گھر میں بیوٹی پارلر کھولنا کیسا
    تاریخ: 11 نومبر، 2025
    مشاہدات: 8
    حوالہ: 82

    سوال

    میرا نام فاطمہ اور والدہ کا نام صدیقہ ہے میں گھر میں پارلر کھولنا چاہتی ہوں۔آپ مجھے بتائیں کہ میرا ایسا کرنا کیسا ہے نیز اس میں کون سے کام ہیں جو گناہ ہیں ۔آ بروکا تو مجھے پتا ہے اس کے علاوہ کونسے کام ہیں جو گناہ ہیں اور میں نے اس کام کے لیے بورڈ بنوایا ہے کیا میںبیوٹی پارلر کا بوڑد لگوا سکتی ہوں؟

    سائلہ:فاطمہ خرم:کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں آپ کا گھر میں بیوٹی پارلر کھولنا اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ اس میں ہر قسم کے غیر شرعی کاموں سے اجتناب کیا جائے نیز اگر بورڈ میں کوئی ذی روح کی تصویر وغیرہ نہ ہو تو بورڈ لگانا بھی جائز ہے ۔اس کام میں غیر شرعی امور کیا ہیں ذیل میں انکی تفصیل بیان کی جارہی ہے :

    1:بیوٹی پارلر میں بالغ لڑکے یا وہ بچے جو بلوغ کے قریب ہوں(12 سے 14 سال کے لڑکےوغیرہ) ،انکو سروسز فراہم نہ کی جائے ۔

    2: میک اپ میں حلال سرٹیفائیڈ پروڈکٹس کا استعمال کیا جائے۔

    3: عورتوں کے بالوں کو اتنا زیادہ نہ کاٹا جائے کہ مردوں سے مشابہت ہوالبتہ چھوٹی نابالغ بچیوں کے بالوں کو کاٹنے میں کوئی حرج نہیں لیکن بچنا بہتر ہے۔

    4:سیاہ خضاب یا سیاہ ہیرکلر بالوں میں لگانا ناجائز اور حرام ہے البتہ سیاہ رنگ کے علاوہ کا خضاب یا ہیر کلر لگانا جائز ہے۔

    5:کوہان نما جوڑا بنانا، جائزنہیں ہے جیسا کہ اس کا رواج آج کل بہت عام ہے۔

    6: عورت اپنا ستر کسی عورت کے سامنے بھی نہیں کھول سکتی لہذا ایسا کوئی کام جس کے سبب ایسا کرناپڑےاس سے بچنا چاہئے۔

    7: بھنویں بنانا بھی جائز نہیں۔

    الدرالمختار میں ہے: قَطَعَتْ شَعْرَ رَأْسِهَا أَثِمَتْ وَلُعِنَتْ۔۔۔۔وَالْمَعْنَى الْمُؤَثِّرُ التَّشَبُّهُ بِالرِّجَالِ. ترجمہ:عورت کا اپنے سر کے بال کاٹنا گناہ ہے اور ایسی عورت پر لعنت کی گئی ہےاور گناہ گار ہونے کی وجہ مردوں سے مشابہت کے سبب ہے(الدرمختار،جلد:6،ص:407،دار الفکر بیروت)

    الدرالمختارمیں ہے: اخْتَضَبَ لِأَجْلِ التَّزَيُّنِ لِلنِّسَاءِ وَالْجَوَارِي جَازَ) فِي الْأَصَحِّ وَيُكْرَهُ بِالسَّوَادِ.ترجمہ:عورتوں اور بچیوں کا زینت کے لیے(بالوں کو)خضاب لگانا(رنگنا)صحیح ترین قول کے مطابق جائز ہےلیکن سیاہ(خضاب لگانا)مکروہ ہے۔(الدرمختار،جلد:6،ص:756،دار الفکر بیروت)

    اور مکروہ کے حوالے سے اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلی لکھتے ہیں: علماء جب کراہت بولتے ہیں اس سے کراہت تحریم مراد لیتے ہیں جس کا مرتکب گناہگار ومستحق عذاب ہے والعیاذباﷲ تعالٰی۔(فتاوی رضویہ،جلد:23،ص:501،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    مسلم شریف کی حدیث ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا، قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ، وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ، رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ، لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ، وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا .ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوزخیوں کی دو قسمیں ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا۔ ایک تو وہ لوگ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہیں، وہ لوگوں کو اس سے مارتے ہیں دوسرے وہ عورتیں جو پہنتی ہیں مگر ننگی ہیں (یعنی ستر کے لائق لباس نہیں ہیں)، سیدھی راہ سے بہکانے والی، خود بہکنے والی اور ان کے سر بختی (اونٹ کی ایک قسم ہے) اونٹ کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے وہ جنت میں نہ جائیں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی ان کو نہ ملے گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی دور سے آ رہی ہو گی۔(صحیح مسلم،رقم:2128(5582)

    مسلم شریف کی حدیثٖ ہے: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ، وَلَا الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ، وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ. ترجمہ:عبدالرحمٰن بن ابی سعید خدری سے مروی ہےوہ اپنے والد ابوسعید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''ایک مرد دوسرے مرد کی ستر کی جگہ نہ دیکھے اور نہ عورت دوسری عورت کی ستر کی جگہ دیکھے اور نہ مرددوسرے مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں برہنہ سوئے اور نہ عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں برہنہ سوئے۔(صحیح مسلم،رقم:338(768)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:30ربیع الآخر 1442 ھ/16دسمبر 2020 ء