ٹریول ایجنسی سے جہاز کی ٹکٹ خرید کرکمیشن رکھ کر کسی کو بیچنا کیسا
    تاریخ: 11 نومبر، 2025
    مشاہدات: 10
    حوالہ: 84

    سوال

    ایک شخص ہے جس سے لوگ ہوائی جہاز کی ٹکٹس لیتے ہیں،اور یہ شخص ٹریول اِیجنسی سے ٹکٹ لیتاہےاور کمیشن رکھ کرآگےکسٹمر کو ٹکٹ دیتا ہے اور یہ سارا معاملہ آن لائن نیٹ کے ذریعے سے کیاجاتا ہے، اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ مثلاً زید بروکر ہے ا س کے پاس عمر کی کال آئی کہ مجھے کراچی سے لاہور کی ٹکٹ درکارہے زید، ایجنسی کو کال کرتا ہے، ایجنسی کہتی ہے کہ یہ ٹکٹ 20ہزار روپے میں آپ کو ملےگا، آپ 500 اوپر رکھ کر آگے دےدو، زید نے عمر کو 20500 روپے ٹکٹ کی قیمت بتائی ،عمر نے کہا اوکے ہے،زید نے ایجنسی کو کہا کہ ٹکٹ بناکر مجھے پی ڈی ایف بھیجیں ۔ایجنسی نے ٹکٹ پی ڈی ایف بنائی اور زید کو بھیج دی، اب یہ ٹکٹ کنفرم ہو گئی اس ٹکٹ کو اب کوئی اور نہیں خرید سکتا ،زید نے پی ڈی ایف عمر کو بھیجی، عمر نے پیسے بھیجے، زید نے پانچ سو روپے اپنے پاس رکھ کرآگے ایجنسی کو20ہزار بھیج دیئے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ 500 روپےجو کہ بروکر کو ملیں ہیں یہ کمیشن خریدارسے لیاجاتاہے اور خریدارکوکمیشن کا علم تو ہے لیکن یہ نہیں پتا کہ 500 روپے لیے جائیں گے یا اس سے زیادہ صرف خریدار کو اتنا معلوم ہے کہ مجھے ٹکٹ 20500روپے میں ملا ہے ،تو کیا بروکر کو یہ پیسے لینا جائز ہے۔اوراگر یہ 500 روپے ایجنسی اپنی طرف سے دیتی ہے تو اب یہ لینا کیسا ہے؟

    سائل:خرم عطاری :کراچی



    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مستفسرہ میں بروکر کا کسٹمر سے کمیشن لینا جائز ہے۔لیکن یہ کمیشن لینا عرف کے مطابق ہو اس میں کسی قسم کا دھوکا نہ دیا جائے۔

    مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ بروکر ،کمیشن ایجنٹ اور دلال یہ سب الفاظ مترادف ہیں اور ان تمام سے مراد ایسا شخص ہے کہ جو عاقدین کے درمیان عقد کروانے کے لیے کوشش کرے۔اورعقد ہوجانے کی صورت میں اپنی کوشش کا معاوضہ حاصل کرے۔اب اگر اسکی کوشش بائع کے لیے ہو تو صرف بائع سے بروکری لینے کا مستحق ہوگا۔اور اگر خریدار کے لیے ہو تو بروکری لینے کا مستحق خریدار سےہوگا۔اور اگر دونوں کے لیےسعی کی ہو تو عرف کے مطابق دونوں سے بروکری لینے کا مستحق ہوگا۔ اور بروکری بھی صرف اتنی لے سکتا ہے جتنی مارکیٹ میں اس کام پر بروکری دی جاتی ہو ۔

    مجمع الضمانات میں ہے: وَلَوْ سَعَى الدَّلَّالُ بَيْنَهُمَا وَبَاعَ الْمَالِكُ بِنَفْسِهِ يُعْتَبَرُ الْعُرْفُ فَتَجِبُ الدَّلَالَةُ عَلَى الْبَائِعِ أَوْ عَلَى الْمُشْتَرِي أَوْ عَلَيْهِمَا بِحَسْبِ الْعُرْفِ.ترجمہ:اوراگر بروکر بائع ومشتری دونوں کے لیے کوشش کرےاور بائع سامان خود فروخت کرےتو عرف کا اعتبار ہوگا پس عرف کے مطابق بروکری بائع یا مشتری یا دونو ں کے ذمہ ہوگی۔(مجمع الضمانات،جلد:1،ص:54،دارالکتاب الاسلامی)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:25شوال المکرم1443 ھ/27مئی2022 ء