سوال
بینک اسلامی نامی بینک سےگاڑی نکلوانا کیسا؟بینک Diminishing Musharakahنامی عقد کے ذریعے گاڑی دے رہا ہے۔اس میں کوئی شرعی قباحت تو نہیں؟
سائل:ہاروں عبد اللطیف:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ہمارے نزدیک سوال میں مذکورہ عقد کے تحت بینک سے گاڑی لینا بالمشروط جائز ہے ۔
حکم کی تفصیل یہ ہے کہ :شرکت متناقصہ(DIMINISHING MUSHARKA)شرکت کی ایک جدید صورتہے۔متناقصہ نقص سے ماخوذ ہے ، جس کا معنی ہے ٹوٹنا،کیوں کہ اس میں شریک اول (بینک) کی یونٹس ٹوٹتی (کم)ہوتی رہتی ہیں ۔
اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ:جب کسٹمربینک کے پاس گاڑی کے لیے آتا ہے تو بینک اور کسٹمر شرکت الملک کی بنیاد پر گاڑی خریدتےہیں ۔اس شراکت داری میں بینک اور کسٹمر کے تناسب مختلف ہوتے ہیں مثلاً بینک کا تناسب 70 تو کسٹمر کا 30 فیصد ہوتاہے ۔اور کبھی بینک کا 85 اور کسٹمر کا 15 فیصد ہوتا ہےاور اس کے علاوہ بھی ممکن ہیں ۔اس طرح دونوں مل کر اس گاڑی کے اپنے اپنے تناسب سے مالک ہوجاتے ہیں۔یہاں شرکت الملک کا معاملہ مکمل ہوجاتا ہے۔اب اس کےبعدبینک کسٹمر کے ساتھ اپنے حصے کو اجارے پر دینے کا عقد کرتا ہے کیونکہ بینک بھی اس گاڑی کی ملکیت میں شریک ہے تواپنی ملکیت میں تصرف کرنے پر وہ کسٹمر سے کرایہ لیتا ہے ۔ پھر اس کے بعد بینک اپنے حصے کو فروخت کرنا کا کسٹمر کے ساتھ عقد کرتا ہے اور اس کے لیےگاڑی کی قیمت کو یونٹس میں تقسیم کر دیا جاتا ہے ،اوروقت گزرنے کے ساتھ ساتھکسٹمر بینک سے اس کےحصے کے یونٹخریدتا رہتا ہے یہاں تک کہ کسٹمر مکمل گاڑی کا مالک بن جاتا ہے ۔ خریداری کے اس مرحلہ کے دوران کرایہ (rent)یونٹس کے تناسب کے لحاظ سے باہم رضامندی سے کم ہوتارہتا ہے۔الغرض اس پورے عمل(procedure) میں تین طرح کے معاہدات ہوتے ہیں:
1:۔شرکۃ المک (Joint Ownership)
2:۔اجارہ(Lease)
3:۔بیع(Sale)
تینوں ہی معاہداتاپنی اصل کے لحاظ سے شریعت مطہرہ میں جائز ہیں۔
1:۔شرکۃ المک یعنی دو یا دو زائد لوگ کسی چیز کے مالک بن جائیں خواہ یہ مالک بننا جبری طور پر ہو جیسے وراثت یا اختیاری طور پر ہو جیسے کسی چیز کو خرید کر اس کا مالک بننا ۔یہ بلکل جائز ہے ۔
فقہ حنفی کی معتمد کتاب ہدایہ میں ہے : الشرکۃ جائزۃ وھی ضربانشرکۃ املا ک و شرکۃ عقد ترجمہ: شرکت جائز ہے ،اور اس کی دو اقسام ہیں :شرکتِ املاک اور شرکتِ عقد ۔(الھدایہ،کتاب الشرکۃ ،جلد 03صفحہ05 )
در مختار میں ہے:شركة ملك، وهي أن يملك متعدد) اثنان فأكثر (عينا) أو حفظا كثوب هبه الريح في دارهما فإنهما شريكان في الحفظ قهستاني (أو دينا بإرث أو بيع أو غيرهما) بأي سبب كان جبريا أو اختياريا ولو متعاقبا۔ترجمہ:شرکۃ الملک یہ ہے کہ دو یا دو سے زائد متعدد لوگ کسی عین کے مالک بن جائیں یا یا کسی چیز کی حفاظت میں شریک ہو جائیں جیسے کوئی کپڑا کہ جسے ہوا اڑا کے ان کے گھر لے آئی تو یہ دونوں اس کی حفاظت میں شریک ہوں گے(قہستانی) ۔ یا پھر دین کے مالک بنے ہوں وراثت ،بیع یا ان دو کے علاوہ کسی اور چیزسے خواہ سببجبری ہو یا اختیاری ۔(الدر المختار علی تنویر الابصار،کتاب الشرکۃ ،جلد04، صفحہ300۔دار الفکر بیروت)
2:۔دوسرا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ بینک اپنی متعینہیونٹس کسٹمر کو جارے پر دے کر کرایہ وصول کرتا ہے ۔دو شریکوں میں سے ایک کا اپنا حصہ دوسرے شریک کو کرائے پر دینااس طرح کہ حصہ میں کسی قسم کا ابہام نہ ہو ،جائز ہے ۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: تفسد أيضا (بالشيوع إلا إذا آجر) كل نصيبه أو بعضه (من شريكه)یجوز۔ترجمہ:مشاع کا اجارہ فاسد ہے مگر جب اپنے تمام یا بعض حصص اپنے ہی شریک کودے تو جائز ہے۔(الدر المختار علی تنویر الابصار،باب الاجارہ الفاسدۃ ،جلد06، صفحہ48۔دار الفکر بیروت)
3:۔کسٹمر کابینک سےوقتا فوقتایونٹس خریدنا یہ بھی جائز ہے ۔ علامہ محقق کمال ابن ہمام علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:وانہ یجوز لہ ان یبیع نصیبۃ من شریکہ فی جمیع الصور ترجمہ:اس کےلیے اپنا حصہ اپنے شریک کو بیچناتمام صورتوں میں جائز ہے۔(فتح القدیر ،کتاب الشرکۃ،جلد 13،صفحہ 449)
ہم نے تینوں صورتوں (شرکۃ المک،اجارہ،اور بیع )کا جواز فقہ حنفی کی روشنی میں پیش کیا کہ انمیں کوئی حرج نہیں۔
تاہم مانعین کی جانب سے اس پر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگرچہ فی نفسہ تینوں صورتیں جائز ہیں لیکن ایک عقد میں دوسرے عقد کو جمع کرنا یعنی دو یا دو سے زائد عقودکو ایک سودے میں جمع کرنا "صفقۃ فی الصفقۃ یا صفقتانفی الصفقۃ "ہے جو کہ جائز نہیں ۔اسی طرح ایک معاملہ کو دوسرے پر موقوف کرنا جیسےکسٹمرکو یہ کہنا کہ اگر تم شرکۃ الملک کے بعد ہماری یونٹس اجارے پر لو گے ۔اورانہیں خریدو گےتو ہم یہ معاہدہکریں گا،ورنہ نہیں ۔تویہ بھی جائز نہیں۔اس لیے کہ یہ " عقد بشرط العقد" ہے ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں پر بظاہر یہ اعتراضات محسوس ہوتے ہیں در حقیقت نہیں۔وہ یوں کہ بینک کی practice) ( یہ نہیں ۔بلکہ بینک کسٹمر سے ہر عقد (agreement) الگ طور پر کرتا ہے،تینوں ایک ساتھ نہیں کیے جاتے۔ہاں اگر کوئی بینکتینوں معاہدات ایک ساتھ کرتا ہو تو جائز نہیں۔
عقد بشرط العقد کا جواب یہ ہےکہ شرکۃ الملک کا معاہدہ کرتے وقت اجارہ اور بیع کی شرط نہیں ذکر کی جاتی ہے۔بلکہ الگ سے کسٹمر سے ایک وعدہ لیا جاتا ہے کہ کہ وہ مرحلہ واربینک کے ساتھ(اجارہ اور بیع کی صورت میں ) تعاون کرے گا ۔ردالمحتار میں ہے : وفی جامع الفصولین ایضا لو ذکر البیع بلاشرط ثم ذکر الشرط علی وجہ العدۃ جاز البیع ترجمہ :جامع الفصولین میںہے کہ اگر بیع کا ذکر بلا شرط کیا پھر شرط کو بطور وعدہ ذکر کیا تو بیع جائز ہے۔(ردالمحتار کتاب البیوع مطلب فی الشرط الفاسد ،جلد04 صفحہ 120)
ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہےکہ : کسٹمر کا وعدہکرنا تو ٹھیک ہے لیکن ایفائےعہد پر اسے مجبور کرنا جائز نہیں جبکہ شرکتِ متناقصہ میں تو کسٹمر کو مجبور کیا جاتا ہے ؟
جواب :عام حالات میں تو ایفائے عہد پر مجبور نہیں کیا جا سکتا لیکن جہاں پر عدمِ ایفا کی وجہ سے دوسرے فریق کو نقصان و ضرر لازم آئے تو وہاں اس کی اجازت ہے،جیسا کہ بیع الوفا کہ وہاں پرایفائے عہد کو پورا کرنا ضروریہوتا ہے ۔اسی بیع الوفا میں ایفائے عہد کو پورنے کی علت کو بیانکرتے ہوئے علامہ حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :وقد تجعل المواعید لازمۃ لحاجۃ الناس ترجمہ:اور کبھی وعدوںکی تکمیل لوگوں کی ضرورت کی بنا پر لازمی قرار دی جاتی ہے ۔(الدر المختار علیتنویر الابصار ،مطلب مسائل فی المقاصۃ ،جلد05 صفحہ277،دار الفکر بیروت)
یہاںاسلامی بینکوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ یہ مالیاتی ادارے ہیں ،خیراتی ادارے نہیں ۔جن میں اس طرح کی پابندیوں کی اجازتنہ دی جائے (حالاں کہ انکی گنجائش فقہ حنفی میں موجود ہے،) تو ان اداروں کاچلنا مشکل ہو جائے گا۔
نیز یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتاہے کہ بینک شرکت متناقصہ کے عقد کے پورا ہونے تک گاڑی کا اسلامی انشورنس (تکافل ) کرواتا ہے ۔اگر گاڑی کسی ناگہانی آفت یا حادثے کا شکار ہوگئے تو تکافل کے ذریعے اس نقصان کی تلافی کی جاسکے ۔اور یہی صورتحال مروجہ انشورنس میں ہوتی ہے اور علمائے کرام انشورنس کو ناجائز قرار دیتے ہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ تکافل مروّجہ غیر اسلامی انشورنس کا ایک ایسا جائز متبادل نظام ہےجس کی بنیاد وقف پر رکھی گئی ہے،جہاں ایک وقف فنڈ بنایا جاتا ہے جس میں شرکاء ِ تکافل روپیہ وقف کرتے ہیں اور حادثہ پیش آنے کی صورت میں یہ وقف مقررہ شرعی اصول و ضوابط کےمطابق صرف ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اس وقف پول کے ڈونر ہوتے ہیں ۔ اورمروّجہ انشورنس اور تکافل میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مروجہ انشورنس ایک ایسا عقدِ معاوضہ ہے جس میں سود قمارgambling اورغرر پایا جاتا ہے جن کی بناء پر اس کو ناجائز قرار دیا گیا ہے جبکہ تکافل کے نظام میں کوئی شرعی خرابی نہیں پائی جاتی نیزتکافل کا نظام عقدِ تبرع (وقف)پر مبنی ہے اور انشورنس عقدِ تبرع نہیں ہےبلکہ عقدِ معاوضہ ہے ۔مزید معلومات کے لئے مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان صاحب کے فتاوٰی کا مجموعہ بنام تفہیم المسائل جلد 7 ص 259 تا 269 کا مطالعہ فرمائیں ۔
اسی طرح ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ جب کسٹمر بینک کو کرایہ دینے یا یونٹ کی خریداری میں رقم ادا کرنے میں تاخیر کرے تو بینک اس معاہدہ کرتے وقت کسٹمر سے کہتا ہے کہ وہ صدقہ کرنے کی نظر مانے یعنی اگر کسٹمر نے وقت پرکرایہ نہیں دیا پھر یونٹ کی رقم ادا کرنے میں تاخیر کی تو وہ اتنی اتنی رقم صدقہ کردے گا اگرچہ بینک یہ رقم اپنے استعمال میں نہیں لاتا لیکن اس طرح کسٹمر کو صدقہ کرنے کی نظر ماننے پر مجبور کرنا بھی درست نہیں ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر بینک کسٹمر پر اس طرح کی سختی نہ کرے اور یہ صدقہ کرنا لازم قرار نہ دے تو پھر آج کا دور ایسا ہے کہ لوگ اپنے اوپر لازم ہونے والی ادائیگیوں کو باآسانی ادا نہیں کرتے ۔اور جس کی رقم ہوتی ہے وہ بیچارہ فقیروں کی طرح اپنی ہی رقم مانگ رہا ہوتاہے ۔لہذا اگر بینک اس طرح صدقہ کرنےکا لزوم نہ کرے تو پھر جس کی جب مرضی آئے گی تب بینک کو رقم ادا کرے گا ۔ اس طرح بینک کا نظام مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔لہذا علمائے کرام نے الزام تصدق کا راستہ اختیار کیا تاکہ بینک کو ضرر سے بچایا جا سکے جیسا کہ حدیث مبارک میں ہے : عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَضَى أَنْ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ ترجمہ:سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ نے مروی ہے ،نبی کریمﷺ نے حکم دیا:نہ نقصان اٹھاؤ اور نہ نقصان پہنچاؤ۔ (سنن ابن ماجہ:2340)
اسی طرح فقہ کا اصول ہے:الضرر یزال:نقصان کو دور کیا جاتا ہے(الاشباہ والنظائرلابن نجیم،صفحہ:72،دارالکتب العلمیۃ،بیروت)
اور اس میں قطعاً ایسا نہیں ہے کہ بینک ہر بار تاخیر کرنے پر صدقہ کرواتا ہے بلکہ بینک یوں نظر منواتا ہےکہ اگرکسٹمر نے رقم دینے میں تاخیر کی تو بینک کے مطالبہ کرنے پرکسٹمر اتنی اتنی رقم صدقہ کرے گا ۔لہذا بینک پہلے کسٹمر کے معاملات دیکھتا ہے اور اسے مہلت بھی دیتا رہتا ہے پھر اگر کوئی اس طرح کرنے کا عادی ہوجائے تو بینک اس سے مطالبہ کرتا ہے کہ اتنی اتنی رقم صدقہ کرے ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:23رجب المرجب1443 ھ/25فروری2022 ء