مرچَنۡٹ مشین کے ذریعے اضافی منافع لینے کا شرعی حکم
    تاریخ: 11 نومبر، 2025
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 81

    سوال

    مرچنٹ مشین دکان پر لگا کے کمپنی کے ریٹ سے زیادہ پروفیٹ لینا کیسا؟ جیسے کمپنی 1.8 چارج کرتی ہے دکان والا 2.5 چارج کرے تو کیا یہ جائز ہو گا؟

    سائل:محمدراشد :کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مستفسرہ میں دوکاندار کا کسٹمر سے کمپنی کے چارجز کے علاوہ اضافی رقم لینا درست نہیں۔

    یہاں مسئلے کی درج ذیل دو صورتیں ممکن ہیں اور دونوں ہی ناجائز ہیں:

    پہلی یہ کہ جب کسٹمر دوکاندار سے اشیاء و خدمات حاصل کرچکا تو اب اس کا عوض کسٹمر پر دین ہوتا ہےجس کی ادائیگی کبھی تو کسٹمر کیش کی صورت میں کرتا ہے اور کبھی اس مشین کے ذریعے کر تاہے ۔ اب اگر دوکاندار مشین کے ذریعے ہونے والی ادائیگی پر کمپنی کے سروس چارجز کے علاوہ رقم کا مطالبہ کرے گا تو یہ دین پر نفع حاصل کرے گااور یہ زیادتی عوض سے خالی بھی ہے کیونکہ اس مشین کے رکھنے پر دوکاندار کو کوئی اخراجات برداشت نہیں کرنے پڑتے بلکہ اس سے حاصل ہونے والی رقم نفع ہی ہوگی ۔ اور ہر وہ دین جو نفع کھینچ لائے وہ سود ہوتاہے۔اور سود ناجائز حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

    اور دوسری یہ کہ اگر دوکاندار کسٹمر کو پہلے ہی مطلع کردے کہ میں اتنا فیصد زائد لوں گا تو یہ دین پر نفع تو نہیں ہوگا لیکن چونکہ اس میں کمپنی کے ساتھ کیے ہوئے معاہدہ (کمپنی کے چازجز کے علاوہ دوکاندار کوئی اضافی چارجز وصول نہیں کرے گا)کی خلاف ورزی ہےاور معاہدہ کی خلاف ورزی سخت مذموم عمل ہے ۔اس لیے یہ صورت بھی جائز نہیں ۔

    بخاری شریف کی حدیث ہے:سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے آپ فرماتےہیں ،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ۔

    مسندالحارث میں ہے:حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبًا ترجمہ:ہر وہ قرض جو نفع کو کھینچ لائے وہ سود ہے(مسندالحارث،رقم:437)

    سنن ابن ماجہ میں ہے:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُوكِلَهُ، وَشَاهِدِيهِ، وَكَاتِبَهُ .ترجمہ:سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے بے شک رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:سود کھانے والےاورکھلانے والےاورگواہوں پر اور اسکے لکھنے والے پر لعنت ہے۔(سنن ابن ماجہ،رقم:2227)

    مسند امام احمد بن حنبل میں ہے:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ غَسِيلِ الْمَلَائِكَةِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دِرْهَمٌ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ، أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً. ترجمہ :سیدنا عبداللہ بن حنظلہ (غسیل الملائکہ )سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:سود کا ایک درہم جان بوجھ کر کھانا اللہ عزوجل کے نزدیک چھتیس بار زنا کرنے سے زیادہ سخت ہے۔(مسند امام احمدبن حنبل،رقم:21957)

    اسی طرح فتاوٰی رضویہ میں امام اہلسنت مجدددین وملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال کیا گیا: کہ سود کیا چیز ہے اور کس کس صور ت میں سود ہوجاتا ہے؟اس کے جواب میں آپ ارشاد فرماتے ہیں: وہ زیادت کہ عوض سے خالی ہو اور معاہدہ میں اس کا استحقاق قرار پایا ہو سود ہے۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:17،ص:326،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:05صفر المظفر 1444 ھ/02استمبر2 202