاتون ) حیات تھی۔بعد ازاں بہن (خاتون)کا انتقال ہواانکے ورثاء میں شوہر(جاوید) ایک بیٹا(جنید) اور ایک بیٹی (سومیا)ہے۔ پھر ایک بھائی (عبدالرؤف)کاانتقال ہوا انکے ورثاء میں بیوی (صائمہ)موجود ہے جبکہ انکی کوئی اولاد نہیں تھی۔

    عبدالرزاق کی ملکیت میں کچھ جیولری ، فرنیچر ، پیسے تقریباً 30 لاکھ اور دوکان و مکان کی تقسیم کیسے ہوگی ۔ یاد رہے عبدالرزاق ایک بھائی عبدالرؤ ف کے ساتھ رہتے تھے ، عبدالرزاق اور عبدالرؤف کے انتقال کے بعد عبدالرزاق کی جیولری، فرنیچر ، کیش رقم سب عبدالرؤف کی بیوی یعنی عبدالرزاق کی بھابھی کے پاس ہے اور عبدالرزاق کے انتقال کے بعد سے دوکان کا کرایہ بھی وہی لے رہی ہے اسکا شرعی حکم بھی ارشاد فرمائیں کہ انکا یہ عمل کیسا؟ نیز عبدالرزاق نے وصیت کی تھی کہ میرے بعد میرا مکان اور دوکان عبدالرؤف اور انکی زوجہ کو ملے۔

    سائل:عبدالقادر : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے تو فبھا، اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر اسکے ذمے جو قرض ہے اسکی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ اگر مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس) مال کے تین حصے کیے جاتے ہیں ،ایک حصہ سے وصیت پوری کی جاتی ہے اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جاتے ہیں۔

    1:وصیت کا حکم :

    لہذا یہاں سب سے پہلے مال کے ایک تہائی سے وصیت پوری کی جائے گی، جسکی تفصیل یہ ہے کہ عبدالرزاق نے مکان و دوکان میں سے وصیت کی ہے لہذا مکان و دکان کے قیمت کے ایک تہائی(3/1) سے صرف عبدالرؤف کی زوجہ کے حق وصیت میں نافذ ہوگی، جبکہ عبدالرؤف کو وصیت سے کچھ نہیں ملے گا۔ کیونکہ بحکمِ حدیث وصیت صرف غیر وارث کے حق میں اور صرف ایک تہائی میں نافذ ہوتی ہے، کہ نبی کریم علیہ

    الصلوۃ التسلیم نے فرمایا:لاوصیۃ لوارث ۔ ترجمہ: وارث کے لئے وصیت نہیں ہے۔ (ابنِ ماجہ ، حدیث نمبر 2714)

    وصیت کے بارے میں بدائع الصنائع میں ہے:(وَمِنْهَا) أَنْ لَا يَكُونَ وَارِثُ الْمُوصِي وَقْتَ مَوْتِ الْمُوصِي، فَإِنْ كَانَ لَا تَصِحُّ الْوَصِيَّةُ لِمَا رُوِيَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ «إنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ»ترجمہ:ور موصیٰ لہ ( جس کے لیے وصیت کی جارہی ہے ) کی شرط یہ بھی ہے کہ وہ موصی(وصیت کرنے والے) کی موت کے وقت اسکا وارث نہ ہو، اگر وارث ہوگا تو اسکے حق میں وصیت صحیح نہیں ہے، کیونکہ حضرت ابو قلابہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد رمایا کہ اللہ تعالی نے ہر وارث کو اس کا مکمل حق دے دیا ہے لہذا وارث کے حق میں وصیت نہیں ہے۔(بدائع الصنائع کتاب الوصایا فصل فی شرائط رکن الوصیۃ جلد 7 ص 337)

    تنویر الابصار میں ہے :(وَتَجُوزُ بِالثُّلُثِ لِلْأَجْنَبِيِّ وَإِنْ لَمْ يُجِزْ الْوَارِثُ ذَلِكَ لَا الزِّيَادَةَ عَلَيْهِإلَّا أَنْ تُجِيزَ وَرَثَتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ)ترجمہ:اور ایک تہائی مال میں اجنبی شخص(جو وارث نہ بن رہا ہو)کے لئے وصیت جائز ہے، اگر چہ ورثاء اسکی اجازت نہ دیں ، اور ایک تہائی سے زائد کی جائز نہیں ہے مگر یہ کہ موصی(وصیت کرنے والے )کی موت کے بعد دیگر ورثاء جائز قرار دیں تو اب ثلث سے زائد میں بھی جائز ہوجائے گی۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب الوصایا جلد 6ص165)

    عالمگیری میں ہے :وَلَا تَجُوزُ الْوَصِيَّةُ لِلْوَارِثِ عِنْدَنَا إلَّا أَنْ يُجِيزَهَا الْوَرَثَةُ۔ترجمہ:اور ہمارے نزدیک وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اس وصیت کو دیگر ورثاء جائز قرار دیں تو اب وارث کے لیے بھی وصیت جائز ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری کتاب الوصایا باب فی بیان تفسیرہ جلد 6ص90)۔

    نوٹ:اس فتویٰ کی مزید تفصیل PDF کے ساتھ منسلک ہے

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:23 ربیع الاول 1445ھ/ 10 اکتوبر 2023 ء