کاروبار میں دھوکے کا حکم
    تاریخ: 11 نومبر، 2025
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 83

    سوال

    میں ایک کاروباری شخص ہوں تین سال پہلے میں نے اپنا پرنٹنگ کا کاروبار نقصان ہونے کی وجہ سے فروخت کرنے کا ارادہ کیا اور تین مشین میں نے باآسانی فروخت کردی ۔چوتھی مشین فروخت نہیں ہورہی تھی جو بھی خریدار آتا تھا 13لاکھ،14لاکھ کی آفر کرتا تھا۔میں نے اپنے ایک جاننے والے کو جو مجھ پر اندھا اعتماد کرتا تھا اور میری عزت بھی کرتا تھا اسے بیوقوف بنا کر کہ میں تم کو کام بھی دوں گااور تم کو بہت فائدہ ہوگا کہہ کر 24لاکھ میں مشین فروخت کردی ۔مشین میں ایک بڑا فالٹ بھی تھا میں نے وہ بھی اسکو نہیں بتایا ۔اس شخص کو اس مشین اور اس کاروبار کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھی ۔اس نے مجھ پر اعتماد کرکے مشین خریدی تھی ،مگر ایک ماہ بعد ہی اسکو اندازہ ہوگیا کہ اس کے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔اس نے مجھ سے بات کی مگر میں کوئی توجہ نہیں دی اب مسلسل تین سال سے نقصان میں جانے کے بعد وہ شخص مجھ سے کہہ رہا ہے کہ میرا نقصان پورا کروکیونکہ میرے ساتھ دھوکا ہوا ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ کاروباری ڈیل تھی جبکہ وہ شخص کہتا ہے کہ میرے ساتھ دھوکا ہوا ہے ۔ 14لاکھ کی مشین 24لاکھ میں مجھ کو فروخت کی گئی اور مجھےبھر پور کام بھی نہیں دیا گیا لہذا میرا نقصان پورا کرو ۔شرعی طور پر میرے لیے کیا حکم ہے، کیا آخرت میں میری پکڑ ہوگی یا میں حق پر ہوں۔

    سائل:اشرف حسین: کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں آپ نےاس شخص کو دو طرح سے دھوکادیا ہے ایک تو اس سے عیب چھپا کر اور دوسرا مارکیٹ ویلیو سے زیادہ قیمت پر چیز فروخت کر کے ،اورکسی مسلمان کو دھوکا دینا قبیح اور ناجائز عمل ہے جسے ہر صورت میں اسلام نے ناجائز وحرام قرار دیا ہے اور ایسا کرنے والوں کی شدید الفاظ میں مذمت بیان کی ہے ۔ویسے تو دھوکا زندگی کے کسی بھی معاملے میں جائز نہیں لیکن لین دین اور خریدوفروخت کے معاملے میں تنبیہ کے ساتھ اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔

    دھوکے کے بارے میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اسحٰق بغدادی حَرْبی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی لکھتے ہیں :فَالغِشُّ أَنْ یُظْہِرَ شَیْئًا وَیَخْفِیَ خِلاَفَہُ أَوْ یَقُولَ قَوْلاً ویَخْفِیَ خِلاَفَہُ .ترجمہ: دھوکا یہ ہے کہ کوئی شخص کسی چیز کو ظاہر کرے اور اس کے خلاف (یعنی حقیقت) کو چھپائے یا کوئی بات کہے اور اس کے خلاف (یعنی حقیقی بات) کو چھپائے۔(غریب الحدیث للحربی،جلد:2،ص:658)

    ترمذی شریف میں ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةٍ مِنْ طَعَامٍ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ: «يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ، مَا هَذَا؟» ، قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ» ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا»ترجمہ:سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول اللہ ﷺ ایک غلہ کے ڈھیر سے گزرے ،توآپ نے اس کے اندر اپنا ہاتھ داخل کردیا،آپ کی انگلیاں ترہوگئیں توآپ ﷺنے فرمایا:غلہ والے! یہ کیا معاملہ ہے؟اس نے عرض کیا: یارسول اللہﷺ!بارش سے بھیگ گیا ہے، آپﷺ نے فرمایا:اسے اوپرکیوں نہیں کردیاتا کہ لوگ دیکھ سکیں، پھر آپﷺ نے فرمایا: جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔(سنن الترمذی،رقم:1315)

    اس طرح کی صورت حال میں شریعت مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ مشتری کو اختیار ہے کہ عقد کو فسخ کرتے ہوئے مبیع کو واپس لوٹا کر اپنا پوراثمن واپس لے لے۔

    کتاب التعریفات میں ہے:الغبن الفاحش: هو ما لا يدخل تحت تقويم المقومين. ترجمہ:عبن فاحش یہ ہے کہ جو قیمت لگانے والوں کی قیمت کے تحت نہ آئے۔(کتاب التعریفات،جلد:1،ص:161،دارالکتب العلمیۃ ،بیروت)

    مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:إذَا غَرَّ أَحَدُ الْمُتَبَايِعَيْنِ الْآخَرَ وَتَحَقَّقَ أَنَّ فِي الْبَيْعِ غَبَنًا فَاحِشًا فَلِلْمَغْبُونِ أَنْ يَفْسَخَ الْبَيْعَ حِينَئِذٍ. ترجمہ:جب بائع ومشتری میں سے کوئی دوسرےکو دھوکا دے اور یہ ثابت ہوجائے کہ بیع میں غبن فاحش ہے تواس وقت مغبون(جس کے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے) کو بیع فسخ کرنا جائز ہے۔ (مجلۃ الاحکام العدلیۃ،جلد:1،ص:71،نور محمد کتب خانہ آرام باغ کراتشی)

    صَدْرُالشَّریعَہ بَدْرُالطَّریقَہ مفتی محمد امجد علی اَعظمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی اِرشاد فرماتے ہیں: کوئی چیز غَبنِ فاحِش کے ساتھ خریدی ہے اُس کی دو صورتیں ہیں دھوکا دیکر نقصان پُہنچایا ہے یا نہیں اگر غَبنِ فاحِش کے ساتھ دھوکا بھی ہے تو واپس کرسکتا ہے ورنہ نہیں۔ (بہارشریعت، ج2، ص691،مکتبۃالمدینہ )

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:09ربیع النور 1441 ھ/27اکتوبر 2020 ء