بیع استصناع کا حکم
    تاریخ: 11 نومبر، 2025
    مشاہدات: 29
    حوالہ: 87

    سوال

    بلڈرز حضرات عمارت کی تعمیر سے قبل ہی فلیٹ فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یعنی وہ کسٹمرز کو فلیٹ کے اوصاف اور کمپیوٹر کے ذریعے بنائے گئےنقشے کے ذریعے خدوخال بیان کردیتے ہیں کہ اتنے رومز کااور اس فلور پراور اس کارنر کا فلیٹ ہوگا ۔اور کسٹمر حضرات اس کی قیمت قسطوں کی صورت میں ادا کرتے ہیں پھر اگر کسی وجہ سے فلیٹ کی تعمیر میں تاخیر ہوجائے یا پھر کسٹمر قسطیں ادا نہ کرسکیں یا اس کے علاوہ کوئی بھی وجہ ہو تو پھر یہ فلیٹ پہلا کسٹمر کسی دوسرے شخص کوموجود ویلیو کے اعتبار سے فروخت کردیتا ہے اورپھر وہ شخص بقیہ قسطیں ادا کرتا ہے۔یہاں درج ذیل چند سوالات ہیں:

    1:فلیٹ ابھی موجود نہیں ہوتا اور اس کی بیع کردی جاتی ہے کیا اس طرح مبیع کی عدم موجودگی میں بیع درست ہوجاتی ہے؟

    2: اور اگر درست ہے تو پھر فلیٹ کی تعمیر مکمل ہونے سے پہلے کسٹمر آگے فروخت کرتے ہیں کیا ایسا کرنا درست ہے ؟

    سائل:محمد خرم:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:شریعت مطہرہ کی رو سے کسی معدوم چیز کی بیع ممنوع ہے تاہم عقد استصناع جائز ہے ، اس کے جواز کے لئے معقود علیہ(مبیع) کی جنس ، نوع ، صفت ، مقدار کا معلوم ہونا اور اس پر لوگوں کا تعامل ہونا شرط ہےلہذاصورتِ مستفسرہ میں اگر فلیٹ کے اوصاف ،فلور،وغیرہ کا تعین کردیا جاتا ہے تو یہ عقد استصناع کے طور پر جائز ہےکیونکہ اس طرح کے عقد پر لوگوں کا تعامل جاری ہے۔

    رد المحتار علی الدرالمختار میں ہے: للتعامل جوزنا الاستصناع مع أنه بيع المعدوم۔ترجمہ:تعامل کی وجہ سے ہم نے بیع استصناع کو جائز قرار دیا ہے باوجود ااس کے کہ یہ معدوم کی بیع ہے۔(رد المحتار علی الدرالمختار،جلد:5،ص:223،دارالفکر بیروت)

    اسی میں ہے: فهو طلب العمل منه في شيء خاص على وجه مخصوص يعلم مما يأتي، وفي البدائع من شروطه: بيان جنس المصنوع، ونوعه وقدره وصفته، وأن يكون مما فيه تعامل، وأن لا يكون مؤجلا وإلا كان سلما وعندهما المؤجل استصناع إلا إذا كان مما لا يجوز فيه الاستصناع، فينقلب سلما في قولهم جميعاترجمہ:مخصوص وجہ سے کسی خاص شے میں صانع سے کام کو طلب کرنا(بیع استصناع ہے)اس کی تفصیل آگے والی بحث سے معلوم ہوگی ۔اور بدائع میں ہے : اس کی شرائط میں سے یہ ہے کہ مصنوع کی جنس نوع قدر اور اس کی صفت بیان کرنا اور یہ کہ وہ ان چیزوں میں ہو جس میں تعامل جاری ہو اوریہ کہ وہ مؤجل نہ ہو ورنہ وہ سلم ہوگی اور صاحبین کے نزدیک مؤجل استصناع ہے مگر جب وہ ان چیزوں میں سے ہو جن میں استصناع جائز نہیں ہوتی تو وہ تمام ائمہ کے قول کے مطابق سلم میں بدل جاتی ہے (رد المحتار علی الدر المختار،جلد:5،ص:223،دارالفکر بیروت)

    نیز امام صاحب کا مذہب یہ ہےجو مفتی بہ بھی ہے کہ بیع استصناع میں مدت مقرر نہ کی جائے اگر ایک ماہ یا اس سے زائد کی مدت مقرر کی جائے تو وہ بیع سلم بن جاتی ہے اور اس میں سلم کی شرائط کو ملحوظ رکھنا ضروری ہوگا۔جبکہ صاحبین کے نزدیک ایسا نہیں ہے ان کے نزدیک جن اشیاء میں استصناع کا تعامل ہے ان میں مدت مقرر کرنے سے وہ سلم نہیں بنیں گی۔

    بدائع الصنائع میں ہے: هَذَا إذَا اسْتَصْنَعَ شَيْئًا وَلَمْ يَضْرِبْ لَهُ أَجَلًا، فَأَمَّا إذَا ضَرَبَ لَهُ أَجَلًا فَإِنَّهُ يَنْقَلِبُ سَلَمًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ فَلَا يَجُوزُ إلَّا بِشَرَائِطِ السَّلَمِ، وَلَا خِيَارَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا كَمَا فِي السَّلَمِ وَعِنْدَهُمَا هُوَ عَلَى حَالِۃاسْتِصْنَاعٌ وَذِكْرُهُ الْأَجَلَ لِلتَّعْجِيلِ، وَلَوْ ضَرَبَ الْأَجَلَ فِيمَا لَا تَعَامُلَ فِيهِ يَنْقَلِبُ سَلَمًا بِالْإِجْمَاعِ۔ترجمہ:یہ بیع استصناع ہے جب وہ کوئی چیز بنائے اور اس کے لیے مدت مقرر نہ کرے ۔پس جب اس کے لیے مدت مقرر کرے تو امام اعظم کے نزدیک وہ سلم ہوجائے گی تو یہ بیع سلم کی شرائط کے ساتھ ہی جائز ہوگی ۔اور عاقدین میں سے کسی کو اختیار نہ ہوگا جیساکہ سلم میں ہوتاہے۔اور صاحبین کے نزدیک وہ استصناع پر برقرار رہےگی اور جو اس نےمدت ذکر کی ہے وہ جلدی کے لیے ہے۔اور اگر وہ مدت مقرر کرے ان چیز وں میں جن میں بیع استصناع کا تعامل نہیں ہے تو وہ بالاجماع سلم ہوجائے گی۔ (بدائع الصنائع،جلد:5،ص:210،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    اوراجل سے مراد ایک ماہ یا اس سے زائد کی مدت ہے جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے: والمراد بالأجل ما تقدم وهو شهر فما فوقه ۔ترجمہ: اور مدت سے مراد جیساکہ پہلے گزرا وہ ایک ماہ یا اس سے زائد کی مدت ہے۔(ردالمحتار علی الدر المختار،جلد:5،ص:223،دارالفکر بیروت)

    اعلحضرت امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: کسی سے کوئی چیز اس طرح بنوانا کہ وہ اپنے پاس سے اتنی قیمت کو بنادے یہ صورت استصناع کہلاتی ہے کہ اگر اس چیز کے یوں بنوانے کا عرف جاری ہے اوراس کی قسم وصفت وحال وپیمانہ وقیمت وغیرہا کی ایسی صاف تصریح ہوگئی ہے کہ کوئی جہالت آئندہ منازعت کے قابل نہ رہے اوراس میں کوئی میعاد مہلت دینے کے لئے ذکر نہ کی گئی تو یہ عقد شرعا جائز ہوتا ہے اور اس میں بیع سلم کی شرطیں مثلا روپیہ پیشگی اس جلسہ میں دے دینا یا اس کا بازار میں موجودرہنا یا مثلی ہونا کچھ ضرور نہیں ہوتا مگر جب اس میں میعاد ایک مہینہ یا زائد کی لگادی جائے تو وہ عقد بیعنہٖ بیع سلم ہوجاتاہے اور اس وقت تمام شرائط بیع سلم کا متحقق ہونا ضروری ہوتاہے۔ اگرا یک بھی رہ گئی عقد فاسد ہوگیا۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:597،598،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اسی طرح صاحب بہارشریعت صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ بہارشریعت میں لکھتےہیں: کبھی ایسا ہوتا ہے کاریگر کو فرمایش دے کر چیز بنوائی جاتی ہے اس کو استصنا ع کہتے ہیں اگر اس میں کوئی میعاد مذکورہواور وہ ایک ماہ سے کم کی نہ ہو تو وہ سلم ہے۔ تمام وہ شرائط جو بیع سلم میں مذکور ہوئے اُن کی مراعات کی جائے یہاں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اس کے بنوانے کا چلن اور رواج مسلمانوں میں ہے یا نہیں بلکہ صرف یہ دیکھیں گے کہ اس میں سلم جائز ہے یا نہیں اگر مدت ہی نہ ہویا ایک ماہ سے کم کی مدت ہو تو استصناع ہے اور اس کے جواز کے لیے تعامل ضروری ہے۔(بہارشریعت ،جلد:2،حصہ:11،ص:807،808،مکتبۃ المدینہ کراتشی)

    لیکن مہنگائی کے اس دور میں دیکھا جائے تو لوگوں کےلیے یک مشت سرمایہ لگا کر فلیٹ بنانا اور مڈل کلاس لوگوں کا یک مشت اس کی ادائیگی کرنا ایک مشکل امر ہے پس یہ معاملہ شروع ہوا کہ فلیٹ کے نقشے وغیرہ بنا کر اس کی بکنگ شروع کی جائے اور جتنی رقم آتی جائے اس سے تعمیرات کی جائے اس طرحبلڈرز کے لیے تعمیرات کرنا اور کسٹمرز کے لیے فلیٹ خریدنا دونوں آسان ہوجاتا ہے۔لہذفی زمانہ اس باب میں حاجت شرعیہ کے تحقق کی وجہ سے مستند و معتمد اہل افتاء نے مذہبِ امام اعظم سےعدول کرتے ہوئے صاحبین کے قول کو اختیار کیا تاکہ عوام الناس (جوکہ ابتلاء کی حد تک اس میں ملوث ہے )کے لیے آسانی پیداہو۔

    چناچہ فقہ کا اصول ہے : الضرورات تبیح المحظورات ترجمہ:ضرورات محظورات کو جائز کردیتی ہیں ۔(الاشباہ والنظائرلابن نجیم،صفحہ:73،دارالکتب العلمیۃ،بیروت)

    اورجیسا کہ مجلس ِشرعی کے 11 سیمینار میں فلیٹ کی خرید و فروخت کے جدید طریقے اور ان کے احکام کے حوالے سے درج ذیل الفاظ کے ساتھ فیصلہ دیا گیا:مذہب امام اعظم جو ماخوذ ومفتی بہ ہے اس کی رو سے اس وقت بیع استصنا ع نہیں ہوسکتی جب کہ ایک ماہ یا زیادہ دنوں کی مدت بیع میں مذکور ہو ۔لیکن صاحبین کا مذہب یہ ہے کہ تعامل کی صورت میں ذکرِ مدت کے ساتھ بھی استصناع جائز ہے اور مدت کا ذکر تعجیل پر محمول ہوگا۔اب یہ دیکھا جاتا ہے کہ شہروں میں مکان بہت گراں قیمت ہوتے ہیں ،بیک وقت ان کی مکمل تعمیر میں کثیرسرمایہ لگانا اور کثیر سرمایہ دے کر خریدنا دونوں مشکل ہے ،اس لیے یہ رواج ہوا کہ کچھ لوگ فلیٹوں کا نقشہ بنا کر بکنگ شروع کردیتے ہیں اور خریدنے والے بھی قسطوں پر خریداری شروع کردیتے ہیں ،انھیں اگر تکمیل عمارت کے بعد یک مشت خریداری کا پابند کیا جائے تو سخت دشواری میں مبتلا ہوں گے۔اولاً :ان کے پاس بیک وقت اتنا سرمایہ جمع ہونا مشکل ہوگا۔ ثانیاً جب قسط وار خریدنے والے فلیٹ کا ہر حصہ خرید چکے ہوں گے تو یک مشت سرمایہ دے کر بھی بلڈروں سے ان کو مکان نہ مل سکے گا ۔جب کہ مکان کی ضرورت ہر شخص کو ہے۔الحاصل ان حالات میں ان کے لیے مذہب امام اعظم سے عدول کے لیے حاجت شرعیہ متحقق ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ بہت سے شہروں میں اس طریقۂ خریدو فروخت پر عوام وخواض کا عمل درآمد ہے۔ایسی صورت میں صاحبین کے نزدیک ایک ماہ یا زیادہ مدت ذکر ہونے کے باوجود استصناع جائز ہے اور قول صاحبین بھی باقوت ہے ،اس لیے اس صورت کو استصناع کے دائرے میں رکھتے ہوئے قول صاحبین پر جائز ہونے کا حکم دیا جاتا ہے۔(مجلس شرعیجامعہ اشرفیہ مبارکپور،جلد:1،ص:507،508)

    2: یہ بات واضح ہوچکی کہ بلڈر اور پہلے کسٹمر کے درمیان ہونے والا عقد بیع استصناع ہے ۔لیکن جب پہلا کسٹمر تعمیرات مکمل ہونے سے قبل اس فلیٹ کو دوسرے شخص کے ہاتھوں فروخت کردیتا ہے تو یہ نہ بیع مطلق ہے نہ بیع سلم ہے اور نہ ہی بیع استصناع ہے۔بلکہ یہ نزول عن الحق بالعوض ہے یعنی عوض لے کراپنے حق سے دستبردار ہوجانا اوریہاں پہلے خریدار کو جو حق بیع استصناع سے حاصل ہوا تھا یہ دوسرے سے عوض لے کر اپنے حق ملک سے دست بردار ہوجاتا ہےاور دوسرا اس کی جگہ آجاتا ہے اور ضمناً ایک جدید بیع استصناع کا انعقاد ہوجاتا ہے۔اور مال لے کر حق سے دست برداریمیں صرف اتنا ضروری ہوتاہے کہ حق ثابتومتقرر ہو جیسے حق قصاص ،حق دیت،حق وظائف وغیرہ ۔حق شفعہ وغیرہ کی طرح حق مجرد نہ ہو۔اور یہاں بھی بیع استصناع کے ذریعےجو حق ملک حاصل ہوتا ہےوہ ثابت و متقررہے۔

    بیع مطلق اس لیے نہیں کہ اس وقت فلیٹ موجود نہیں جبکہ بیع کے درست ہونے کے لیے مبیع کا موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔چناچہ ردالمحتار میں ہے: من شرط المعقود عليه: أن يكون موجودا۔ترجمہ:معقود علیہ (جس چیز کا عقد کیا گیا ہو) شرط سے ہے کہ وہ موجود ہے۔(ردالمحتار علی الدر المختار ،جلد :5،ص:58،دارالفکر بیروت)

    اور بیع سلم اس لیے نہیں کہ بیع سلم کی شرائط میں سے یہ ہے کہ راس المال کی مکمل ادائیگی مجلس عقد ہی میں ہو جبکہ یہاں ثمن کی ادائیگی قسطوں کی صورت میں کی جاتی ہےچناچہ درمختار میں ہے: بقي من الشروط (قبض رأس المال) ولو عينا (قبل الافتراق) بأبدانهما ترجمہ:سلم کی بقیہ شرط یہ ہے کہ راس المال پر قبضہ کرنا عاقدین کے جد ا ہونے سے پہلے ہو اگرچہ عین ہو۔(رد المحتار علی الدر المختار،جلد:5،ص:216،دارالفکر بیروت)

    اور بیع استصناع اس لیے نہیں کیونکہ دوسرا شخص پہلے کسٹمر سے استصناع کا عقد نہیں کرتا کیونکہ پہلا کسٹمر نہ فلیٹ کا کاریگر ہے اور نہ ہی اس سے فلیٹ بنانے اور بنوانے کا کوئی معاہدہ ہوتا ہے ۔لہذا اس معدوم فلیٹ کی بیع ثانی پر استصناع بالکل صادق نہیں ۔کیونکہ استصناع وہ بیع ہے جس میں کسی کاری گر سے کوئی فرمائشی سامان بنوانے کا معاہدہ ہو جیسا کہ اس کی تفصیل اوپر گزر چکی۔

    اورحق دو طرح کے ہوتے ہیں جیسا کہ ردالمحتار علی الدر المختار میں علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃفرماتےہیں : حاصله: أن ثبوت حق الشفعة للشفيع، وحق القسم للزوجة وكذا حق الخيار في النكاح للمخيرة إنما هو لدفع الضرر عن الشفيع والمرأة، وما ثبت لذلك لا يصح الصلح عنه؛ لأن صاحب الحق لما رضي علم أنه لا يتضرر بذلك فلا يستحق شيئا أما حق الموصى له بالخدمة، فليس كذلك بل ثبت له على وجه البر والصلة فيكون ثابتا له أصالة فيصح الصلح عنه إذا نزل عنه لغيره، ومثله ما مر عن الأشباه من حق القصاص والنكاح والرق وحيث صح الاعتياض عنه؛ لأنه ثابت لصاحبه أصالة لا على وجه رفع الضرر عن صاحبه۔ ترجمہ:فقہاء کرام کی بحث کا حاصل کلام یہ ہے کہ شفیع کے لیے حق شفعہ اور زوجہ کے لیے باری کا حق اور نکاح میں مخیرہ کے لیے اختیار کا حق ،محض شفیع اور عورت سے ضرر دور کرنے کے لیے ہے ، اور جو حق اس لیے ثابت ہو تو اس کے بدلےعوض لینا جائز نہیں ،کیونکہ جب صاحب اپنے حق سے دستبردار ہوگیا تو معلوم ہوا کہ اسے کوئی ضرر نہیں تھا لہذا وہ کسی چیز کا مستحق نہیں۔لیکن اگر کسی شخص نے اپنے غلام کے بارے میں یہ وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد میرا یہ غلام فلاں شخص کی خدمت کرے گا تو اب اس کا یہ حق اس سے دفع ِضرر کے لیے نہیں ہے بلکہ حسنِ سلوک اور بھلائی کے طور پر ثابت ہے لہذا یہ حق اس کے لیے اصالۃ ثابت ہے ۔اس شخص کا اپنے اس حق کے بدلے عوض لے کر دستبردار ہوجانا جائز ہےاور اسی کی مثل ہے وہ جو الاشباہ و النظائر کے حوالے سے گزرا قصاص ،نکاح اور غلام پر ملکیت کا حق وغیرہ میں سے کہ ان کا عوض لینا (اور اس حق سے دستبردار ہونا)جائز ہے ،کیونکہ یہ صاحب حق کے لیے اصالۃً ثابت ہیں،نہ کہ صاحب ِحق سے دفع کے لیے ثابت ہیں۔(ردالمحتار علی الدر المختار،جلد:4،صفحہ:520،دارالفکر بیروت)

    حقوق کی بیع کے متعلق اعلحضرت امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: اب یہ کلام مسئلہ اعتیاض عن الوظائف کے طرف مجر ہوگا وہاں ہر چند علماء کواختلاف ہےاوریہ مبحث معرکۃ الآراء ہے مگر مرضی جماہیر فحول ونحاریر عدول صحت وقبول ہے اور وہی ہنگام اعتبار وملاحظہ نظائر ان شاء اﷲ تعالٰی اظہر، اگرچہ دوسرا پلہ بھی بہت ثقیل وگراں ہے،

    فی الدالمختار من الاشباہ المذہب عدم اعتبار العرف الخاص لکن افتٰی کثیر باعتبارہ وعلیہ فیفتی بجواز النزول من الوظائف بمال الخ قال العلامۃ السید احمد الطحطاوی فی حاشیتہ وقد تعارف ذٰلک الفقہاء عرفا قدیما رضیہ العلماء والحکام الی ان قال عن ابی السعود عن السید احمد الحموی من بعض الفضلاء عن العلامۃ بدرالدین العینی ان النزول عن الوضائف صحیح قیاسا علی ترک المرأۃ قسمہا لصاحبتہا لان کل منہما مجرد اسقاط لخ۔ترجمہ:درمختار میں بحوالہ اشباہ مذکور ہے کہ مذہب کہ عرف خاص کے عدم اعتبار کا ہے لیکن کثیر علماء نے اس کے اعتبار کرنے کا فتوٰی دیا اسی بنیاد پر مال کے بدلے وظائف سے دستبرداری کے جواز کا فتوٰی دیا گیا الخ علامہ سید احمد طحطاوی نے اپنے حاشیہ میں کہا کہ فقہاء نے اس کو عرف قدیم سمجھا اور علماء وحکام نے اس کو پسند کیا یہاں تک کہ علامہ طحطاوی نے کہا کہ ابوسعود نے بعض فضلاء کا قول بحوالہ علامہ بدرالدین عینی سید احمد حموی سے نقل کیا کہ وظائف سے دستبرداری صحیح ہے قیاس کرتے ہوئے عورت کے اپنی باری اپنی سوکن کے لئے چھوڑ دینے پر، کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک محض اسقاط ہے، الخ

    علامہ سید احمد حموی غمز عیون البصائر میں علامہ نورالدین علی مقدسی سے بعض فروع مبسوط سرخسی پر اس مسئلہ کا اعتبار اور صحت کا استظہار نقل کرکے فرماتے ہیں : فلیحفظ فانہ نفیس جدا (اس کو یادرکھنا چاہئے کیونکہ یہ بہت عمدہہے۔)

    خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی ردالمحتار میں کلام علامہ بیری شارح اشباہ سے اس کی تائید نقل اور حقوق موصی لہ بالخدمہ وقصاص ونکاح ورق کا حقوق شفعہ وقسم زوجہ وخیار مخیرہ فی النکاح سے بدیں وجہ کہ صور اولٰی میں حق اصالۃ ثابت ہے تو ان سے اعتیاض جائز بخلاف اخیرہ کے کہ وہاں ثبوت حق صرف بربنائے ضرر ہے جب صاحب حق اعتیاض پر راضی ہو ا معلوم ہوا مستضررنہ تھا راسا حق باطل ہوا یہ عوض کیسا فرق بیان کرکے فرماتے ہیں:ولایخفی ان صاحب الوظیفۃ ثبت لہ الحق فیہ بتقریر القاضی علی وجہ الاصالۃ لاعلی رفع الضرر (ینقل الی ماقال) و ان کان الاظہر فیہا ماقلنا ۔ترجمہ:اورمخفی نہ ر ہے کہ بیشک صاحب وظیفہ کے لئے حق قاضی کی تقریر سے بطور اصل ثابت ہوانہ کہ رفع ضرر کے طورپر (نقل کرتے ہوئے یہاں تک کہا) اگرچہ اس میں زیادہ ظاہر وہیہے جوہم نے کہا۔ (فتاوی رضویہ ،جلد:17،ص:110،111،112،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اسی طرح مجلس شرعی کے سترھواں فقہی سیمینار میں مجوزہ بیع کی سلسلسہ وار بیع کے متعلق ابحاث کرنے کے بعدلکھا ہے:اس تفصیل کی روشنی میں دوسری بیع کی شرعی حیثیت ہوئی ۔نزول عن الحق یعنی اپنے حق سے بامعاوضہ دست بردار ہوکر دوسرے کو اپنا قائم مقام بنانا۔اس دست برداری کے ذریعہ جب بلڈر یعنی صانع کی اجازت ورضا کے ساتھ دوسرا شخص پہلے کے قائم مقام ہوجاتا ہے اور پہلے کی جگہ اس کو مجوزہ فلیٹ پر حق ملک حاصل ہوجاتا ہے تو اس عمل کےضمن میں بلڈر اور دوسرے شخص کے درمیاں عقد استصناع متحقق ہوجاتا ہے ۔اس طرح تیسرے ،چوتھے سارے خریدار بار ی باری پہلے خریدار کی جگہ آ کر مستصنع ہوتے جائیں گے اور ہر بار نزول عن الحق کے ضمن میں نیا عقدِ استصناع وجود پذیر ہوتا رہے گا۔فقہاء فرماتے ہیں: وکم من شیئ یثبت ضمناً ولایثبت قصداً(یعنی کتنی ہی ایسی چیزیں ہیں جو ضمناً ثابت ہوتی ہیں قصداً ثابت نہیں ہوتیں)واللہ تعالی اعلم (مجلس شرعیجامعہ اشرفیہ مبارکپور،جلد:1،ص:86)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:24ربیع الاوّل 1444ھ/21اکتوبر2022 ء